آئی ایم ایف مطالبات کے نام پر ایف بی آر کی تقسیم کافیصلہ

نگران حکومت نے متعلقہ طاقتور حلقوں کو راضی کرنے کے لیے آئی ایم ایف کے مطالبات کے نام پر ایف بی آر کو تقسیم کرنے کا بہانہ پیش کر دیا تاہم فنڈ کی تکنیکی ٹیم نے ابھی تک ایسی کوئی خاص سفارش نہیں کی۔
اعلیٰ سرکاری ذرائع نے   تصدیق کی کہ نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر اگلے عام انتخابات کے انعقاد سے قبل وفاقی کابینہ سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی تنظیم نو کی منظوری لینے کے لیے رواں ہفتے ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور وزیراعظم آفس کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایف بی آر کو دو اداروں میں تقسیم کرنا آئی ایم ایف کے پروگرام کی شرائط کا حصہ ہے اس لیے مجوزہ اصلاحاتی منصوبے پر منظوری دینا ضروری ہے۔
حکومت پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کے رابطے نے بالکل مختلف تصویر پیش کی کیونکہ جاری 3ارب ڈالرز کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) پروگرام کے تحت شرط کے حصے کے طور پر کچھ خاص نہیں۔ پھر آئی ایم ایف کی ایک تکنیکی ٹیم نے گزشتہ دسمبر 2023میں پاکستان کا دورہ کیا تاکہ ٹیکس انتظامیہ اور حکومت پاکستان کے ساتھ مستقبل کے روڈ میپ پر بات چیت کی جا سکے۔
آئی ایم ایف کی تکنیکی ٹیم نے اپنی ابتدائی سفارشات اس وقت پیش کیں جب نگران وزیر خزانہ نے ان کے سامنے ایک پریزنٹیشن دی کہ دو آپشنز زیر غور ہیں یا تو نیشنل ٹیکس ایجنسی کا قیام یا ایف بی آر کو ختم کرکے دو اداروں کو فیڈرل بورڈ آف ان لینڈ ریونیو اور فیڈرل بورڈ آف کسٹمز بنایا جائے۔

Back to top button