عوام کو ریلیف دینے کی بجائے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس شرح میں اضافہ

وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی گِرتی ہوئی قیمتوں کا پورا ریلیف صارفین کو منتقل کرنے کی بجائے تمام پیٹرولیم مصنوعات پرعائد لیوی میں 140 فیصد تک اضافہ کر دیا۔
دستاویزات کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی کم ہونے والی پیٹرول کی قیمت میں کمی کا پورا ریلیف عوام کودینے کی بجائے صرف 51.54 فیصد ریلیف صارفین کو منتقل کیا گیا ہے جبکہ ڈیزل پر 35 فیصد اورمٹی کے تیل پر 54.81 فیصد ریلیف صارفین کو منتقل ہوا ہے اور وفاقی حکومت نے باقی ریلیف پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں شامل کر دیا ہے۔
دستاویز کے مطابق پیٹرول پر عائد لیوی میں 4 روپے 70پیسے اضافہ کرکے اسے 19 روپے 75 پیسے کردیا گیا ہے اور ڈیزل پر 9 روپے 16 پیسے اضافے سے لیوی 25 روپے 5 پیسے ہو گئی ہے جبکہ مٹی کے تیل پر پیٹرولیم لیوی میں 5روپے 77 پیسے اضافہ کرکے لیوی 12روپے 33پیسے کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ کی سطح پر پیٹرولیم لیوی رکھ کر پیٹرول 9روہے 70پیسے ، ڈیزل 14روپے اور مٹی کا تیل 12روپے 77پیسے تک سستا ہو سکتا تھا۔یکم مارچ سے لائٹ ڈیزل آئل پر عائد لیوی 2 روپے 6 پیسے سے بڑھا کر 4 روپے 94 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں 4 کھرب 80 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کے پیش نظر متعدد پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی 140 فیصد تک بڑھادی ہے تاکہ 10 ارب روپے ماہانہ یا 30 جون تک 40 ارب روپے کا اضافی ریونیو اکٹھا کیا جاسکے۔ وزارت خزانہ نے مارچ کے مہینے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر پیٹرولیم لیوی کو مارچ کے لیے 7 روپے 3 پیسے سے 25 روپے 5 پیسے فی لیٹر تک بڑھا دیا جو فروری کے مہینے میں 18 روپے فی لیٹر تھی جبکہ اس سے تقریباً 4 ارب 60 کروڑ روپے کا اضافی ریونیو اکٹھا کیا جاسکے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس شرح کی بنیاد پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا)نے ایچ ایس ڈی کی سابق ڈپو قیمت میں 12 روپے 4 پیسے (9.5 فیصد) فی لیٹر کمی کی تجویز دی تاہم وزارت خزانہ نے وزیر اعظم کو اس کی قیمت کو 5 روپے یا صرف 3.9 فیصد تک کم کرنے پر راضی کرلیا۔ واضح رہے کہ 9.5 فیصد کمی کے ساتھ ، ایچ ایس ڈی کی قیمت حکومت کی طرف سے مقرر کردہ 122 روپے 25 پیسے فی لیٹر سے کم ہوکر 115 روپے 20 پیسے ہوجاتی۔
اسی طرح، حکومت نے پیٹرول پر عائد ٹیکس کی شرح 4 روپے 75 پیسے سے بڑھا کر 19 روپے 75 پیسے کردی جو تقریبا 32 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے، ساتھ ہی پیٹرول پر عائد اضافی ٹیکس سے ایک ماہ میں تقریبا 3 ارب 60 کروڑ روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہاں یہ مدنظر رہے کہ اوگرا نے فی لیٹر 9 روپے 76 پیسے (8.4 فیصد) قیمت میں کمی کا حساب لگایا تھا لیکن وزارت خزانہ نے صارفین کے لیے صرف 5 روپے (4.29 فیصد) کی کمی منظور کی۔
حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 111روپے 60 پیسے کے بجائے پیٹرول کی قیمت 106 روپے 84 پیسے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی، علاوہ ازیں اگر ایچ ایس ڈی کی بات کریں تو اس پر کُل ٹیکس 45 روپے فی لیٹر ہے۔
اسی طرح مٹی کے تیل پر عائد ٹیکس 6 روپے سے بڑھا کر 12 روپے 33 پیسے فی لیٹر کردیا گیا جو 105.5 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے اور اس سے تقریبا6 کروڑ 50 لاکھ روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔ واضح رہے کہ مٹی کے تیل پر پٹرولیم لیوی اب اپریل 2009 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
اوگرا کی جانب سے 13 روپے 33 پیسے (13.4 فیصد) کی کمی سے 86 روپے 12 پیسے فی لیٹر تک کی پیشکش کی تھی تاہم وزارت خزانہ نے اسے 7 روپے فی لیٹر تک کم کیا۔ خیال رہے کہ پیٹرول پر اب کُل ٹیکس 39 روپے فی لیٹر ہے۔
دوسری جانب لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) پر پٹرولیم لیوی کو 3 روپے سے بڑھا کر 4روپے 94 پیسے فی لیٹر کردیا گیا جو 65 فیصد یا ایک روپے 94پیسے فی لیٹر کا اضافہ ظاہر کرتا ہے اور اس کا اضافی اثر ہرماہ تقریباً 3 کروڑ روپے کے اضافی ریونیو کی صورت میں سامنے آئے گا۔
ریگولیٹر نے ایل ڈی او نرخوں میں 8روپے 94 پیسے فی لیٹر کمی کی تجویز پیش کی تھی تاہم وزارت خزانہ نے 7 روپے سے زیادہ کی کمی کی اجازت نہیں دی۔
واضح رہے کہ دبئی خام تیل کی شرح 31 جنوری کو 62 ڈالر فی بیرل سے 28 فروری کو 19.35 فیصد کم ہوکر 50 ڈالر فی بیرل ہوگئی تھی۔ادھر بینچ مارک برینٹ 60 ڈالر فی بیرل سے کم ہوکر 51 ڈالر فی بیرل ہوگیا جو 18.33 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے، اس کے مقابلے میں ہماری مقامی مارکیٹ میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد کی کمی کی گئی۔ حکومت نے پہلے ہی تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کو اضافی ریونیو پیدا کرنے کے لیے 17 فیصد کی معیاری شرح تک بڑھا دیا ہے۔گذشتہ سال جنوری تک حکومت ایل ڈی او پر 0.5 فیصد، مٹی کے تیل پر 2 فیصد، پیٹرول پر 8 فیصد اور ایچ ایس ڈی پر 13 فیصد جی ایس ٹی وصول کررہی تھی۔
