موبائل پورن دیکھنا ازدواجی زندگی کیسے خراب کرتا ہے؟


زندگی میں کسی بھی چیز کی زیادتی مسائل کو جنم دیتی ہے، ایسا ہی کچھ پورن دیکھنے والوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار، کچھ وقت کیلئے پورن دیکھنا ذہنی تنائو کو کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے، لیکن بہت زیادہ اور عادت کے طور پر پورن دیکھنے والے افراد جنسی مسائل سمیت مختلف نفسیاتی مسائل کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔

ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کرونا لاک ڈاؤن میں گھروں میں قید رہنے کی وجہ سے لوگوں میں فحش ویڈیوز دیکھنے کی شرح کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ فحش فلمیں بہت سے لوگوں کے لیے ’سٹریس بسٹر‘ کے طور پر کام کرتی ہیں، یعنی یہ ان میں ذہنی تناؤ کو کم کرتی ہیں۔ بعض اوقات یہ جنسی مسائل کے شکار لوگوں میں حوصلہ افزائی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تنہائی محسوس کرنے والے افراد کی جانب سے کبھی کبھار پورن دیکھنے سے ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص فحش مواد دیکھنا مسلسل جاری رکھے اور ایسا زیادہ وقت کے لیے کرے تو وہ ذہنی الجھن اور تناؤ جیسے مسائل کا شکار ہو سکتا ہے، فحش مواد کا بار بار یا ضرورت سے زیادہ دیکھنا بھی ازدواجی اور جنسی تعلقات کو خراب کر سکتا ہے۔

تحقیقی کے مطابق کچھ لوگ ہفتے میں صرف 17 سے 24 منٹ تک فحش فلمیں دیکھتے ہیں۔ اسے زیادہ خطرناک نہیں سمجھا جاتا۔ 75 فیصد سے زیادہ لوگ اس زمرے میں آتے ہیں۔ ان لوگوں کو مختصر وقت کے لیے پورن دیکھنے کی وجہ سے خاندانی یا ذہنی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ لیکن دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنہیں فحش مواد دیکھنے کی لت ہوتی ہے اور وہ بار بار دیکھتے رہتے ہیں، بتایا جاتا ہے کہ 13 فیصد لوگ اس زمرے میں آتے ہیں۔ 14 فیصد لوگ تیسرے زمرے میں آتے ہیں جو لوگ ہر ہفتے 110 منٹ تک پورنوگرافی دیکھتے ہیں۔

ایسے لوگوں کو پریشانی، غصہ، چڑچڑاپن اور تنہائی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہیں جنسی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ پورن دیکھنا یادداشت، نیند، ادراک اور ارتکاز کو متاثر کرتا ہے، اس لیے ایسے افراد کو علاج کی ضرورت ہے۔

Related Articles

Back to top button