عید الاضحیٰ کے دوسرے روز بھی جانوروں کی قربانی کا سلسلہ جاری

ملک بھر میں عیدالاضحیٰ کا آج دوسرا روز ہے اور مختلف شہروں میں سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کا سلسلہ جاری ہے۔ملک بھر میں عید الاضحیٰ کے دوسرے روز شہری سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں لیکن اس موقع پر شہری انتظامیہ کی جانب سے آلائشیں اٹھانے کے کام میں انتہائی سستی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔
کراچی،لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں مختلف مقامات پر قربانی کے بعد آلائشوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔
اولڈ سٹی ایریا کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب کے خراب نظام کی وجہ سے مزید گندگی ہوگئی ہے جہاں گٹر اور پہلے سے موجود برساتی پانی میں آلائشیں پھینکنے کے بعد مکھیوں اور مچھروں کی بہتات ہوگئی ہے۔گارڈن، رامسوامی، رنچھوڑ لائن اور جوڑیا بازار کے اطراف آلائشوں اور گندگی کے ڈھیر لگ گئے ہیں جب کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا عملہ مرکزی سڑکوں سے آلائشیں اٹھارہا ہے اور عملہ گلیوں میں جانے سے گریزاں ہے۔
سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے مطابق کراچی میں عید کے پہلے روز 8 ہزار 933 ٹن الائشیں تلف کی گئیں اور دیگر علاقوں سے الائشیں اٹھانے کا کام مسلسل جاری ہے۔لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا کہنا ہے کہ شہر میں عیدکے پہلے روز 13500 ٹن سے زائدآلائشیں اکٹھی کی گئیں اور ویسٹ بیگز کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ پوری قوم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں عیدالاضحی پورے مذہبی عقیدت واحترام کے ساتھ منا رہی ہے۔ عید الاضحیٰ کے پہلے دن کا آغاز مساجد میں امت کی فلاح وبہبود اور ملک کے تحفظ وسلامتی کیلئے خصوصی دعاﺅں سے ہوا۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں کی مساجد ، عیدگاہوں اورکھلے مقامات میں عید کے محدود اجتماعات منعقد ہوئے۔ جہاں فرزندان توحید نے نماز عید ادا کی جبکہ علماءاورخطیب حضرات نے عیدالاضحی کی فضیلت اورقربانی کے فلسفے پر روشنی ڈالی۔ حکومت کی طرف سے کرونا وبا کی وجہ سے ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے محدود اجتماعات کی اجازت دی گئی تھی تاہم حکومتی ہدایات کے برعکس جہاں عید کے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے وہیں لوگوں کی کثیر تعداد ایس او پیز کو بالائے طاق رکھتے باہمی میل ملاپ کرتے بھی نظر آئے.
عید کی نماز اداکرنے کے بعد اہل ایمان سنت ابراہیمی کی یاد میں جانوروں کی قربانی کی اور قربانی کے جانوروں کا گوشت رشتہ داروں اور غرباءمیں تقسیم کیاگیاجبکہ گھروں میں قربانی کے گوشت سے مختلف اقسام کے پکوان بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے ملک بھر میں سیکورٹی کے جامع انتظامات کئے گئےہیں۔مساجد اور امام بارگاہوں کے باہر پولیس نفری تعینات کی گئی ہے. مختلف شہروں کے انتظامیہ نے عید کے تین دنوں کے دوران آلائشیں ٹھکانے لگانے کے خصوصی انتظامات کئے ہیں۔جبکہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے عوام سے سادگی سے عید منانے کی اپیل کی گئی ہے. علاوہ ازیں پنجاب بھر میں کرونا وبا کے پیش نظر پارکس اور تفریحی مقامات، سینما ہالز اور تھیٹرز کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.
تمام سرکاری ہسپتالوں کا ایمرجنسی سٹاف کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے، عیدالاضحی کے سلسلہ میں وفاقی و صوبائی حکومتوں نے آج جمعہ سے لے کر2اگست تک عام تعطیلات کا اعلان کیاہے۔ تمام سرکاری، نیم سرکاری، نجی ادارے، بینک، عدالتیں بھی بند رہیں گےجبکہ سندھ حکومت نے چھٹیوں میں ایک دن کا اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد صوبہ سندھ میں تمام سرکاری ادارے اب 4اگست منگل سے کھلیں گے۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے عوام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کےلئے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جائے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ پیاروں کے پاس بلاوجہ نہ جانے کی قربانی یہ یقینی بنائے گی کہ ہر ایک کےلئے عید محفوظ اور خوشیوں بھری ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ عید الاضحیٰ ہر طرح کی قربانی کے جذبے کا نام ہے اور ہم احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کرکے انسانیت کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ عید پر اگر انتہائی ضروری ہوتو گھر سے باہر نکلیں۔
اُدھر عید الاضحیٰ پر اپنے ایک پیغام میں پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹوزرداری کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کو عیدالضحی کی مبارکباد دیتا ہوں، عید الاضحی ہر مسلمان کو ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر قربانی دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنے کی یاد دہانی کراتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ہر مسلمان کو اپنی انا کو قربان کرنے کا عزم کرنا ہوگا، انا کی قربانی کے ساتھ ساتھ ایک عظیم مقصد کے لیئے اتحاد اور اس پر عمل کے لیے اتحاد کے لئے کام کرنا ہوگا، عیدالاضحیٰ کے پرمسرت موقع پر حکمران اپنی پھولی ہوئی انا کو چھوڑ دیں۔انہوں نے کہا کہ حکمران عوام کو اس حقیقی مقصد و کاز کے لئے متحد کرنے کی کوشش کریں جو واقعی قومی ہو، عوام عید نہایت سادگی کے ساتھ منائیں اور معاشرتی دوری اور مہلک وباء کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔
