فریال محمود نے فلم ’’وکھری‘‘ کو سابق شوہر کے نام کیوں کیا؟

اداکارہ فریال محمود نے اپنی فلم ’’وکھری‘‘ کو سابق شوہر کے نام کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ شوہر نے مجھے زندگی میں بہت سبق سکھائے، اور مجھے مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، فریال محمود نے مارچ 2022 میں اپنی شادی طلاق پر ختم ہونے کی تصدیق کی تھی، انہوں نے کرونا کی وبا کے دوران مئی 2020 میں اداکار دانیال راحیل سے خاموشی سے شادی کر لی تھی، اداکارہ جلد ہی ’’وکھری‘‘ نامی بولڈ فلم میں ایکشن میں دکھائی دیں گی، جسے پاکستان بھر میں آئندہ ماہ جنوری میں ریلیز کیے جانے کا امکان ہے، فلم کے اپنے کردار کی تصویر اور فلم ہدایت کارہ ارم پروین بلال کی جانب سے شوبز ویب سائٹ ڈیڈ لائن سے بات کرنے کی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ جلد ہی وہ بڑے پردے پر دکھائی دیں گی، اس بار پہلے سے زیادہ منجھے ہوئے کردار میں نظر آئیں گی، انہوں نے لکھا کہ جیسا کہ ان کی زندگی سے متعلق ہر کوئی جانتا ہے کہ انہوں نے کتنی مشکلات کا سامنا کیا، ان کی زندگی کیسے گزری، انہیں کس قدر سوشل میڈیا پر جسامت اور وزن سے متعلق ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا، پھر ان کی شادی اور طلاق پر بھی کس طرح ان کے خلاف باتیں کی گئیں، اداکارہ نے لکھا کہ انہیں اس قدر ٹرولنگ کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے رقیب سے ڈرامے کے بعد اپنا پرانا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہی ڈیلیٹ کر دیا تھا، انہوں نے لکھا کہ ان تمام باتوں کے باوجود وہ کبھی مایوس نہیں ہوئیں، انہوں نے خود سے اور اپنے مخلص مداحوں سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ پہلے سے بہتر ہوکر سامنے آئیں گی، فریال محمود نے اپنی پوسٹ میں خواتین کو مخاطب کرتے لکھا کہ جو خواتین گھروں سے نکل سکتی ہیں، وہ انہیں یہ درخواست کریں گی وہ سینما جاکر لازمی ’وکھری‘ دیکھیں، وہ مایوس نہیں ہوں گی، انہیں فلم میں اپنی کہانی نظر آئے گی، اداکارہ نے مداحوں کو بتایا کہ ’وکھری‘ کو پاکستان میں 5 جنوری 2024 کو ریلیز کیا جائے گا، پوسٹ کے اختتام پر لکھا کہ ان کی فلم ان کے سابق شوہر کی سالگرہ کے دن پر ریلیز ہوگی اور وہ چاہیں گی کہ وہ فلم کو اپنے سابق شوہر کے نام کریں، ذو معنی الفاظ میں لکھا کہ انہیں سابق شوہر نے بہت سبق سکھائے، انہیں اپنے لیے لڑنا سکھایا، جس وجہ سے وہ آج اپنی ذات کے لیے لڑ رہی ہیں، خیال رہے کہ وکھری فلم میں فریال محمود سوشل میڈیا اسٹار کے کردار میں نظر آئیں گی، جنہیں بولڈ انداز کی وجہ سے ٹرولنگ اور تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے۔

Related Articles

Back to top button