طبی ماہرین نے ’’ٹوٹے دل‘‘ کا علاج دریافت کر لیا؟

طبی ماہرین نے دل ٹوٹنے کے بعد افسردہ اور غمگین ہونے والوں کا علاج دریافت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ نئے طریقہ علاج سے ہارٹ اٹیک ہونے کے امکانات کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔

برطانوی ماہرین کو اُمید ہے کہ نئے طریقہ علاج سے دُکھی دل والوں اور افسردگی کے شکار افراد کو ریلیف ملے گا اور اس سے دل کے امراض اور خاص طور پر ہارٹ اٹیک روکنے میں مدد ملے گی۔

برطانوی ریاست سکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ابرڈین کے مطابق اس طریقہ علاج کے نتائج جاننے کے لئے یونیورسٹی آف ابرڈین کے محققین جسمانی تھراپی کیلئے آزمائشوں کا آغاز کر رہے ہیں جس سے ٹوٹے دل کے حامل افسردہ افراد کے علاج میں مدد مل سکے گی۔

لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب کالعدم قرار دیدیا

تین سال پر محیط اس تحقیق کیلئے ایسے سکاٹش رضاکاروں کو بھرتی کیا جا رہا ہے جو ٹوٹے دل کے سنڈروم کا شکار ہیں۔ سائنسدان 3 ماہ کے بعد شرکا کے دل کے حالات کا جائزہ لیں گے۔ ٹوٹے دل کا سنڈرم ہر سال ہزاروں افراد کو متاثر کرتا ہے جن میں سے اکثریت خواتین کی ہوتی ہے۔ اس سے متاثر ہونے والوں میں سے تقریباً دو فیصد کو دل کا دورہ پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کارڈیالوجی ریسرچ فیلوز کے رکن ڈاکٹر ڈیوڈ گیمبل نے کہا ہے کہ ٹوٹے دل کا سنڈروم ایک ایسی کیفیت ہے جسے اب تک نسبتاً کم سمجھا گیا ہے لہٰذا یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اس کیفیت کے جائزے میں معالجین کی رہنمائی کے لیے اعلیٰ معیار کے ثبوتوں کی ایک مضبوط بنیاد تیار کریں۔ٍ یونیورسٹی آف ایبرڈین میں کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ اور کارڈیو ویسکولر میڈیسن کی پروفیسر ڈاکٹر ڈانا ڈاسن نے کہا کہ دل ٹوٹنا مردوں اور عورتوں کو مختلف طریقے سے متاثر کرتا ہے اور اس کے مطابق ہی اس کا علاج کیا جانا چاہئے۔ پروفیسر کے مطابق اس کیفیت پر تحقیق میں اتنا عرصہ گزارنے کے بعد اس کا معیاری علاج تیار کرنے کی جانب یہ بڑا قدم اٹھانا خوش آئند ہے اور ہم مناسب وقت پر اس کے نتائج دیکھنے کے منتظر ہیں۔

یونیورسٹی کے کلینکل ریسرچ فیلو ڈاکٹر ہلال خان نے کہا کہ ہم برسوں سے جانتے ہیں کہ دماغ اور دل کے درمیان تعلق ہے لیکن ٹوٹے دل کے سنڈروم میں اس کا کردار ایک معمہ ہے۔ ریسرچ فیلو نے بتایا کہ ہمیں پہلی بار دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کا پتا چلا ہے جو دل اور جذبات کو کنٹرول کرتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button