پاکستانی جنرل کا داماد MI6 کا ایجنٹ ہے یا سب جھوٹ ہے؟


ایک سویلین ہونے کے باوجود کورٹ مارشل کی کارروائی کا سامنا کرنے والے انسانی حقوق کے معروف کارکن ادریس خٹک کو برطانوی خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے یہ الزام عائد کیا گیا یے کہ وہ مائیکل سیمپل نامی برطانوی ایجنٹ کو پاکستان آرمی کے حوالے سے خفیہ معلومات پہنچاتے تھے۔ تاہم اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ مائیکل سیمپل پاکستانی فوج کے سابق میجر جنرل ابوبکر مٹھا کے داماد ہیں جو کالج کے دور سے ادریس خٹک کے ذاتی دوست ہیں اور کئی دہائیاں پاکستان میں مقیم رہے ہیں جس وجہ سے ماضی میں افغان حکومت نے ان پر آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہونے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔
یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ میں عدالتی کارروائی کے دوران وزارت دفاع کے وکیل نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ادریس خٹک برطانیہ کی خفیہ انٹیلی جنس سروس کے ایک اہلکار کو پاکستان میں ہونے والی فوجی کارروائیوں سے متعلق ‘سرکاری راز’ فراہم کرتے تھے۔ چنانچہ پشاور ہائی کورٹ نے ادریس خٹک کے وکیل کی جانب سے دائر کورٹ مارشل کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ اس کیس کی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تحت سماعت جاری رکھی جائے۔ تاہم اب مائیکل سیمپل کی پاکستانی اہلیہ نے یمیمہ مٹھا نے مائیکل سیمپل کے برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کا ایجنٹ ہونے سے متعلق الزام کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے دونوں بچوں کو آئرش میڈیم سکول میں تعلیم دلوائی ہے جو کہ برطانوی پالیسیوں کے سخت خلاف سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسا کون سا برطانوی جاسوس ہو گا جو اپنے بچوں کو ایسے سکولوں میں تعلیم دلوائے گا۔
میجر جنرل ابوبکر مٹھا کی بیٹی یمیمہ مٹھا کے مطابق پاکستانی اداروں کی جانب سے مائیکل کی کسی جاسوسی کی سرگرمی میں ملوث ہونے کے کوئی بھی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔ مائیکل سیمپل پر ادریس خٹک کے ساتھ رابطے کے بارے میں یمیمہ مٹھا کا کہنا تھا کہ مائیکل سیمپل اور ادریس خٹک یونیورسٹی کے دنوں سے اچھے دوست تھے اور انکی ذاتی دوستی ہے۔
بی بی سی کے مطابق یمیمہ مٹھا کا کہنا تھا کہ ‘مائیکل سیمپل نے پاکستان کو ہمیشہ اپنا گھر سمجھا اور وہ 2016 تک باقاعدگی سے پاکستان آتے رہے تاہم جب 2016 میں انھیں سکیورٹی اداروں کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے تو وہ اس کے بعد سے پاکستان نہیں آئے’۔ مائیکل نے بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان پاکستان کو اپنا گھر سجھتے ہیں اور ان ہر لگائے گے الزامات کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی تبصرے کے لائق ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق چہرے پر ہلکلی بھوری داڑھی، شلوار قمیض اور پکول ٹوپی پہنے مائیکل سیمپل کو اگر کوئی اردو، پشتو یا دری بولتے سن لے تو وہ کہہ نہیں سکتا تھا کہ ان کا تعلق پاکستان یا افغانستان سے نہیں ہے۔ ان دونوں ملکوں میں کئی برسوں تک مختلف اہم سرکاری عہدوں پر کام کرنے والے آئیرلینڈ کے اس باسی کو پاکستانی فوج نے برطانیہ کا خفیہ ایجنٹ کیوں اور کیسے قرار دیا، یہ ایک دلچسپ کہانی ہے جس کا مرکزی کردار مائیکل سیمپل نہیں بلکہ فوج کے زیرحراست سماجی کارکن ادریس خٹک ہیں۔
ادریس خٹک کو صوابی سے نومبر 2019 میں حراست میں لیا گیا تھا اور اس واقعے کے ایک سال بعد وزارت دفاع نے یہ تسلیم کیا تھا کہ ادریس خٹک ان کی وزارت کے ایک ماتحت ادارے کی تحویل میں ہیں۔ ادریس خٹک کے وکیل طارق افغان ایڈووکیٹ کے مطابق ان کے موکل کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ تقریباً چھ ماہ پہلے ادریس خٹک کو اسلام آباد سے اکوڑہ خٹک کے راستے پر صوابی انٹرچینج کے پاس سادہ لباس میں ملبوس چند افراد نے اُن کی گاڑی سے اتار لیا تھا پشاور ہائیکورٹ میں ڈپٹی اٹارنی جنرل اور فوج کے ایجوٹینٹ جنرل کے نمائندے کی طرف سے جو جواب جمع کروایا گیا اس میں ادریس خٹک پر متعدد الزامات عائد کیے گئے اور ان معلومات کے بارے میں بتایا گیا جو انھوں نے مبینہ طور پر برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے ایک مبینہ ایجنٹ مائیکل سیمپل کو فراہم کی تھیں۔ یہ خفیہ معلومات کیا تھیں، اور انہوں نے پاکستان کی قومی سلامتی کو کیسے متاثر کیا، اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے بات ہو جائے اس کہانی کے دوسرے لیکن اہم ترین کردار مائیکل سیمپل کی۔
مائیکل نے اردو سمیت متعدد علاقائی زبانوں پر عبور پاکستان اور افغانستان میں اپنے 21 سالہ قیام کے دوران حاصل کیا تھا۔ وہ پاکستانی فوج کے ایک سابق میجر جنرل ابوبکر مٹھا کے داماد ہیں۔ سابقہ مشرقی پاکستان میں ڈپٹی کمانڈر کے عہدے پر فائز رہنے والے میجر جنرل مٹھا ان فوجی افسران میں شامل تھے، جنھیں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جبری رخصت پر بھیجا گیا تھا۔ آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں پیدا ہونے والے مائیکل نے اٹلانٹک کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1983 میں برطانیہ کی سسیکس یونیورسٹی میں معاشیات کے شعبے میں داخلہ لیا تھا اور یہیں ان کی ملاقات پاکستان کے سابق میجر جنرل ابوبکر مٹھا اور مشہور کلاسیکل رقاصہ اندو مٹھا کی بیٹی یمیمہ مٹھا سے ہوئی اور دو سال بعد 1985 میں مائیکل سیمپل اور یمیمہ مٹھا نے شادی کر لی۔ شادی کے بعد مائیکل یمیمہ کے ساتھ پاکستان منتقل ہو گئے۔ یمیمہ مٹھا کے مطابق ‘میں پاکستان کے علاوہ کہیں اور نہیں رہنا چاہتی تھی اس لیے شادی کے بعد مائیکل میرے ساتھ پاکستان آئے اور یہیں زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔’ یمیمہ کا کہنا ہے کہ مائیکل نے پاکستان کو ہمیشہ اپنا گھر سمجھا۔ سنہ 2015 میں اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں منعقدہ تقریب میں مائیکل سیمپل نے کہا تھا کہ ‘میں پاکستان میں جہاں بھی جاتا ہوں تو میرا استقبال ایک گھر داماد کی طرح کیا جاتا ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔’ بلکہ ایک مرتبہ جب کسی نے انھیں پاکستان کا گھر داماد کہا تو انھوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا۔’
پاکستان آنے کے بعد مائیکل نے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام اور آبادی پر تحقیق کے قومی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز میں کام کیا اور اسی دوران آکسفورڈ یونیورسٹی سے اکنامکس میں ایم فل کی ڈگری بھی حاصل کی۔ سنہ 1988 میں یمیمہ مٹھا اور مائیکل سیمپل نے پاکستان میں کام کرنے والی برطانوی این جی او آکسفیم میں ‘جاب شئیر` کے تحت پاکستان اور افغانستان کے لیے بطور نمائندہ کام شروع کیا اور یہ دونوں نو سال تک آکسفیم میں اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیتے رہے۔ مائیکل کو انگریزی کے علاوہ اردو، پشتو اور دری زبان پر بھی عبور حاصل ہے اور وہ اب بھی متعدد بین الاقوامی اخبارات اور چینلز پر بطور تجزیہ کار افغان سکیورٹی اور امن عمل پر اپنا تجزیہ دیتے نظر آتے ہیں. یمیمہ کا کہنا تھا کہ ‘ہم دونوں نے ایک عہدے پر کام کیا۔ ہمیں تنخواہ ایک شخص کی ملتی تھی جبکہ کام ہم دونوں کرتے تھے۔’ سنہ 1997 میں آکسفیم کو خیر باد کہنے کے بعد مائیکل نے اقوام متحدہ کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ ٹونی بلیئرانسٹیٹیوٹ فار گلوبل چینج کے مطابق وہ اقوام متحدہ کی اس سیاسی ٹیم کا حصہ تھے جس کا مقصد 2001 میں طے پانے والا بون معاہدہ جس کے نتیجے میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کی جمہوری حکومت قائم کی گئی، کے نفاذ کو یقینی بنانا تھا۔
اقوام متحدہ میں پانچ سال کام کرنے کے بعد مائیکل نے برطانوی ہائی کمیشن کے لیے بطور مشیر برائے انسانی حقوق کام کرنا شروع کیا اور ابھی انھیں ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ 2004 میں انھیں افغانستان میں یورپی یونین کا نائب نمائندہ مقرر کر دیا گیا۔ مائیکل سیمپل افغان جنگ کے آغاز سے ہی تمام فریقین کے درمیان مذاکرات اور امن عمل کے حامی رہے اور 2007 میں حامد کرزئی کی حکومت کی جانب سے انھیں اور اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والی برطانوی شہری مرون پیٹرسن کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر فوری ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ کرزئی حکومت کی جانب سے ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے افغان حکومت کی اجازت کے بغیر طالبان جنگجوؤں سے مذاکرات کیے۔ سنہ 2007 میں جب ان پر طالبان سے مذاکرات کا الزام عائد کیا گیا تو کچھ حلقوں کی جانب سے یہ بھی الزام سامنے آیا کہ چونکہ مائیکل ایک سابق پاکستانی جرنیل کے داماد ہیں لہٰذا ان کے تعلقات آئی ایس آئی سے ہیں۔ اُس وقت مائیکل نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام فریقین سے بات چیت کرنا ان کی ملازمت کا حصہ ہے اور انھیں اس کے لیے تمام متعلقہ اداروں سے اجازت حاصل تھی جبکہ اقوام متحدہ کے کابل میں ترجمان علیم صدیقی نے بھی ان الزامات کی تردید کی تھی۔ مائیکل نے افغانستان سے نکالے جانے کے بعد بھی افغان سکیورٹی اور سلامتی سے متعلق امور پر کام جاری رکھا اور یورپی یونین کے لیے بھی کام کرتے رہے جبکہ افغانستان سے ملک بدر کیے جانے کے دس سال بعد افغان حکومت کی جانب سے ہی انھیں مشیر برائے امن کونسل مقرر کیا تھا۔
مائیکل کی اہلیہ یمیمہ مٹھا کا کہنا تھا کہ ‘مائیکل نے پاکستان کو ہمیشہ اپنا گھر سمجھا اور وہ 2016 تک باقاعدگی سے پاکستان آتے رہے تاہم جب 2016 میں انھیں سکیورٹی اداروں کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے تو وہ اس کے بعد سے پاکستان نہیں آئے’۔ یمیمہ مٹھا کے مطابق انھوں نے سکیورٹی اداروں سے متعدد بار یہ جاننے کے کوشش کی کہ مائیکل کو کس سے اور کیوں جان کا خطرہ ہے تاہم انھیں اس بارے میں اب تک کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ مائیکل سیمپل نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان پاکستان کو اپنا گھر سجھتے ہیں اور ان پر لگائے گے الزامات کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی تبصرے کے لائق ہیں۔ یاد رہے کہ وزارت دفاع نے پشاور ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ ملزم ادریس خٹک نے 29 جولائی سنہ 2009 کو برطانیہ کی خفیہ ایجنسی کے نمائندے مائیکل سیمپل کو سوات میں پاکستانی فوج کے آپریشن کے بارے میں معلومات دیں۔ لیکن ادریس خٹک کے وکیل لطیف آفریدی کا کہنا ہے کہ ان الزامات کے باوجود مائیکل سیمپل کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں ہو رہی جبکہ قانون کے مطابق جو شخص خفیہ معلومات فراہم کرے اور جس شخص کو یہ معلومات فراہم کی جائیں ان کے خلاف یکساں کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ لیکن عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ درخواست گزار کی طرف سے جو معاملہ اٹھایا گیا ہے کہ جس شخص کو معلومات فراہم کی گئیں ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی، اس میں وزن ہے تاہم چونکہ ابھی یہ معاملہ زیر تفتیش ہے اور عدالت کے پاس ایسے کوئی شواہد بھی موجود نہیں ہیں کہ آیا مائیکل سیمپل کو شامل تفتیش کیا گیا ہے یا نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button