کنواری نہ ہونے کی تہمت میں کتنا سچ ہوتا ہے اور کتنا جھوٹ؟

شادی کی رات دُلہا اور دُلہن کی زندگی میں بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، زندگی کی نئی شروعات ایک طرف لیکن اس رات سے جڑی فرسودہ روایات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دُلہن کیساتھ انٹرکورس کے دوران پردہ بکارت سے خون آنا اس کے کنورے پن کی نشانی ہوتی ہے، اور اس معیار پر پورا نہ اترنے والی لڑکیاں زندگی کے شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائمن یا پردہ بکارت کنواری لڑکی کی نشانی ہرگز نہیں اور ضروری نہیں کہ ہر لڑکی میں یہ نازک جھلی موجود بھی ہو، اس فرسودہ سوچ نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بچیوں کی زندگی کو بنا کسی قصور کے برباد کے کر دیا ہے۔

تاریخی اقدام، اسلام آباد ہائیکورٹ کی لائیو سٹریمنگ کا فیصلہ

عام طور کھیل کود کرنے والی، دیہات میں مٹکہ سروں پر اٹھانے والی لڑکیاں بھی پردہ بکارت کی جھلی سے محروم ہو جاتی ہیں، لہذا اس معاملے کی نزاکت کے پیش نظر کراچی کی رہائشی ہانی واحد بلوچ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب پر اردو زبان میں شارٹ فلم بنانے والی ان کی بہن ماہین بلوچ اس حساس موضوع پر آگاہی دے رہی ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ہانی بلوچ نے کہا مجھے افسوس ہے کہ ہمارے ہاں اب بھی ایسے مرد ہیں جو شادی کی رات انٹر کورس کے بعد بلیڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے لڑکی کو ناپاک قرار دے دیتے ہیں اور ان پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ استعمال ہو چکی ہیں، بہت سی بچیاں جنہیں ہائمن سے متعلق آگاہی تک نہیں ہوتی وہ مردوں کے الزام کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ہانی بلوچ نے کنوار پن سے متعلق سماج میں موجود فرسودہ خیالات پر تحقیق کی اور پھر اس موضوع پر بلوچی زبان میں کھل کر لکھا، ہانی بلوچ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے کلچر میں بُرا سمجھے جانے کے باوجود اس موضوع پر قلم اُٹھایا اور بلوچ زبان میں پہلی بار ہائمن اور کنوار پن جسے حساس اور ممنوع موضوع پر کتاب لکھی۔

کراچی کی رہائشی 16 سالہ شبانہ نامی لڑکی بھی اس دقیانوسی خیال کا شکار بن چکی ہے، شبانہ نے بتایا کہ شادی کے فوری بعد مجھ پر تشدد بھی کیا گیا اور گھر میں ملازمہ کی طرح کام بھی کروایا گیا، اس نے کہا کہ 16 سال کی لڑکی کا ذہن اور اس کا جسم کسی ایسی چیز کے لے تیار نہیں ہوتا۔ تب لڑکی بہت زیادہ تکلیف اور درد سے گزرتی ہے اور یہ بتانا بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ یہی سب کچھ میرے ساتھ بھی ہوا۔ شبانہ کے مطابق جب میں ماہین کی فلم دیکھنے گئی تو اسے دیکھ کر میرا دل بھر آیا اور میں رو پڑی، مجھے لگا یہی سب تو میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔

ہانی بلوچ کی بہن ماہین بلوچ لیاری میں سٹریٹ چلڈرن کو پڑھانے کے لیے بھی سرگرم ہیں اور ایک تھیٹر آرٹسٹ بھی ہیں۔ یہ کام ان کی کمیونٹی میں لڑکیوں کے لیے ہرگز آسان نہیں تھا تاہم چیلنجز کو قبول کرنے والی باہمت ماہین نے تھیٹر کے ساتھ فلم کا میڈیم باقاعدہ پڑھنا شروع کیا اور پھر اپنی ہی بہن ہانی بلوچ کی کتاب ’زندءِ آدینک‘ کا سکرین پلے لکھا تاکہ کنوارپن کے فرسودہ خیالات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے آگاہی د ی جا سکے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ فلم ایک اصل کہانی ہے جس میں چائلڈ میرج اور کنوار پن پر بات کی گئی، اس فلم میں ایک لڑکی کم عمری کی شادی اور کنوار پن کے مسئلہ کا سامنا کرتی ہے، چند پیسوں کی خاطر لڑکی کی شادی کر دی جاتی ہے اور یہ سب ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے تاہم ابھی تک یہ مسئلہ اس طرح نمایاں نہیں کیا جاتا، میں نے اس کا اردو میں ترجمہ کر کے کئی ماہ کی محنت کے بعد سکرین پلے لکھا تاکہ لوگ اس پیغام کو قبول کر سکیں۔

ماہین نے لیاری کی غریب اور پسماندہ خاندان سے تعلق رکھنے والی بچیوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے ’مستاگ فائونڈیشن‘ کی بنیاد رکھی۔ مستاگ بلوچی زبان کا لفظ ہے اور ان کا مطلب ہے ’اچھی خبر یا گڈ نیوز۔وہ کہتی ہیں کہ میں نے مستاگ میں ایسی لڑکیاں دیکھی ہیں جن کی کم عمری میں شادی ہوئی اور ان کی زندگی میں کنوار پن مسئلہ بنا، جس کی وجہ سے ان کو طلاق تک کا سامنا کرنا پڑا۔

لیاری کی تنگ گلیوں میں رہنے والی کشادہ سوچ کی مالک ماہین بلوچ اور ہانی بلوچ نے خود روایت پسند گھرانے سے تعلق ہونے کے باوجود کم سن لڑکیوں کے ان مسائل کو گہرائی سے سمجھا اور اس موضوع پر آگاہی دینے کے لیے آواز بھی اٹھائی، ماہین کے مطابق یہی عمل سوچ بدل جانے کی جانب پہلا قدم اور بارش کا پہلا قطرہ ہے۔

Related Articles

Back to top button