ثانیہ مرزا خود کو اچھی ماں کیوں نہیں سمجھتیں؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک کی اہلیہ اور بھارتی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا ’’مام گلٹ‘‘ کا شکار ہوگئی ہیں، ثانیہ کے مطابق کچھ ہفتے پہلے مجھے ایک ٹریننگ کے لیے دوسرے شہر جا کر کچھ دن رہنا پڑا، کام سے فارغ ہو کر جب میں رات کو اپنے بیٹے کو ویڈیو کال کرتی تو اسے روتا دیکھ کر میں بھی رو پڑتی اور رات بھر یہی سوچتی رہتی کہ میں اچھی ماں نہیں ہوں۔

اپوزیشن لیڈر بننے کیلئے نورعالم خان اورراجہ ریاض کا میچ

ثانیہ نے بتایا کہ میں سوچتی تھی کہ میں اپنے بچے کو نظرانداز کر رہی ہوں، اس پر ظلم کر رہی ہوں مگر پھر سوچتی کہ کماؤں گی نہیں تو کھاؤں گی کہاں سے؟ دنیا میں بچہ چھوڑ کر نوکری یا کسی اور کام سے جانے والی اکثر ماؤں کو ایسے ہی احساسات سے روزانہ لڑنا پڑتا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہیں کہ میں کیسی ماں ہوں؟

ثانیہ مرزا ٹینس کی ایک نامور کھلاڑی ہیں جن کے اعزازات کی فہرست خاصی طویل ہے، اس کے ساتھ وہ ایک تقریباً ساڑھے تین سالہ بچے کی ماں بھی ہیں جو اکثر موم گلٹ یعنی ایسے ہی احساسِ جرم کا شکار ہوتی ہیں، ثانیہ آج کل انگلینڈ میں کھیل رہی ہیں اور اس دوران وہ انڈیا میں موجود اپنے بیٹے اذہان کی نرسری گریجوایشن کی تقریب میں شرکت نہیں کر پائیں۔

بھارتی ٹینس سٹار نے انسٹا گرام سٹویریز پر اپنے احساسات شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ میں وہاں موجود نہیں تھی اور یہ ایک خوفناک احساس تھا، بدقسمتی سے ہم ایک ہی وقت میں دو جگہوں پر نہیں ہو سکتے، وہ لکھتی ہیں کہ واقعی ماؤں کو احساسِ جرم ہوتا ہے اور یہ احساس کبھی ختم نہیں ہوتا۔

ثانیہ مرزا نے یہ بھی کہا کہ اس احساس کی پہچان کرنا اور خود کو معاف کرنا ضروری ہے کیونکہ چاہے ہم کچھ بھی کر لیں ایک ماں کی حیثیت سے ہمیں یہی لگتا ہے کہ ہماری محنت ناکافی ہے، ثانیہ کہتی ہیں کہ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میرے پاس ایک فیملی اور سپورٹ سسٹم موجود ہے جو مجھے میرے خوابوں کے تعاقب میں کہیں بھی آنے جانے کی آزادی دیتا ہے۔

Related Articles

Back to top button