حدیقہ کیانی نے اپنا بیٹا بلقیس ایدھی سے گود لیا تھا

ساری زندگی انسانیت کی خدمت کرنے والی بلقیس ایدھی کے دنیا سے رخصت ہونے پر جہاں پوری قوم نے دُکھ کا اظہار کیا ہے وہیں شوبز انڈسٹری بھی انکی وفات پر غمزدہ ہے۔ معروف گلوکارہ اور اداکار حدیقہ کیانی نے بھی اس غم میں شریک ہوتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے 2005 میں اپنے بیٹے ناد علی کو بلقیس ایدھی کے آشیانے سے ہی گود لیا تھا۔ تب تک ان کی پہلی طلاق ہو چکی تھی اور انہوں نےدوسرا نکاح کیا تھا مگر ان کی دوسری شادی بھی زیادہ عرصہ نہیں چل سکی تھی، حدیقہ کیانی نے جب یتیم بچے کو گود لیا تب وہ 6 ماہ سے بھی کم عمر کا تھا لیکن اب وہ 17 سال کی عمر کو پہنچ چکا ہے اور اب اس کا قد اپنی ماں سے بھی اونچا نکل چکا ہے۔

حدیقہ کیانی ماضی میں بھی بیٹے کو گود لینے کے حوالے سے متعدد بار بات کر چکی ہیں، تاہم گلوکارہ نے پہلے کبھی یہ نہیں بتایا کہ انہیں بلقیس ایدھی نے ہی بیٹا دیا تھا۔ اب معروف سماجی رہنما کی وفات کے بعد حدیقہ نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بلقیس ایدھی کی خدمات کا اعتراف کیا اور انہیں عظیم خاتون قرار دیا، حدیقہ کیانی نے سوشل میڈیا پر بیٹے نادِ علی کو گود لینے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے بلقیس ایدھی کو خراج تحسین پیش کیا۔

گلوکارہ کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر میں بلقیس ایدھی کو انہیں کم سن بچہ دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، تصاویر میں حدیقہ کیانی اور بلقیس ایدھی انتہائی خوش دکھائی دیتی ہیں اور ان کی گود میں کم سن بچہ نظر آتا ہے، حدیقہ کیانی نے تصاویر شیئر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ بلقیس ایدھی نے ہی انہیں بیٹا دیا تھا اور وہ یقین کرنے پر سماجی رہنما کی مشکور رہیں گی۔

گلوکارہ نے بلقیس ایدھی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مزید لکھا کہ اب ان جیسی اور کوئی خاتون نہیں رہی، انکا کہنا تھا کہ بلقیس ایدھی نے اپنے عظیم شوہر عبدالستار ایدھی کی طرح دنیا کو بہتر جگہ بنانے کے لیے اپنی پیٹھ پر وزن اٹھایا، حدیقہ نے بلقیس ایدھی کی مغفرت کی دعا کرتے ہوئے انہیں سب سے منفرد خاتون قرار دیا اور لکھا کہ وہ عمر بھر ان کی احسان مند رہیں گی۔

ایف آئی اے کو مطلوب حریم شاہ کا شوہر کے ہمراہ عمرہ

حدیقہ کیانی کی پوسٹ پر متعدد شوبز شخصیات سمیت مداحوں نے بھی کمنٹس کیے اور بلقیس ایدھی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا، لوگوں نے یتیم بچے کی ایک بہترین والدہ کی طرح پرورش کرنے پر حدیقہ کیانی کی تعریفیں بھی کیں۔ خیال رہے کہ بلقیس ایدھی 15 اپریل کو عارضہ قلب کے علاج کے دوران انتقال کر گئی تھیں، وہ گزشتہ چند سال سے اس بیماری میں مبتلا تھیں، بلقیس ایدھی کو 16 اپریل کو ان کی وصیت کے مطابق مشہور میوہ شاہ قبرستان میں والدہ کے قریب سپرد خاک کیا گیا۔

Related Articles

Back to top button