نیپرا کا بجلی کے بلوں میں ٹی وی فیس وصول کرنے پر تشویش کا اظہار

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے بلوں کے ذریعے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی فیس جمع کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صحیح طریقہ کار نہیں ہے۔
یہ بات نیپرا کے چیئرمین توصیف ایچ فاروقی نے لاہور اور ملتان کے بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکو) کے علاقوں میں اوور بلنگ اور لوڈشیڈنگ کے معاملے پر عوامی سماعت کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ ایک شریک نے ان سے سوال کیا تھا کہ کیا پی ٹی وی کی فیس جمع کرنا ڈسکو کا کام ہے اور انہیں یہ کام کرنا چاہیے۔ توصیف ایچ فاروقی نے کہا کہ ‘یہ صحیح طریقہ کار نہیں ہے، ریگولیٹر نے ٹیکس وصولی کے معاملے پر اپنے تحفظات کو مناسب سرکاری فورمز تک پہنچادیا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے خیال میں یہ صحیح طریقہ کار نہیں ہے لیکن یہ حکومتی فیصلہ ہے اور بجلی کمپنیوں کو صرف اپنا کام کرنا چاہیے’۔ سماعت کے دوران ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر چوہدری طاہر محمود نے عہدیداروں کے تبادلے اور پوسٹنگ سے متعلق معاملات میں سیاسی مداخلت کا الزام عائد کیا۔ وہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیرصدارت حالیہ اجلاس کا حوالہ دے رہے تھے جس میں میپکو کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ‘بیشتر شکایات منتقلی اور پوسٹنگ سے متعلق ہیں جس پر وہ عمل نہیں کرسکتےکیوں کہ وہ اس طرح کی تبدیلیوں پر پاور ڈویژن کی جانب سے پابندی عائد ہے تاہم جہاں تک کمپنی کی مجموعی کارکردگی کا تعلق ہے انتظامیہ جائزے کےلیے نیپرا کو تمام ڈیتا فراہم کرنے کےلیے اور ڈیتا سسٹم میں بھی دستیاب ہے’۔
لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) اور میپکو دونوں کے انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حکومتی پالیسی کے مطابق صرف زیادہ نقصان والے فیڈروں پر ہی لوڈشیڈنگ کررہے ہیں اور ان کے ڈسکو میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ یا اوور بلنگ نہیں کی گئی۔ لیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مجاہد چٹھہ نے کہا کہ لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ جیسے الفاظ کی غلط تشریح کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن صارفین کو کٹوتی کے بل بھیجے گئے تھے انہوں نے اوور بلنگ کا دعوی کیا اسی طرح جب طوفانی بارش کی وجہ سے مقامی خرابیوں کو سدھارنے کےلیے کچھ وقت کےلیے بجلی کی فراہمی بند کردی گئی تو لوگوں نے اسے لوڈشیڈنگ کے طور بتایا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ وہ ہر ہفتے چند گھنٹوں کےلیے ای کچہریوں کا انعقاد کر رہے ہیں اور انہیں 5 کروڑ صارفین میں سے اوور بلنگ کی صرف ایک ہزار 300 شکایات موصول ہوئی ہیں۔
