آبنائے ہرمز کی بندش، قطر نے گیس کی برآمدات معطل کردیں

آبنائےہرمزکی بندش اورحملوں کے خدشے کے بعد قطر نے گیس برآمدات پر فورس میجر نافذ کر دیا جس کے باعث عالمی منڈی میں قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

خلیجی ریاست قطر نے قدرتی گیس کی برآمدات معطل کردی ہیں جس کے باعث عالمی گیس مارکیٹ میں کئی ہفتوں تک قلت پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

قطر کی سرکاری توانائی کمپنی نے اس ہفتے گیس کی پیداوار روک دی ہے جب کہ معمول کی پیداوار بحال ہونے میں کم از کم ایک ماہ لگ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ قطر دنیا کی تقریباً 20 فیصد مائع قدرتی گیس برآمد کرتاہے۔ اور اس کی عالمی منڈیوں تک تمام تر سپلائی آبنائے ہرمز کے ذریعےہوتی ہے۔

ایران نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے جس کے باعث اس اہم ترین آبی گزرگاہ میں جہاز رانی تقریباً رک گئی ہے۔

قطر کی گیس زیادہ تر یورپ اور ایشیا کو فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے بڑے خریداروں میں پاکستان، جنوبی کوریا، بھارت، جاپان اور چین شامل ہیں۔

گیس کی فراہمی میں تعطل کے باعث اب ان ممالک میں ممکنہ قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔پیداوار رکنے کے بعد بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل کے علاقوں میں ایل این جی کارگو کے حصول کے لیے مقابلہ بڑھ گیا ہے۔

جس کے باعث یورپ اور ایشیا میں گیس کی قیمتیں اور ایل این جی فریٹ ریٹس کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد برطانیہ کی گیس مارکیٹ میں قیمتیں دگنی ہو گئی ہیں، جس کے باعث گھریلو توانائی کے بل میں 10 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

Back to top button