عفت عمر ٹرانس جینڈر کی حمایت پر تنقید کی زد میں

ٹرانس جینڈر بل کی حمایت کرنے پر معروف اداکارہ عفت عمر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کی زد میں آ گئی ہیں، تاہم انہوں نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے اپنے موقف پرقائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ عفت عمر نے اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں ٹرانس جینڈر ایکٹ کی بھر پور حمایت کرتی ہوں اور اسکی مخالفت کرنے والی ایسی تمام جماعتوں سے نفرت کرتی ہوں جو اس کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہی ہیں۔

لیکن ٹرانس جینڈر بِل کی حمایت کرنے پر عفت عمر کو ٹوئٹر صارفین نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنا ڈالا، صارفین کا کہنا تھا کہ عفت جیسے لوگوں کی وجہ سے ہماری سوسائٹی برباد ہو رہی ہے، ایک صارف نے کہا کہ آپ خود کو مسلمان کہتی ہیں آپ کو ایسے گناہ کو پروموٹ کرنے کے بجائے شرم آنی چاہئے۔ تاہم سوشل میڈیا پر ایسے صارفین بھی موجود ہیں جنہوں نے عفت عمر کی حمایت کی ہے اور ان پر تنقید کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ٹرانس جینڈر بل کی مخالفت کرنے والے ہمارے معاشرے کو ضیا دور میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرانس جینڈر بل میں جنسی ہراسانی کو جرم بنایا گیا ہے، لیکن ڈس انفارمیشن ایسے پھیلائی گئی ہے جیسے سارا بل ہی غلط ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ٹرانس جینڈر بل میں خواجہ سراؤں کے ملازمت کے حق کو محفوظ اور علاج معالجے کے معاملے کو تحفظ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانس جینڈر بل میں خواجہ سراؤں سے بھیک منگوانے کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے، ہر قانون جو پاس ہوتا ہے اس میں کوئی نہ کوئی سقم ہوسکتا ہے۔ تاہم بڑی تعداد میں عوام سمیت سماجی و سیاسی شخصیات سے بل کی مخالفت کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ اسلامی شریعت سے متصادم ہے جبکہ بے شرمی اور بےحیائی پھیلانے کا باعث بھی بنے گا۔

Related Articles

Back to top button