آئیسکو نے 60 کروڑ روپے واجبات پر بحریہ ٹاؤن کی بجلی معطل کردی

الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) نے بحریہ ٹاؤن کی بجلی یومیہ 6 گھنٹے کے لیے معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہاؤسنگ سوسائٹی بجلی کے بلز کی مد میں 06 کروڑ 80 لاکھ روپے واجبات کی ادائیگی میں ناکام ہوگئی ہے۔
دوسری جانب گرمی میں راولپنڈی میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے شہری بلبلا اٹھے ہیں۔
بحریہ ٹاؤن کو بجلی کی معطلی کے حوالے سے آئیسکو کے ایک بیان میں کہا گیا کہ منگل (29 جون) کو لوڈ منیجمنٹ کا وقت 3 بجے سے شام 5 بجے اور پھر شام 8 بجے سے رات 10 بجے تک تھا۔
انہوں نے کہا کہ 30 جون (آج) سے تین وقفوں میں 6 گھنٹے ’لوڈیشڈنگ‘ ہوگی جو صبح 10 سے 12بجے ، دوپہر3 بجے سے شام 5 بجے اور شام 8 بجے سے رات 10 بجے تک ہوگا۔
آئیسکو کے ایک عہدیدار نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے واجبات کی ادائیگی کرتے ہی بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بحال کردی جائے گی۔
اس ضمن میں رابطہ کیا گیا تو بحریہ ٹاؤن کے ایک عہدیدار نے معاملے پر لاعلمی کا اظہار کیا اور وعدہ کیا کہ وہ اس کے بارے میں معلومات ملتے ہی رابطہ کریں گے تاہم خبر فائل ہونے تک ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
دوسری جانب راولپنڈی میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کررہا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں 6 سے 8 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بحریہ ٹاؤن کا ‘تصفیہ فنڈ’ خزانے میں جمع کروانے کیلئے حکومت کی درخواست
بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث کینٹ اور شہر کے متعدد علاقوں میں پانی کی قلت نے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی بار بار لوڈیشڈنگ کے باعث وہ سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
موسمیات کے ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ شمالی اور جنوبی پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں میں موجودہ حالات آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بدستور جاری رہیں گے۔
تاہم انہوں نے آئندہ چند دنوں میں ساحلی علاقوں میں ہلکی بارش کی پیش گوئی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ دو دن میں درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ جائے گا۔
گرمی کے باعث شہر کی مرکزی شاہرواں کو ٹریفک معمول سے ہٹ کر کم تھا اور بازار میں گاروباری سرگرمیاں بھی انتہائی محدود تھیں۔
دوسری جانب ہیٹ اسٹروک کے باعث بے ہوش ہونے کے بعد درجنوں افراد کو شہر کے مختلف ہسپتالو میں منتقل کیا گیا۔
ڈاکٹروں نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دھوپ سے بچیں اور جسمم میں پانی کی مناسب مقدار کو یقینی بنائیں تاکہ پسینہ آنے کے بعد جسم میں نمکیات کی کمی ہوسکی۔
