آخر کورونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟ حتمی جواب نہ مل سکا

چین اور دنیا کے دوسرے ممالک میں ہلاکت انگیز کرونا وائرس سے دو ہزار کے قریب انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود محققین اب تک اس سوال کا حتمی جواب حاصل نہیں کرسکے کہ آخر یہ وائرس کس جانور سے پھیلا اور انسانوں میں کیسے پہنچا۔ سائنسدان یہ پتہ لگانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ آخر یہ وبا کہاں سے پھیلنی شروع ہوئی۔
اب تک کی غیر حتمی ریسرچ کے مطابق چین کے کسی علاقے میں ہوا میں اڑتی ایک چمگادڑ نے اپنےفضلے میں کرونا وائرس چھوڑا جو جنگل کی زمین پر گرا جہاں پینگولین نام کے جانور نے اس فضلے کو کھایا اور اس وائرس کا شکار ہو گیا۔ یہ وائرس دوسرے جانوروں میں پھیلا۔ متاثرہ پینگولین انسانوں کے ہاتھ لگا جنہوں نے اس کا گوشت استعمال کیا اور یہ بیماری انسانوں میں پھیلنی شروع ہوگئی اور پوری دنیا میں ایک وبا کی شکل اختیار کرنے لگی۔
زولاجیکل سوسائٹی آف لندن کے پروفیسر اینڈریو کنگھم کا کہنا ہے کہ سائنسدان کسی جاسوس کی طرح ان واقعات کی کڑیاں جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگل میں کئی طرح کے جانوروں میں یہ وائرس ہو سکتا ہے خاص طور پر چمگادڑیں جن میں کئی طرح کے کورونا وائرس پائے جاتے ہیں۔ جب سائنسدانوں نے ایک مریض کے جسم سے لیے جانے والے وائرس کا جائزہ لیا تو سیدھا اشارہ چمگادڑوں کی جانب گیا۔ چمگادڑیں لمبی پرواز کرتی ہیں اور ہر براعظم میں موجود ہوتی ہیں یہ خود تو زیادہ بیمار نہیں ہوتیں لیکن دور تک اور بڑے پیمانے پر وائرس پھیلانے میں ماہر ہیں۔
یونیورسٹی کالج آف لندن کی پروفیسر کیٹ جونز کے مطابق ایسی شہادتیں موجود ہیں کہ چمگادڑیں طویل اور تھکا دینے والی اڑان کی عادی ہو چکی ہیں اور ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان کو خود بخود ٹھیک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اپنے جسم میں موجود کئی طرح کے وائرس کا بوجھ برداشت کر لیتی ہیں لیکن ابھی تک یہ ایک خیال ہے۔
یونیورسٹی آف نوٹنگھم کے پروفیسر جوناتھن بال کا کہنا ہے کہ چمگادڑوں کے طرز زندگی کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں وائرس پنپتے ہیں اور چونکہ وہ دودھ پلانے والے جانور ہیں اس لیے وہ براہِ راست یا بلواسطہ طور پر یہ وائرس انسانوں میں بھی منتقل کر سکتے ہیں۔ اس معمے کا دوسرا سوال اس پراسرار جانور کی شناخت ہے جس کے جسم میں یہ وائرس آیا اور اس سے ووہان کی بازار میں پہنچا۔ اس سلسلے میں پینگولین نام کے جانور پر شبہہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چیونٹیوں اور دیگر کیڑے مکوڑوں کو کھانے والا یہ جانور اپنے لذیذ گوشت کی وجہ سے دنیا میں سب سے زیادہ سمگل ہونے والا جانور کہلاتا ہے اور معدومیت کا شکار ہے۔ پاکستان میں گوادر پروجیکٹ شروع ہونے کے بعد بڑی تعداد میں اس جانور کو ملک کے مختلف علاقوں سے شکار کرکے چینی انجینئرز کو پہنچایا جاتا ہے اس کے علاوہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پینگولین کو پاکستان سے چائنہ بھی سمگل کیا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کی کھانے کے علاوہ چین کی روایتی ادویات میں بھی پینگولین کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پینگولین اور چمگادڑیں چین کے اکثر بازاروں میں زندہ فروخت ہوتی ہیں اور ایسے بازاروں میں ہی جانوروں اور انسانوں میں وائرس پھیلنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ووہان میں ایسے ہی ایک بازار کو وبا پھیلنے کے بعد بند کر دیا گیا جس میں جنگلی جانوروں کا ایک سیکشن بھی تھا جہاں زندہ اور ذبح شدہ جانوروں کو فروخت کیا جا رہا تھا۔ ان میں اونٹ، ریچھ اور دیگر جانوروں کے اعضا فروخت ہو رہے تھے۔روز نامہ گارڈین کے مطابق ایک دوکان پر فروخت ہونے والی فہرست میں بھیڑیے کے بچے، سنہری ٹڈے، بچھو، چوہے، گلہری، لومڑی، سیہہ، بجو، کچھوا اور مگر مچھ کا گوشت شامل تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ہمیں جن وائرسز کا پتہ چلا ہے وہ سب جنگلی حیات سے انسانوں میں منتقل ہوئے تھے چاہے وہ ایبولا ہو یا یا سارس اور اب کورونا وائرس۔ پروفیسر جونز کا کہنا ہے کہ جنگلی حیات سے متعدی امراض پھیلنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا اور انسانی آبادی نئے نئے وائرسز کی زد میں آ رہی ہے۔ انسان جنگلات پر قبضہ کر رہا ہے جنگلات کی زمین استعمال کی جا رہی ہے جو جنگلی حیات سے منتقل ہونے والے وائرس پھیلنے کی وجہ ہو سکتی ہے۔ پروفیسر کنگھم کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہے کہ اس کے خطرات کیا ہیں تو ہم پہلے سے ہی اقدامات کر سکتے ہیں۔ حالانکہ چمگادڑوں میں زیادہ وائرس پائے جاتے ہیں لیکن ماحولیاتی نظام کو چلانے میں ان کی ضرورت بھی اہم ہے۔
حشرات خور چمگادڑیں بڑے پیمانے پر کیڑے مکوڑے کھاتی ہیں جن میں کاشت کو برباد کرنے والے کیڑے اور مچھر شامل ہیں۔ 2003 میں سارس کی وبا پھیلنے کے بعد جانوروں کے بازار پر عارضی پابندی لگا دی گئی تھی لیکن جلد ہی یہ بازار چین، ویتنام اور جنوب مشرقی ایشا کے دیگر علاقوں میں پوری طرح کام کرنے لگے۔ چین نے ایک بار پھر جنگلی حیات سے بننے والی اشیا کی خرید وفروخت پر پابندی لگا دی ہے خبر ہے کہ یہ پابندی مستقل ہوگی۔ ایسٹ اینگلیا یونیورسٹی کی پرفیسر ڈیانا بیل کا کہنا ہے کہ شاید ہمیں یہ کبھی معلوم نہ ہو سکے کہ انسانوں کی جان لینے والی یہ بیماری کب، کہاں اور کیسے وجود میں آئی لیکن ہم ‘اگلے طوفان ‘ کو آنے سے روک سکتے ہیں۔ ہم مختلف ممالک کے مختلف علاقوں اور مختلف طرز زندگی، مختلف ماحول کے جانوروں کو جن میں کچھ درختوں پر رہتے ہیں تو کچھ زمین پر اور کچھ پانی میں انہیں ایک ساتھ جمع کر رہے ہیں جو خطرناک ہے اور ہمیں اسے روکنا چاہیے۔
