ڈالر کی قیمت 250 روپے سے نیچے کب آئے گی؟

پاکستانی روپیہ گزشتہ ایک ماہ سے دنیا بھر کی کرنسیوں میں سب سے بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے، معاشی ماہرین اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ آئندہ چند ماہ میں ڈالر 250 روپے سے بھی نیچے آسکتا ہے۔خیال رہے کہ 11 اکتوبر کو انٹربینک میں ڈالر کا بھاؤ 280 روپے سے بھی نیچے آگیا، انٹربینک میں امریکی ڈالر ایک روپے 1 پیسے کم ہو کر 279 روپے 50 پیسے کا ہوگیا۔ انٹربینک میں گزشتہ ایک ماہ میں ڈالر اپنی بلند ترین سطح سے 27 روپے 6 پیسے کم ہوچکا ہے۔بات کی جائے اوپن مارکیٹ کی تو انٹربینک کےبعد اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالرکا بھاؤ 280 سےنیچےآگیا، اوپن مارکیٹ میں ڈالر279 روپےکاہے، اوپن مارکیٹ میں ڈالر 1 روپیہ سستا ہوا ہے۔ڈالر کے ساتھ ساتھ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی کاروبار کا مثبت آغاز، 100 انڈیکس 125 پوائنٹس اضافے سے 48265 ہے۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ عام آدمی پر مستحکم پاکستانی کرنسی کے اثرات کیوں نہیں پڑ رہے؟ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری ظفر پراچہ نے بتایا کہ ڈالر مسلسل روپے کے مقابلے میں گرتا جا رہا ہے لیکن اس کے ثمرات عام آدمی تک نہ پہنچنے کی وجہ یہ ہے کہ ادارے اپنا کام ٹھیک سے نہیں کر رہے ہیں۔ آرمی اور اسٹیبلشمنٹ نے مل کر اس معاملے کو کنٹرول کیا ہے لیکن دیگر اداروں کو بھی سنجیدگی دکھانا ہوگی۔اس سوال کے جواب میں کہ پالیسی یہی رہی تو ڈالر کتنا گرسکتا ہے؟ظفر پراچہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی یہی پالیسی اپنائی جاتی ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ڈالر 250 روپے سے بھی نیچے آسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بہترین کارکردگی رہی اور اس کا اندازہ یہاں سے ہوتا ہے کہ انٹر مارکیٹ میں 25 جبکہ اوپن مارکیٹ میں 50 روپے تک قیمت گر چکی ہے۔ظفر پراچہ کہتے ہیں کافی عرصہ بعد ڈالر 280 روپے سے نیچے آیا ہے، بہت آگے کی پیشن گوئی اس وقت کرنا مشکل ہے کیونکہ پورے دنیا میں مہنگائی کی لہر ہے۔
معاشی ماہر شہریار بٹ کہتے ہیں کہ ہم گزشتہ ایک ماہ سے ڈالر اور اسٹاک ایکسچینج سے اچھی خبریں سن رہے ہیں اور امید ہے کہ یہ معاملہ مزید استحکام کی طرف جانے والا ہے۔شہریار بٹ کہتے ہیں کہ اوائل میں یہ گمان تھا کہ شاید یہ سب فرضی ہو سکتا ہے لیکن ایک ماہ سے مسلسل ڈالر کی قیمت میں گراوٹ مضبوط معیشت کی طرف بڑھتے قدم ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اسٹاک ایکسچینج میں بہترین منافع ہو رہا ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سرمایہ کاری آئے گی اور مزید خوشخبریاں ملتی رہیں گی۔
دوسری جانبچیئرمین سی جی ایف احسان الحق کا کہنا ہے کہ ڈالراورتوانائی کی قیمتوں میں کمی سےروئی کا بھاؤ بھی ہوا ہے، روئی کی قیمت ایک ہفتے میں 1500 روپے کم ہوئی ہے، پنجاب میں روئی 17 ہزار اور سندھ میں 16500 روپے من ہے جبکہ جنرل سیکرٹری پاکستان لارج اسٹیل پروڈیوسرز واجد بخاری کے مطابق 15روز میں فی ٹن سریہ 3لاکھ روپے سے کم ہوکر 2لاکھ 70ہزار روپے کا ہوگیا۔ ایران اور افغانستان سے اسٹیل اسمگلنگ کو کریک ڈاؤن کے ذریعے روک دیا گیا ہے، حکومت ایکسپورٹ
میں ریلیف دے تا کہ ایکسپورٹرز اسٹیل سمیت تانبا اور ایلمونیم بھی برآمد کر سکے۔
