چھوٹا قد مختلف امراض سے بچائو میں‌ مددگار

امریکہ میں ہونے والی تقریب کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ چھوٹے قد کے حامل افراد لمبے قد والوں‌ کی نسبت کم بیماریوں‌ کا شکار ہوتے ہیں، یہ تحقیق قد اور امراض کے درمیان تعلق تلاش کرنے کے لیے کی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی تحقیق ہے۔
امریکا کی یونیورسٹی آف کولوراڈو میں کی جانے والی اس تحقیق میں حاصل ہونے والے نتائج میں معلوم ہوا کہ قد کو کسی مخصوص بیماری کی تشخیص کے لیے بطور عامل استعمال کیا جاسکتا ہے۔کسی بھی بالغ العمر شخص کے قد کا تعین ہزاروں جینی متغیرات ماحولیاتی عوامل کے اشتراک سے کرتے ہیں۔ گزشتہ تحقیق میں صرف جینز کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی شخص کے جینیاتی سطح پر قد کا اندازہ لگانے کی کوشش کی گئی تھی جس کا 50 کے قریب بیماریوں کے ساتھ تعلق سامنے آیا تھا۔

عمران کا احتساب سے بچنے کے لئے جنرل باجوہ پر دباؤ

اس تحقیق میں یونیورسٹی آف کولوراڈو کے شری دھرن راگھون اور ان کے ساتھیوں نے 3 لاکھ 23 ہزار 793 سابق امریکی فوجیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، ان فوجیوں کو ایک تحقیقی پروگرام میں شریک کیا گیا جس میں جینز، ماحولیاتی عوامل اور بیماریوں کے درمیان تعلق کو دیکھا گیا۔
ٹیم نے 3290 جینیاتی متغیرات کا معائنہ کیا جو قد پر اثر انداز ہونے اور 1000 سے زائد کلینکل خصوصیات سے تعلق رکھنے کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ یہ چیز اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جینیاتی طور پر قد کا زیادہ ہونا آپ کے دل کی دھڑکن میں تیزی کا سبب ہوسکتا ہے اور خون کی گردش کے مسائل سامنے آسکتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button