پولیس کا مولانا کو سکیورٹی خدشات کے باوجود سکیورٹی دینے سے انکار

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ایک ممکنہ دہشتگرد حملے کی باضابطہ سرکاری وارننگ دینے کے باوجود خیپرپختونخواہ پولیس نے انہیں سیکیورٹی فراہم کرنے سے معذرت کرلی ہے حالانکہ ماضی میں مولانا پر تین جان لیوا خودکش حملے ہوچکے ہیں جن میں ان کے درجنوں ساتھی جان سے گئے تھے۔
خیبر پختونخوا کی پولیس نےاپنے سیکیورٹی الرٹ میں مولانا کو ایک ممکنہ دہشت گرد حملے کے پیش نظر اپنی حفاظت کیلئے پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز اور اسلحہ ساتھ رکھنے اور اپنی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے اور محدود کرنے کی تجویز دی ہے۔ ڈیرہ اسمعیل خان پولیس کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی جانب سے جاری کئے گئے ایک خط میں مولانا کو کہا گیا ہے کہ ‘مخالف ایجنسیوں’ نے انہیں ہدف بنانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کا بنیادی مقصد ان کی جان لینا ہے۔ چنانچہ ڈی پی او نے مولانا کو اپنی تمام تقاریب، منصوبے، پروگرامز اور نقل و حرکت خفیہ رکھنے کی تجویز دی ہے۔ ڈی پی او نے اپنے خط میں مولانا کو مزید لکھا ہے کہ ‘میں آپ کو آگاہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں تاکہ دہشت گردوں کے خدشات کے پیش نظر آپ مناسب حفاظتی اقدامات کرلیں’۔ الرٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آپ ڈیرہ اسمعیل خان میں اپنے گھر پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگوائیں اور اپنی اور اپنے گھر کی حفاظت کیلئے پرائیویٹ سیکیورٹی کا بندوبست بھی کریں۔ اسکے علاوہ مولانا کو لائسنس والا اسلحہ بھی پاس رکھنے کو کہا گیا ہے۔ مولانا کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ رات کے وقت سفر کرنے سے مکمل پرہیز کریں۔
پولیس کے ایڈوائزری نوٹس میں مولانا کو مزید کہا گیا ہے کہ اپنے گھر کے دروازے اندر سے بند رکھیں اور غیر شناسا افراد سے ملاقاتوں سے گریز کریں۔ پولیس نے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ کو ڈیرہ اسمعیل خان کے عبدالخیل کے علاقے میں ان کی رہائش گاہ کے نزدیک سیکیورٹی اہلکاروں کی 24 گھنٹے موجودگی بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
تاہم اس حوالے سے جمعیت علما اسلام (ف) کے ترجمان مولانا عبدالجلیل جان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت مولانا فضل الرحمٰن کو سیکیورٹی الرٹ جاری کرکے انہیں ڈرانا چاہتی ہے تاکہ وہ حکمرانوں کے خلاف اپنی مہم چلانے سے باز آ جایئں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس انتظامیہ سے اس الرٹ کے بعد مولانا کے لیے سکیورٹی مانگی تھی لیکن ہمیں انکار کر دیا گیا ہے۔ مولانا عبدالجلیل جان نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمٰن کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں پوری سیکیورٹی فراہم کرے۔ جلیل جان نے کہاں کے سفر کے دوران مولانا فضل الرحمن کو خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے دی جانے والی سیکیورٹی بھی کم کر دی گئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ایک جانب حکومت مولانا کو سیکیورٹی الرٹ جاری کرتی ہے اور دوسری طرف ان کی سیکیورٹی کم کی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ اس قبل بھی مولانا فضل الرحمن کو کئی مرتبہ پولیس اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے اسی طرح کے حفاظتی ہدایت نامے موصول ہوچکے ہیں۔ آزادی مارچ کے دوران بھی محکمہ داخلہ نے مولانا فضل الرحمان پر حملے سے متعلق تھریٹ الرٹ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان پر بھارتی خفیہ ایجنسی’را‘ اور افغان ایجنسی ’این ڈی ایس‘ جان لیوا حملہ کرسکتے ہیں۔ ’را‘ اور ’این ڈی ایس‘ نے ٹارگٹ کلرز سے رابطہ کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمن پر تین خود کش حملے ہوچکے ہیں جن میں سے ایک خیبر پختونخوا اور دو حملے بلوچستان میں ہوئے۔ مولانا فضل الرحمان بلٹ پروف گاڑی کی وجہ سے ان حملوں میں بچ نکلے لیکن ان کے درجنوں ساتھی شہید ہوگئے۔