آئین شکن جرنیلوں کو بے نقاب کرنے پر غدار قرار دیا جا رہا ہے

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ان کا قصور یہ ہے چند کرداروں کو بے نقاب کر رہے ہیں جو پردہ کے پیچھے بیٹھ کر کھیل کھیلتے ہیں اور سازشیں کرتے ہیں۔
اتوار کو لاہور میں مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا کنونشن سے ویڈیو لنک سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ پی ڈی ایم اور ن لیگ نے اپنا مقدمہ عوام کے پاس لے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’کیا آئین شکنوں کو بے نقاب کرنا غداری ہے۔ کیا یہ بغاوت ہے۔ کیا چوروں کے بے نقاب کرنا غداری ہے؟‘انہوں نے کہا کہ کیا آپ کو بھٹکانے والے کرداروں کو سامنے لانا غداری ہے؟ کیا ریاست کے اندر ریاست چلانے والوں کو بے نقاب کرنا غدرای ہے؟‘ اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا ’کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ ملک کو کمزور کر رہا ہے۔ انہی غیر قانونی طاقتوں نے پاکستان میں آزادی اظہار کا گلا گھونٹ رکھا ہے۔ لوگوں کو مہنگائی کی چکی میں پیسا جا رہا ہے۔‘’ان کو نواز شریف کا راستہ روکنے کی پڑی ہے۔ میری تقریر پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ایک منظم پروپیگنڈے کے تحت سچ کو جھوٹ قرار دینے کا کام لیا جا رہا ہے۔‘مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ آج سوشل میڈیا ایک موثر اور آزاد ذریعہ ہے۔’سوشل میڈیا جابروں کے شکنجے سے کافی حد تک محفوظ ہے۔ سوشل میڈیا ایک خود مختار چینل بن چکا ہے۔ ان لوگوں کے لیے جھوٹ چھپانا مشکل نہیں رہا۔ آپ جتنا آگے بڑھیں گے یہ اتنا پیچھے بھاگیں گے۔ یہ ناقابل شکست ہتھیار ہے جو ہمارے مشن کو کامیاب بنائے گا۔‘
نواز شریف نے کہا کہ غیر آئینی لوگوں نے ملک میں آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹ رکھا ہے، انہوں نے ملک میں مہنگائی عام کردی ہے، یہ غیر جمہوری لوگ ملک تباہ کر چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ آج مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔لیکن اس حکومت کا دھیان اس طرف ہے کہ نواز شریف کو کیسے روکیں، نواز شریف کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر تقریر نشر نہ ہو، اور کسی طرح نواز شریف کو روک دیا جائے۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا پر میری تقریر پر پابندی لگا کر میری آواز کو دبا لیں گے۔ ان کو بتا دو کہ اب وہ دس سال پرانا دور نہیں رہا، اب سوشل میڈیا کا دور ہے، اب جھوٹ کو چھپانا ممکن نہیں رہا۔آج سوشل میڈیا کے باعث کسی کی بھی آواز نہیں دبائی جاسکتی اور اس کی مثال اس وقت میرے سامنے موجود آپ سب ہیں، آپ میں سے ہر ایک اس وقت ایک میڈیا ہاؤس ہے۔ چاہے ٹوئٹر ہو، فیس بک ہو، یوٹیوب ہو، انسٹاگرام یا ٹک ٹاک ہو۔ یہ وہ ذرائع ابلاغ ہیں جن کے باعث کسی کی آواز نہیں روکی جا سکے گی ۔ سوشل میڈیا والنٹیئرز کو مخاطب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ آپ سب میرا پیغام سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلاتے رہیں ۔میری آپ سب سے درخواست ہے کہ سوشل میڈیا پر آپ کسی صورت میں بھی اخلاقیات کا دامن نہ چھوڑیں ۔ آپ کو اس وقت مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہماری سوشل میڈیا فورس کو ناکام بنانے کے لیے یہ سوشل میڈیا پر قدغن لگائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان سیلیکٹڈ اور نااہل حکمرانوں کی حکومت ہچکولے کھا رہی ہے ۔ آپ کا جذبہ ان گرتی ہوئی دیواروں کو آخری دھکا ثابت ہوگا۔آپ کے خوف میں غیر آئینی قوتوں کی فتح اور آپ کی بے خوفی میں غیر آئینی قوتوں کی ناکامی ہے ۔ یہ آپ کو ڈرائیں گے، لیکن آپ نے حق کا چراغ جلا کر رکھنا ہے۔ جب آپ کو معلوم ہے کہ آپ حق پر ہیں تو آپ کو بالکل نہیں گھبرانا چاہیے ۔ نواز شریف نے کہا کہ میں آپ کو وہ مستقبل دینا چاہتا ہوں جو گزشتہ 73 برسوں سے ہمیں نہیں ملا۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں ووٹ کو عزت دو کی شمع کو بلند کر کے چل رہا ہوں ۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ میرا قصور یہ ہے کہ میں ان آئین شکنوں اور انصاف کے دشمنوں کو بے نقاب کررہا ہوں۔ میرا قصور یہ ہے کہ میں پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کو سلام پیش کر کے چند آئین شکنوں کو بے نقاب کررہا ہوں، میں ان کے نام لے کر ان کو بے نقاب کررہا ہوں، یہ میرا جرم ہے ۔ کیا ریاست کے اوپر ریاست چلانے کا پلان بنانے والوں کا نام لینا غداری ہے ؟ کیا آپ کا مال لوٹ کر امریکہ میں سلطنت قائم کرنے والوں کا نام لینا غداری ہے ؟ ان لوگوں کو نواز شریف کی بات نہیں پسند تو کوئی بات نہیں، لیکن آپ لوگ اس ملک کا مستقبل ہیں، آپ نے اس ملک کے خواب کو تعبیر کو دینی ہے، پاکستان کا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے، اور انشاءاللہ آپ کا یہ جذبہ اور جنون ہی ملک کو آگے بڑھائے گا.
تقریر کے اختتام میں نواز شریف نے اعلان کیا کہ مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم کا 13 دسمبر کا جلسہ لاہور میں مینار پاکستان گراؤنڈ میں ہوگا، جس میں وہ کارکنوں سے خطاب کریں گے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button