ایاز امیر نے عمران کی تحریک کا اعلان بے تکا اور بے وقت کیوں قرار دیا؟

تحریک انصاف کے سابق رکن قومی اسمبلی اور لکھاری کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر نے عمران خان کی جانب سے اپنی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک چلانے کے اعلان کو بے وقت اور بے تکا قرار دے دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ میرے اپنے علاقے چکوال میں عمران کی آخری کال پر بمشکل 60 لوگ احتجاج کیلئیے اکٹھے ہو پائے تھے۔ عمران خان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ووٹ ڈالنا اور چیز ہے جب کہ احتجاج کرنا اور تحریک چلانا مختلف چیز ہے۔

کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ تحریک چلانے جیسے بڑے فیصلے بہت سوچ سمجھ کر اور غور وفکر کے بعد کیے جاتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے حالات کا ادراک بہت ضروری ہوتا ہے۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف میں قیادت کی افراتفری ایک تماشا بنتی جا رہی ہے۔ مانا کہ پارٹی لیڈر جیل میں ہے لیکن لیڈر جیل جاتے ہیں اور جماعتیں چلتی رہتی ہیں۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی مثالیں سب کے سامنے ہیں۔ لیڈر کی گرفتاری کے بعد کسی جماعت کا اتنا برا حال نہیں ہوا جتنا کہ پی ٹی آئی کا ہو چکا ہے۔

کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاست کا یہ اصول سمجھ لیں کہ کوئی بھی احتجاج مخصوص اداروں کی شراکت داری یا اشاروں کے بغیر کامیاب نہیں ہو پاتا۔ ایوب خان کے خلاف 1968ء کے آخر میں احتجاج کی لہر اٹھی تو تب کے کمانڈر اِنچیف جنرل یحییٰ خان نے اُن سے فاصلہ اختیار کر لیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو پر رفیع رضا کی کتاب میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ یحییٰ خان اور بھٹو کا خفیہ گٹھ جوڑ ہو چکا تھا کہ ایوب خان سے جان چھڑائی جائے۔ پاکستان میں یہی دیکھا گیا ہے کہ کوئی لیڈر بزرگی کے رتبے پر پہنچے تو اُس کے خلاف جذبات گرم ہونے لگتے ہیں۔

بھٹو کے خلاف مارچ 1977ء میں تحریک شروع ہوئی تو جوں جوں احتجاج نے زور پکڑا جنرل ضیا الحق اور اُن کے قریبی ساتھی اُن سے دوری اختیار کرنے لگے۔ حتیٰ کہ بالآخر اُن کا تختہ الٹ دیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف کے خلاف وکلا سراپا احتجاج ہوئے تو ابھرتے ہوئے احتجاج کو روکنے میں مخصوص محکموں نے کوئی خاص کردار ادا نہ کیا۔ جب مشرف نے چیف جسٹس افتخار چودھری کو مستعفی ہونے کے لیے بلایا تو میٹنگ کے اختتام پر آئی ایس آئی چیف جنرل اشفاق کیانی نے چیف جسٹس چودھری سے ہاتھ یوں ملایا جیسے ڈٹے رہنے کا اشارہ دے رہے ہوں۔ بالاخر یہی تحریک مشرف کے اقتدار کے خاتمے کا باعث بنی۔

بینظیر بھٹو 1988 میں وزیراعظم بنیں تو کیا فوج اور کیا صدر غلام اسحاق خان‘ سب انکے خلاف تھے۔ اس زمانے میں ہر دلعزیز جماعت اسلامی مخصوص محکموں کے کام آیا کرتی تھی۔ واردات یوں ہوتی کہ آبپارہ سے احتجاج شروع ہوتا اور ڈی چوک پر دھرنا دیا جاتا۔ دھواں دار تقریریں ہوتیں۔ مقصد حکومت کو یاد دلانا ہوتا کہ حکومت ہے تو اس کے گرد دائرے بھی ہیں۔ ایک وقت تھا جب نواز شریف فوج کی ڈارلنگ ہوا کرتے تھے۔ نواز شریف پنجاب تک رہے تو انکی ڈارلنگ کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔وزیر اعظم بننے کے بعد بھی وہ کافی عرصہ ڈارلنگ رہے لیکن مشرف دور میں جب ان کی فوج سے اَن بن ہو گئی تو ڈارلنگ والی بات ماضی کے جھروکوں میں گم ہو گئی۔

ایاز امیر کہتے ہیں کہ اس دوران عمران خان کی شکل میں ایک نئی ڈارلنگ افق پر اُبھر چکی تھی۔ یہ بات تو اب عام ہے کہ 2014ء کے دھرنوں کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ تھا۔ عمران خان تو یہاں پہلے سے موجود تھے اور حضرت علامہ طاہر القادری کو دھرنوں کی شان بڑھانے کے لیے لندن سے تیار کرکے لایا گیا۔ ایسے میں پاناما پیپرز سکینڈل کا بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر جے آئی ٹی بنی جس کی تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر بذریعہ سپریم کورٹ نواز شریف کی چھٹی کا اہتمام ہوا۔2018 کے الیکشن میں عمران  کو برسر اقتدار لایا گیا اور ہائبرڈ نظام ایجاد کیا گیا۔

ایاز امیر کہتے ہیں کہ ہائبرڈ نظام کی تشکیل 2018 کے الیکشن میں شروع ہو چکی تھی۔ (ن) لیگ پہلے ہی زخم خوردہ تھی۔ مقابلے میں پی ٹی آئی تھی جسے پوری طرح پیچھے سے آکسیجن مل رہی تھی۔ میں نے خود ان گناہ گار آنکھوں سے دیکھا کہ ایک مخصوص جگہ پر ایک دروازے سے ایک سیاستدان آ رہا ہے اور دوسرے سے جا رہا ہے۔ چنانچہ الیکشن 2018 میں مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے اور خان حکومت بن گئی۔ ہائبرڈ نظام تشکیل پا چکا تھا اور پوری آب وتاب سے منتخب حکومت اور فوجی قیادت اس کو چلا رہی تھی۔

کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر کا کہنا ہے کہ یہ عام سی باتیں ہیں اور ہر ذی شعور سیاسی طالب علم کو ان کا ادراک ہے۔ پی ٹی آئی والوں کو یہ باتیں کیوں سمجھ نہیں آ تیں؟ جب جنرل قمر جاوید باجوہ کی شکل میں فوج نے انکی حکومت سے ہاتھ اُٹھایا تو خطرے کی گھنٹی بجنی چاہیئے تھی اور آنے والے وقت کیلئے حفاظتی اقدامات کا سوچا جانا چاہیئے تھا۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کسی اور ڈگر پر چلنے لگی اور جن ہاتھوں نے انہیں اوپر پہنچایا تھا اُنہی کے خلاف للکارے لگنے لگے۔ وزیراعظم کے خلاف عدمِ اعتماد کے ووٹ کے بعد کچھ سنبھلنے کی ضرورت تھی۔ قومی اسمبلی سے باہر نکلنا مدبرانہ عمل نہ تھا۔ کتنے جتنوں کے بعد پرویز الٰہی کی حکومت پنجاب میں بنی تھی۔ لیکن کسی عجیب سوچ کے تحت کے پی اور پنجاب کی حکومتوں کو قربانی کی سولی پر چڑھا دیا گیا۔ سوچ شاید یہ تھی کہ فوج بے بس ہو جائے گی اور کے پی‘ پنجاب اور قومی اسمبلی کی خالی نشستوں پر انتخاب کرانے پڑیں گے۔ لیکن شاید پی ٹی آئی کی قیادت کسی خلا میں گھوم رہی تھی۔ سوچنے کا مقام تھا کہ جس فوج نے خان کو اقتدار کی سیڑھی پر چڑھایا وہ ان کے سامنے کیسے بے بس ہو جائے گی؟

بلوچستان میں دہشتگردوں کے ساتھ سیلفیاں بنانا ریاست دشمنی قرار

ایاز امیر کے مطابق اس غلط فیصلہ سازی کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ عمران خان جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں اور ان کی پارٹی انتشار کا شکار ہو چکی ہے۔ ایسے میں عمران خان کو حالات سامنے رکھ کر اگلی سیاسی حکمتِ عملی ترتیب دینی چاہیئے تھی۔ یہ بے تکے اعلانات کہ فلاں تاریخ کو ملک گیر احتجاج ہو گا، یقینا بے نتیجہ اور لاحاصل ثابت ہوں گے۔ وجہ یہ ہے کہ ووٹ ڈالنا اور چیز ہے اور سڑک پر نکل کر احتجاج کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔

Back to top button