کیا عالیہ بھٹ ماں بننے کے بعد شوبز چھوڑنے والی ہیں؟

بالی ووڈ سٹارز عالیہ بھٹ اور رنبیر کپور نے بچے کی پیدائش کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں بارے خاموشی توڑتے ہوئے اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ وہ جلد والدین بننے والے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے رنبیر کا کہنا تھا کہ بچے کی پیدائش ہونا بہت فطری عمل ہے، یہ خدا کا تحفہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وقت بدل گیا ہے۔ عالیہ جتنی محنت سے اپنا کام کر رہی ہیں، وہ مستقبل میں بھی محنت کرتی رہیں گی، اس میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ کپور خاندان کی یہ روایت بھی رہی ہے کہ شادی کے بعد ان کے گھر کی بہوؤں کو فلموں کو خیرباد کہنا پڑتا تھا جس کی مثال ببیتا اور نیتو کپور ہیں۔ تاہم کرینہ کپور اکیلے اس رجحان کو توڑنے میں کامیاب رہیں، بالی ووڈ بے بو نے شادی کے بعد بھی کئی بڑی فلموں میں کام کیا، آج وہ دو بچوں کی ماں ہیں، اس کے باوجود وہ اپنی تقریباً تمام فلموں میں مرکزی کردار کر رہی ہیں۔
کرینہ کپور کی طرح ان کے کزن رنبیر کپور بھی نئی سوچ کے ساتھ نیا ٹرینڈ سیٹ کرنے کو تیار ہیں، ایسے میں اب وہ ایک نئی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں، اداکار رنبیر کپور کا کہنا ہے کہ وہ شادی کے بعد خاندان اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں۔
رنبیر کپور کے مطابق شادی اور بچہ پیدا ہونے کے بعد مرد تو فلموں میں مسلسل کام کرتے رہتے ہیں اور ان کی زندگی نہیں رکتی لیکن اس میں نقصان صرف اداکاراؤں کا ہوتا ہے، میں بہت خوش قسمت ہوں کہ عالیہ بھٹ میری بیوی ہیں، ہم دونوں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں، آنے والے دنوں میں ہمارا مستقبل بہت خوبصورت ہے، میں جانتا ہوں کہ عالیہ بہت محنتی انسان ہیں، اتنی کم عمر میں اتنا بڑا مقام حاصل کیا۔

شہباز شریف حکومت نے اب تک کون سی بڑی غلطیاں کی ہیں؟

انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ عالیہ اپنے کریئر کے عروج پر ہونے کے باوجود ماں بن رہی ہیں، حالانکہ عالیہ کے ذہن میں کبھی یہ نہیں آیا کہ وہ بہت مقبول ہیں، کبھی عالیہ بچے کی دیکھ بھال کریں گی تو کبھی وہ خود، ان کے مطابق وہ بچے کی دیکھ بھال کے لیے تیار ہیں، ایسا ہر گز نہیں کہ اب عالیہ ماں بن رہی ہے تو ان کے کام کی اہمیت کم ہو جائے گی، ایسا نہیں ہوگا، رنبیر کپور نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ جو قربانی میری والدہ نے دی رھی وہ میری بیوی عالیہ کو نہیں دینی پڑے گی کیونکہ آج کے ناظرین بہت سمجھدار ہیں۔
معروف فلمی نقاد اور صحافی رام چندرن سری نواسن کا بھی خیال ہے کہ وقت بدل گیا ہے، اکثر فلم کا آخری سین شادی کا ہوتا ہے، ہم اسے ’ہیپی اینڈنگ‘ کہتے ہیں، پہلے زیادہ تر لوگوں کو یہ پسند نہیں تھا کہ ان کی بیوی ایکٹنگ کرے، پہلے لوگ اس پیشے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، ایک وقت تھا جب فلم انڈسٹری اتنی پروفیشنل نہیں تھی لیکن اب وقت گزرنے کے ساتھ یہ پیشہ اور لوگوں کی سوچ دونوں بدل چکے ہیں۔
یاد رہے کہ پہلے زمانے میں نینا گپتا، ممتاز، سونالی بیندرے اور کرشمہ کپور جیسی کئی ہیروئنز کو فلموں میں واپسی کے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن آج ایسا نہیں، 90 کی دہائی کی کئی اداکاراؤں نے مرکزی کرداروں میں واپسی کی ہے، مادھوری، سونالی بیندرے، کرشمہ کپور، پوجا بھٹ، روینہ ٹنڈن اور شلپا شیٹی جیسی اداکارہ نے ان پلیٹ فارمز کی پروڈکشنز میں حال ہی میں کئی کردار ادا کیے ہیں۔ سری نواسن پہلے زمانے میں اداکارہ نرگس کو مختلف قرار دیتے ہیں جنھیں شادی کے بعد بھی اہم کرداروں اور بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کے مواقع ملے، نرگس ایسی اداکارہ تھیں جنھوں نے شادی کے بعد بھی کئی سال کام کیا، وہ راج کپور اور کئی دوسرے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کرتی رہیں، آج کی خواتین بغیر کسی خوف کے اس بارے میں کھل کر بات کر رہی ہیں جبکہ ناظرین بھی ان کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں اور اُنھیں بڑی فلموں میں دیکھنا بھی پسند کرتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ اُنھیں مرکزی کردار مل رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button