آئی ایم ایف سے 6 ارب روپے کا قرض غریب عوام کو لوٹانا ہوگا

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے نیا قرض پروگرام دینے سے قبل ہی پاکستان کےلیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت کو غیر معمولی طور پر خطرات کا سامنا ہے۔آئی ایم ایف کی سٹاف رپورٹ میں سٹینڈ بائی معاہدے کے تحت دوسری اور آخری جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی معیشت کےلیے خطرات غیر معمولی طور پر زیادہ ہیں۔

خیال رہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے جمعے کو سامنے آنے والی سٹاف رپورٹ میں پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور آئی ایم ایف ایک طویل المدتی پروگرام کے حوالے سے گفتگو کا آغاز کر رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے آئندہ مالی سال کےلیے سالانہ بجٹ سازی کے عمل کے آغاز سے قبل آئی ایم ایف کا ایک وفد رواں ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا، جس میں ایک نئے پروگرام پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دوسری جانب آئی ایم ایف کی سٹاف رپورٹ میں سٹینڈ بائے معاہدے کے تحت دوسری اور آخری جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’پاکستانی معیشت کیلئے منفی خطرات غیر معمولی ہونے کے باوجود نئی حکومت نے سٹینڈ بائے معاہدے کی پالیسیوں کو جاری رکھنے کے اپنے ارادے کا اشارہ دیا ہے لیکن پاکستان میں سیاسی غیر یقینی کی صورت حال بہت اہم ہے۔‘رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں سیاسی پیچیدگیاں اور زندگی گزارنے کی زیادہ لاگت پالیسی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق: ’کم بیرونی سرمایہ کاری کے ساتھ پالیسیوں میں حائل مشکلات اور قرض میں استحکام کے کم امکانات کرنسی کی شرح تبادلہ پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔‘آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا کہ اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور شپنگ میں خلل یا سخت عالمی مالیاتی حالات، مشکلات سے دوچار پاکستان کے بیرونی سطح پر استحکام پر منفی اثرات مرتب کریں گے۔رپورٹ میں آئی ایم ایف پروگرام کے بعد بیرونی فنانسنگ کی بروقت دستیابی پر بھی زور دیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے گذشتہ ماہ تین ارب ڈالر کا قلیل مدتی پروگرام مکمل کیا تھا جس سے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے روکنے میں مدد ملی تھی لیکن وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے ایک نئے اور طویل مدتی پروگرام کی ضرورت پر زور دیا ہے کیونکہ پاکستان اب بھی ایک بڑے مالی خسارے سے نمٹ رہا ہے، اگرچہ اس نے درآمدی کنٹرول طریقہ کار کے ذریعے اپنے بیرونی کھاتے کے خسارے پر قابو پا لیا ہے، لیکن یہ شرح نمو میں جمود کی قیمت پر آیا ہے، جو گذشتہ سال منفی نمو کے مقابلے میں اس سال تقریباً دو فیصد رہنے کی توقع ہے۔ اس لئے توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان فوری طور پر آئی ایم ایف سے کم از کم چھ ارب ڈالر حاصل کرے گا تاہم بعد ازاں عالمی مالیاتی فنڈ سے اضافی فنانسنگ کی درخواست کرے گا۔

Back to top button