ججز کی جاسوسی پر حکومت وضاحت دے یا مستعفی ہو جائے

پیپلزپارٹی نے مبینہ طور پر ججز کی جاسوسی کرنے پر حکومت سے وضاحت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی جاسوسی کرنا توہین عدالت ہے، حکومت کواپنے اس عمل کا جواب دینا ہو گا. انھوں نے جاسوسی میں ملوث ہونے پر حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا.
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کو اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی جاسوسی اور اشیا خوردونوش اور دیگر اشیا کی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن میں استعمال کرنے سے متعلق فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ‘کیا خفیہ ایجنسیوں کو دہشت گردی کے خلاف نہیں لڑنا تھا یا پھر انہیں حکومت کی غیر موثر اقتصادی پالیسیوں کی تحقیقات کرنا ہے؟
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، آئی ایس آئی، اور ایف آئی اے کو کریک ڈاون سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اس ضمن میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ‘یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو ٹیکس ادا نہیں کرتے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ڈاکو یا کرپٹ ہیں، آپ کو ٹیکس اصلاحات کی ضرورت ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘لیکن اس حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر کو استعمال کرکے معاشی سرگرمیوں کو رپورٹ پر لگا دیا’۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ‘اقتصادی سرگرمیوں کا اصول ہے کہ لوگوں پر خرچ کیا جائے تاکہ معاشی سرگرمیاں پیدا ہوں لیکن اس حکومت نے لوگوں کی زندگیوں کو ہی نچوڑ دیا’۔
انہوں نے پھر دہرایا کہ پیپلز پارٹی ‘موجودہ حکومت اور آئی ایم ایف کی ڈیل’ تسلیم نہیں کرتی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان دوبارہ معاہدہ کرکے واپس آئیں جو پاکستان اور اس کی معیشت کے لیے بہتر ہو۔ بلاول بھٹوزرداری نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان آکر اپنے ہی نمائندوں سے مذاکرات کیے، حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط مانیں، یہ ڈیل حکومت کی نالائقی کا ثبوت ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ اس قسم کے سیاست دانوں پر لعنت بھیجتےہیں جو غریبوں کو لاوارث چھوڑیں، سیاسی مفاد اور انا کی وجہ سے غریب عوام سے کھیلا جارہا ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ حکومت معیشت سے جان نکال رہی ہے، پاکستان پیپلزپارٹی حکومت میں آنے کے بعد پہلا کام تنخواہ میں اضافے کا کرتی ہے، روزگار دینے کے بجائے عوام کو بے روز گار کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی فیصلے پاکستان کے عوام کو کرنے چاہئیں، عوام کے معاشی حقوق کا تحفظ یہ حکومت نہیں کرسکتی، حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے لوگوں کو فارغ کررہی ہے، یہ غریب عوام سے دشمنی ہے۔ بلاول نے کہا کہ ملکی معیشت مشکل صورتحال سے گزر رہی ہے، حکوت نے غریبوں کو نہیں امیروں کو سہولت دی، آئی ایم ایف سے بے شک ڈیل کریں مگر غریب عوام سے سودے بازی نہ کریں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اپنے دور میں ہم بھی آئی ایم ایف کے پاس گئے، آئی ایم ایف کے پاس جانے کے لیے ہمارے پاس مربوط حکمت عملی تھی۔ حکومت کا آئی ایم ایف سے معاہدہ نااہلی اور نالائقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کے بغیرشاپنگ، تجارت نہیں کرسکتے، حکومت نے معیشت سے جان نکال دی، ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو اہداف سے متعلق غلط بتایا، حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ٹیکس وصولی کا غلط ہدف دیا، کل وزیر اعظم نے سیکیورٹی اداروں کو منہگائی کی تحقیقات کرنے کا کہا، کیا ہماری حکومت اتنی نا اہل ہے کہ سیکیورٹی اداروں سے مہنگائی کی تحقیقات کرائے گی؟
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج نوجوان ہاتھوں میں ڈگری لیکر گھوم رہے ہیں جب کہ جو برسر روزگار ہیں انہیں بے روزگار کیا جارہا ہے، عام آدمی سے گھر چھین رہے ہیں اور دکانیں گرا رہے ہیں جب کہ قومی خزانے کا پیسہ عوام تک نہیں پہنچ رہا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کی معاشی خودمختاری پر سودے بازی کی ہے، پی ٹی آئی نے جو خواب دکھائے وہ پرانے پاکستان میں رہ گئے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو سبوتاژ کررہی ہے، اس پر حملہ غریب آدمی پر حملہ ہے، انہیں بھٹو سے بغض ہے اسی لیے شہید بے نظیر بھٹو پروگرام ختم کرنا چاہتے ہیں اور بی بی کی تصویر ہٹانا چاہتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایوان میں نہ اپوزیشن لیڈر آرہے ہیں اور نہ ہی وزیراعظم لہذا ایوان میں نہ آنے پر اپوزیشن لیڈر بدلنا ہے تو وزیراعظم کو بھی بدلیں۔
