آئینی مدت پوری کرنے ،الیکشن وقت پر،سخت معاشی اقدامات کا فیصلہ

اتحادی حکومت نے مدت پوری کرنے، انتخابات اپنے وقت پر کرانے اور گڈ گورننس کے لیے سخت معاشی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت اور اتحادیوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے جب کہ دو روز قبل آصف زرداری بھی وزیراعظم شہباز شریف سے ملے ہیں۔ ملاقاتوں میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت مدت پوری کرے جب کہ الیکشن بھی مدت پوری ہونے کے بعد ہی ہوں گے۔

باخبر ذرائع نے کہا ہے کہ حکومتی ا تحادیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ انتخابات کے معاملے میں کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئیں گے اور اپنے فیصلے اپنی مرضی سے کریں گے، انتخابات کے لیے پہلے الیکشن کمیشن کی ٹائم لائن ہے اگر دباؤ میں یہ لوگ چاہ رہے ہیں کہ فوری الیکشن کرائے جائیں تو یہ ممکن نہیں ہوگا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کا اہم اجلاس 25 مئی کو ہوگا جس میں فوری طور پر الیکشن نہ کرانے سے متعلق آئندہ کے مکمل لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی بدھ 25 مئی کو سوئزرلینڈ سے واپس آجائیں گے اور امکان ہے کہ اجلاس میں شریک ہوں گے،25 مئی کے اجلاس میں معیشت کے لیے سخت اور ضروری فیصلے کیے جائیں گے، کابینہ کے کل ہونے والے اجلاس میں بھی معیشت کے حوالے سے بھی قرارداد منظورکی جائے گی۔ اتحادیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت، ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے گی اور مدت بھی پوری کرے گی۔

اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے دھرنے سے متعلق اتحادیوں نے طے کیا ہے کہ دھرنے سے جمہوری انداز میں نمٹا جائے گا، دھرنا شرکاء کی جانب سے جہاں قانو ن کی خلاف ورزی کی گئی تو ان سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا، پی ٹی آئی کو دھرنے کے لیے جگہ سری نگر ہائی وے پر نہیں دی جائے گی، تحریک انصاف کو ہائی وے کے بجائے کسی گراؤنڈ کی پیشکش کی جائے گی جس طرح مولانا فضل الرحمن کو پی ٹی آئی دورمیں گراؤنڈ دیا گیا تھا۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر آئی ایم ایف عوامی ریلیف پیکیج نہیں ملتا تو بڑے فیصلے کر لیے جائیں، لانگ مارچ پر اتحادیوں کو مکمل اعتماد میں لیا جائے، ہر فیصلے میں سابق صدر آصف زرداری کو ساتھ رکھا جائے۔

باخبر ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور قبل از وقت انتخابات پر مشاورت کی گئی،اجلاس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف بھی لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے شریک تھے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے ہونے والے مذاکرات پر بھی مشاورت کی گئی۔ پنجاب میں نمبر گیم کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے آگاہ کیا،اجلاس کے دوران یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں مزید جلسے کیے جائیں۔

ن لیگ کے قائد نواز شریف نےمشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئی ایم ایف عوامی ریلیف پیکیج نہیں ملتا تو بڑے فیصلے کر لیے جائیں، پچھلی حکومت کا ملبہ ہم کیوں اپنے سر لیں، ملک کو انتشار کرنے والوں کے رحم و کرم نہ چھوڑا جائے۔ لانگ مارچ کا شورعالمی مالیاتی ادارے سے مذاکرات کو متاثر کرنے کے لیے مچایا گیا۔

نواز شریف نے کہا لانگ مارچ پر اتحادیوں کو مکمل اعتماد میں لیا جائے، ہر فیصلے میں سابق صدر آصف زرداری کو ساتھ رکھا جائے، انتخابی اصلاحات کا بل جلد تیار کرکے اسے قومی اسمبلی سے پاس کرایا جائے۔ چیئرمین نیب کی تعیناتی کے لیے فوری اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کا آغاز کیا جائے۔

ذرائع نے بتایا کہ حکومت کے خلاف محاذ آرائی کو سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد اتحادی حکومت قانون ہاتھ میں لینے والوں کوگرفتار کرے گی۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پنجاب کی جیلوں کو صاف کروانے اورسیاسی شخصیات کو الگ سیل میں رکھنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہیں اور نواز شریف نے ہدایت کی کہ رانا ثنا، آپ امن امان کی صورتحال کنٹرول کرنے کیلئے تیار رہیں۔

ذرائع کے مطابق اس موقع پر مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا فریش مینڈیٹ قومی و عوامی مسائل کا حل ہے۔

Back to top button