نیب چیئرمین کی نااہلی کا کیس سپریم جوڈیشل کونسل میں


اپنی ایک قابل اعتراض ویڈیوز لیک ہونے کے بعد سے مکمل طور پر حکومت کا دم چھلہ بن جانے والے چیئرمین نیب جاوید اقبال نے اکتوبر 2021 میں اپنے ختم ہوتے عہدے کی معیاد میں توسیع کے لئے کوشش تو شروع کر رکھی یے لیکن حکومت چاہتے ہوئے بھی انکی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کر سکتی کیونکہ ایسا کرنے کے لئے اسے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی حمایت درکار ہوگی۔
دوسری جانب اب عسکری اسٹیبلشمینٹ بھی جاوید اقبال کو ساکھ کے بحران میں گھرا ہوا ایک پھوکا کارتوس سمجھتی ہے جو اسکی مرضی کے برعکس احتساب کے معاملے میں وزیراعظم عمران خان کو خوش کرنے میں مگن ہے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کی جاوید اقبال کو عہدے میں توسیع ملنے کا امکان اس لیے بھی نہیں ہے کہ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک ریفرنس زیر سماعت ہے جسکی تازہ ترین سماعت 12 جولائی 2021 کے روز ہوئی۔ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے ایڈووکیٹ چوہدری محمد سعید ظفر کی جانب سے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف دائر ریفرنس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ چونکہ بطور نیب چئیرمین جاوید اقبال کے عہدے کی مدت 8 اکتوبر کو اختتام پذیر ہو رہی ہے لہازا انک فراغت سے پہلے اس کیس کا فیصلہ کرنا ضروری یے۔ یہ ریفرنس چیئرمین نیب کی قابل اعتراض ویڈیوز اور آڈیوز کے حوالے سے دائر کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور آڈیوز میں جاوید اقبال ایک نیب انکوائری کا سامنا کرنے والی طیبہ گل سے اپنے دفتر میں نازیبا گفتگو کے علاوہ اس سے پپیاں کرتے اور جپھیاں ڈالتے دکھائی دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے اتفاق رائے کے ساتھ اکتوبر 2017 میں جسٹس (ر) جاوید اقبال کو نیب کا چیئرمین تعینات کیا تھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس کی سماعت کے دوران شکایت کنندہ خود سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہوئے تاکہ اپنا مؤقف پیش کر سکیں۔ تاہم سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ اٹارنی جنرل فار پاکستان خالد جاوید خان کو وفاقی حکومت سے چیئرمین نیب کو ہٹانے کے حوالے سے واضح ہدایات لینی چاہیں، کیوں کہ نیب آرڈیننس کی دفعہ 6 چیئرمین نیب کو ہٹانے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل جیسے فورمز کے اختیارات کے حوالے سے خاموش نظر آتا ہے۔ چنانچہ ریفرنس پر مزید کارروائی حکومتی ہدایات ملنے تک ملتوی کردی گئی۔
یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں تب سامنے آیا جب 2001 کے اسفند یار ولی خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ نیب چیئرمین کو چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت سے صدر مملکت مقرر کریں گے۔ تاہم اس فیصلے میں اس بات پر غور نہیں کیا گیا کہ چیئرمین نیب کو ہٹایا کس طرح جائے گا اور خیال کیا گیا کہ چونکہ صدر، چیئرمین نیب کو تعینات کرتے ہیں اس لیے انہیں ہٹانے کا اختیار بھی صدر کے ہی پاس ہے۔ دوسری جانب قومی احتساب آرڈیننس کی دفعہ 6، جو کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی سے متعلق ہے، میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور وزیر اعظم کی مشاورت سے بیورو کے چیئرمین کو ناقابل توسیع 4 سالہ مدت کے لیے تعینات کریں گے۔ اس آرڈیننس میں نیب چیئرمین کی برطرفی کی بنیاد سپریم کورٹ کے جج کی برطرفی کی بنیاد کو بنایا گیا ہے۔ آئین پاکستان کی دفعہ 209 میں عدالت عظمیٰ کے جج کی برطرفی کی شرائط یہ بتائی گئی ہیں کہ جب کوئی جج جسمانی، دماغی معذوری کی وجہ سے اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو یا بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہو تو اسے فارغ کیا جا سکتا ہے۔
ادھر ریفرنس میں شکایت گزار ایڈووکیٹ سعید ظفر نے الزام عائد کیا کہ ایک نجی کمرے میں کسی خاتون ملزم سے ذاتی ملاقات اور قابل اعتراض حرکات کرنا ایک بہت ہی غیر اخلاقی عمل ہے اور چیئرمین نیب کا یہ فعل غلط کام کے زمرے میں آتا ہے۔ ریفرنس میں کہا گیا کہ نیب انکوائری کے دوران طیبہ گل کی چیئرمین نیب سے ملاقات اور اس کے بعد فون پر ہونے والی گفتگو اتنے معزز عہدے کی جانب سے سنگین مس کنڈکٹ کا ثبوت ہے۔ شکایت گزار نے سپریم جوڈیشل کونسل سے درخواست کی تھی کہ چیئرمین نیب کے خلاف اس سنگین مس کنڈکٹ سے متعلق انکوائری شروع کی جائے اور حقیقت جاننے کے لیے ویڈیو کی فرانزک جانچ کا حکم دیا جائے۔ ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ چیئرمین نیب کی جانب سے ویڈیو کی تردید ناکافی ہے اور اس سے پورے احتساب کے عمل پر سوالات اٹھتے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اب اس ریفرنس کی دوبارہ سماعت ستمبر میں کسی وقت کیے جانے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ اپنے عہدے میں توسیع کی ناکام کوششیں کرنے والے جسٹس جاوید اقبال کا بطور جج عدالتی کیریئر بھی مصلحتوں سے بھرپور تھا۔ انہوں نے 1997 میں نواز شریف کی منتخب حکومت کو برطرف کرنے والے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کے بنائے گئے آئینی حکم نامے کی پاسداری کرتے ہوئے پی سی او کے تحت حلف لیا تھا۔ بعد میں مشرف نے 2000 میں انکو بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا لیکن دو نومبر 2007 کو انھوں نے مشرف کی ایمرجنسی کو قبول کرنے سے انکار کیا اور گھر پر نظر بند رہے۔ اس واقعے سے ان کی شخصیت میں بعض تضادات کا شائبہ ملتا ہے لیکن ان کے ساتھ کئی برس تک کام کرنے والے اس تضاد کی وضاحت ذرا مختلف انداز میں کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جج صاحب اس نکتے کو بہت اچھی طرح سمجھتے اور استعمال کرتے ہیں کہ کہاں ناں کرنی ہے اور کہاں ہاں۔ کب کس جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے اور کہاں خاموشی میں ہی عافیت ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جاوید اقبال کی یہی خوبی شاید مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھا گئی تھی کیونکہ ان دونوں جماعتوں کے سربراہوں کو نیب کے لیے شائد اسی طرح کے سربراہ کی تلاش تھی۔
تاہم تحریک انصاف کی حکومت بنتے ہی چیئرمین نیب کے تیور بدل گئے کیونکہ کپتان نے انہیں واضح الفاظ میں بتادیا تھا کہ اب انہیں چیئرمین نیب بن کر ہر صورت اپوزیشن کو رگڑا لگانا ہوگا ورنہ وہ ان کو بے اختیار بنا دیں گے اور ڈپٹی چیئرمین نیب کو اختیارات دے دیں گے۔ اس کے بعد طیبہ گل نامی خاتون کے ساتھ چیئرمین نیب کی غیراخلاقی ویڈیو لیک کردی گئی جس کے باعث جاوید اقبال پوری طرح حکومت کی مٹھی میں آ گئے اور پھر حکومت مخالف سیاست دانوں کے ساتھ نیب نے وہ کیا کہ احتساب خود شرما گیا۔ اس حوالے سپریم کورٹ کے چند حالیہ فیصلے نیب کے اصل کردار پر روشنی ڈالتے۔
اس سب کے باوجود جسٹس (ر) جاوید اقبال بڑی سنجیدگی سے کہتے ہیں کہ وہ دن گزر گئے جب نیب کو حکومت یا کوئی ادارہ احکامات صادر کرتا تھا اور نیب وہی کرے گا جو پاکستان کے لیے بہتر سمجھے گا۔ حالانکہ وہ تمام ایسے کام کرر ہے ہیں جو پاکستان کے مستقبل کے لئے زیر قاتل ہیں۔ مشرف دور میں بننے والے ادارے نیب کے کئی سربراہان آئے اور چلے گئے لیکن جسٹس جاوید اقبال کا دور سب سے بھیانک ثابت ہوا ہے کیونکہ ان کے دور میں نیب کے عقوبت خانے میں نازی دور کی قتل گاہیں ثابت ہوئے جہاں درجنوں اسیر جان کی بازی ہار چکے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سپریم کورٹ اور دیگر اعلیٰ عدالتیں بھی نیب کی بربریت کے خلاف رولنگ دے چکی ہیں لیکن چیئرمین نیب کی قیادت میں نیب نے مسلسل ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ تاہم اس سے بھی بڑھ کر افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس قبیح جرم کے مرتکب کسی نیب اہلکار یا افسر کو آج دن تک سزا نہیں مل سکی۔ سزا بھی دور کی بات آج دن تک کسی بھی بھی شخص کی نیب کی حراست میں موت کا مقدمہ بھی درج نہیں ہوسکا۔
لیکن مقافات عمل بھی اسی دنیا میں ہوتا ہے چنانچہ اپوزیشن قیادت کی پگڑیاں اچھالنے اور انہیں بے عزت کرکے لذت حاصل کرنے والے نیب چیئرمین کی اپنی عزت بھی تب تار تار ہو گئی جب پہلے ان کی نازیبا ویڈیوز اور آڈیوز وائرل ہوئیں اور اس کے بعد
خواجہ برادران کے خلاف پیراگون کرپشن کیس میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں یہاں تک لکھ دیا گیا کہ نیب ملک کی خدمت نہیں کر رہا بلکہ ملک و قوم کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے، یہ بھینکہا گیا کہ نیب کا ادارہ روزِ اول سے متنازع ہے اور اس کا تصور ہی بدگمانی اور شکوک سے بھرا پڑا ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کی نیب کو سیاسی جوڑ توڑ کے لیے کھلے عام سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ نیب سیاسی جماعتوں کو توڑنے، مخالفین کا بازو مڑورنے اور انہیں سبق سکھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، لہازا اسکا احتساب یکطرفہ ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ عالمی اداروں اور ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے بطور ادارہ نیب کو جس تاریخی ذلت کا سامنا کرناپڑا ہے یہ سب جسٹس جاوید اقبال کے دور میں ہوا، لہذا نیب کے خلاف عدالتی ریمارکس دراصل جاوید اقبال کے خلاف چارج شیٹ ہیں۔ تاہم دوسری جانب اپنی چیئرمین شپ کے دور میں احتساب کے نام پر اپوزین رہنماؤں کے خلاف ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم کرنے والے جسٹس جاوید اقبال سمجھتے ہیں کہ شاید ان خدمات کے صلے میں انہیں ایک بار پھر اس عہدے کے لئے چنا جائے گا۔ لیکن باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے ان سے جو کام لینا تھا وہ لے لیا ہے اور ویسے بھی جاوید اقبال اس قدر متنازع ہوچکے ہیں کہ انہیں دوبارہ نیب کی سربراہی دینے کی کوشش کرنا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔

Back to top button