آئی سی سی نے شعیب اختر کو کیوں ٹرول کردیا؟

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس وقت پاکستانی کرکٹر شعیب اختر کو ٹرول کر دیا جب انہوں نے معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے ایک ٹوئٹ پر جوابی کمنٹ کرتے ہوئے معروف آسٹریلوی بیٹسمین سٹیو سمتھ کو اپنی چوتھی ہی بال پر آؤٹ کردینے کے عزم کا اظہار کیا۔

سیانے کہتے ہیں پہلے تولو پھر بولو، لیکن ہمارے اسپیڈ اسٹار راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر کو یہ بات سمجھ نہیں آتی، چنانچہ انکو اکثر اپنے غیر ضروری تبصروں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہتا ہے، حال ہی میں کرکٹر عمر اکمل پر پابندی کے فیصلے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی کو تنقید کا نشانہ بنانے پر بھی انکو قانونی نوٹس کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد انہوں نے بھی جواب دے دیا اور یہ تنازع ابھی جاری ہے۔


اب شعیب اختر نے کرکٹ کی مشہور ویب سائٹ کرک انفو کی جانب سے ایک پوسٹ پر تبصرہ کر دیا جس کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے انہیں ٹرول کردیا۔ کرک انفو نے دراصل اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک خاموش پوسٹ شیئر کی جس میں 20 کھلاڑیوں کی تصویر موجود تھی اور اس پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ اگر سابق اور موجودہ دور کے یہ کھلاڑی اپنے عروج پر ہوں تو آپ ان میں سے کس کس کا آپسی مقابلہ دیکھنا پسند کریں گے۔


مذکورہ پوسٹ میں چار سابق اور موجودہ پاکستانی کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا جس میں سعید انور، وسیم اکرم، شعیب اختر اور پاکستان کی موجودہ ٹی20 ٹیم کے کپتان بابر اعظم شامل ہیں۔ اس پوسٹ میں وسیم اکرم کا مقابلہ سابق جنوبی افریقہ کپتان اور مسٹر 360 کے نام سے مشہور اے بی ڈی ویلیئرز سے کرایا گیا۔ اسی طرح سابق مایہ ناز اوپنر سعید انور کا مقابلہ موجودہ بھارتی فاست باؤلر جسپریت بمراہ اور بابر اعظم کا مقابلہ سابق آسٹریلین فاسٹ باؤلر گلین میک گرا سے کرایا گیا۔ شعیب اختر کا مقابلہ معروگ آسٹریلوی بیٹسمین سٹیو سمتھ سے کروایا گیا۔
اس ٹویٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہا کہ آج بھی میں تین خطرناک باونسرز کراؤں گا اور چوتھی بال پر اسمتھ کو آؤٹ کردوں گا۔


شعیب اختر کے اس بیان پر آئی سی سی نے سنکو ٹرول۔کرنے کے لیے ایک لفظ بھی تحریر نہیں کیا۔ آئ سی سی نے صرف ہالی وڈ ایکٹر ونس ریمز کی تصاویر شیئر کیں جس میں انہیں بے ساختہ ہنستے ہو دیکھا جا سکتا ہے۔ عموما آئی سی سی اس طرح کی حرکت نہیں کرتا لیکن شعیب اختر نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کر دیا۔

واضح رہے کہ شعیب ان دنوں پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی کو تنقید کا نشانہ بنانے پر مشکلات کا شکار ہیں۔ تفضل نے انہیں تب 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجا تھا جب پی سی بی نے عمر اکمل کو اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کا مرتکب گردانتے ہوئے تین سال کی پابندی عائد کر دی تھی اور شعیب اختر نے پی سی بی کے لیگل ڈپارٹمنٹ کو نالائق اور گرا ہوا ڈپارٹمنٹ قرار دے دیا تھا۔

تفضل رضوی سے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہا تھا کہ ‘یہ مجھ سے، شاہد آفریدی اور دیگر کئی کرکٹرز سے کیسز ہارا ہوا ہے لیکن یہ ہمیشہ کیس کو الجھاتا ہے اور پیسے بناتا رہتا ہے اور اسی وجہ سے پی سی بی کھلاڑیوں سے الجھا رہتا ہے’۔ شعیب اختر کے بیان کو ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے تفضل نے انکو قانونی نوٹس بھجوایا اور 10 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا۔

تفضل رضوی نے کہا کہ شعیب اختر کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے ہیں اور ان کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم شعیب اختر نے ان کے نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تفضل رضوی نے ان پر الزامات لگا کر ان کی توہین کی لہٰذا وہ ان سے معافی مانگیں۔ قانونی نوٹس کے جواب شعیب اختر کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل مشہور کرکٹر رہے ہیں اور ان کا تجزیہ غیر جانب دار، بولڈ اور تنقیدی ہوتا ہے جس کا مقصد پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button