کورونا کے خلاف جنگ میں فوج نے کپتان کو سائیڈ لائن کر دیا

معتبر برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ کرونا کی وبا پھوٹنے کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ سازی میں نا اہلی دکھانے پر وزیر اعظم عمران خان کو سائیڈ لائن کر کے خود کمان سنبھال لی ہے۔
فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بروقت اور مضبوط حکومتی فیصلے نہ کرسکنے پر فوجی اسٹیبلشمنٹ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے سے فوری اقدامات کرنے ہوں گے لہذا وزیراعظم کو سائیڈ لائن کردیا گیا۔ یاد رہے کہ عمران خان محنت کش طبقے کی مشکلات کی وجہ سے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کے مخالف تھے۔ تاہم فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کو مدنظر رکھتے ہوئے ازخود ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا۔ تاہم دوسری طرف لاک ڈاون کے بعد بھی وزیراعظم یہ سوال بار بار اٹھاتے ہیں کہ کیا مکمل لاک ڈاون ضروری تھا۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق وزیراعظم کے لاک ڈاؤن مخالف بیانات سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ یہ فیصلہ ان کی حکومت کا نہیں بلکہ فوج کا ہے اور کپتان کو آج بھی لاک ڈاون کے فیصلے پر اعتراض ہے۔
برطانوی جریدے نے 22 مارچ کو وزیراعظم کے دیئے گئے بیان کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں عمران خان نے کہا تھا کہ ملک میں مکمل لاک ڈاؤن نہیں ہوگا لیکن پھر چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں فوجی ترجمان میجرجنرل بابر افتخار نے فوج کا فیصلہ سنا دیا کہ وہ خود لاک ڈاؤن کی نگرانی کرے گی تاکہ ملک میں کرونا وائرس مزید نہ پھیل سکے۔ اس اعلان کے بعد ملک میں فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کے لئے تعینات کردیا گیا اور چاروں صوبوں میں لاک ڈاؤن بھی شروع ہوگیا۔ ساتھ ہی فوج نے فیڈریشن اور صوبوں کے مابین کرونا سے نمٹنے کے لئے ایک یکساں حکمت عملی بنانے کے لئے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔
اس حوالے سے سابق فوجی جرنیلوں کا مؤقف ہے کہ حکومت نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے طریقہ کار میں ایک بڑا گیپ پیدا کردیا تھا جسے پر کرنے کے لئے مجبورا فوج کو میدان میں آنا پڑا کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔
خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کرونا وائرس کے روک تھام کا فوری اور مؤثر رستہ دنیا بھر میں لاک ڈاؤن ہی تجویز کیا گیا ہے تاہم بدقسمتی سے سندھ حکومت اور وفاق کےد رمیان لاک ڈاؤن پر شدید اختلاف رہا۔ سندھ نے اپنی طرف سے لاک ڈاؤن شروع کردیا وفاقی حکومت اور پنجاب سمیت دیگر صوبوں نے یہ حکمت عملی 22 مارچ کے بعد فوج کے دباؤ پر اپنائی۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہونے پر تحریک انصاف حکومت بری طرح ناکام ہوئی جس کے بعد فوج نے کپتان اینڈ کمپنی کو سائیڈ لائن کرتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ خود سنبھال لی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے کرونا کے خلاف جنگ کی قیادت سنبھالنے کا تاثر مضبوط ہونے کے بعد وزیراعظم کی سیاسی پوزیشن انتہائی کمزور ہو گئی ہے اور آئندہ بجٹ کے بعد حکومت کو ساکھ کے بحران سمیت کئی دیگر سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا جو اسکے خاتمے پر بھی منتج ہو سکتے ہیں۔
