آرمی چیف نے حکومتی کارکردگی مایوس کن قرار دے دی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حکومتی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی ناکامی عوامی اشتعال کا باعث بن رہی ہے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے فرائیڈے ٹائمز کے ایڈیٹورئیل میں ذرائع کی بنیاد پر یہ دعوی کرتے ہوئے مذید انکشاف کیا یے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں تحریک انصاف کے چھے وفاقی وزرا کو بلا کر اُن سے دوٹو ک لہجے میں کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے اور ایسی حکومت عوام پر مسلط کرنے سے فوج کی اپنی ساکھ بھی خراب ہو رہی یے۔ سیٹھی کے مطابق جنرل قمر باجوہ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے حکومتی وزرا سے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں وزرائے اعلیٰ تبدیل کرکے حالات میں بہتری لانا ہو گی اور وفاقی حکومت چلانے کے لیے باصلاحیت اور قابل اعتماد ٹیم بنائی جانی چاہیئے تاکہ کم از کم معیشت کو تو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جاسکے۔
سینئر صحافی نے دعوی کیا کہ آرمے چیف نے وزرا کو سنجیدہ لہجے میں بتایا کہ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ لہازا اس ”نصیحت“ کے نتائج یہ نکلے کہ عمران خان نے ندیم بابر اور حفیظ شیخ کو بخوشی عہدوں سے فارغ کردیا حالانکہ وہ حالیہ دنوں ہی میں ان کی حیرت انگیز کامیابیوں کی تعریف کررہے تھے۔ سیٹھی کے مطابق عمران خان نے حفیظ شیخ کو سینیٹ کا ٹکٹ بھی دے دیا تھا تاکہ وہ منتخب ہو کر وزارت خزانہ کو باقاعدہ وزیر کے طور پر چلائیں لیکن پھر انہیں اچانک گھر بھیجنے پر اتفاق کر لیا گیا۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ ابھی وفاقی کابینہ میں کچھ مزید کانٹ چھانٹ بھی ہونے جارہی ہے۔ تاہم عمران خان کے اپنی ٹیم کے چناؤ کا ماضی کا ریکارڈ دیکھیں تو کابینہ کے بہتر معیار یا اچھی کارکردگی کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ سیٹھی کہتے ہیں کہ پنجاب میں بطور خاص تبدیلی کی کڑوی گولی نگلنا آسان نہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی سفارش ”ہوم“ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ہے۔ یہاں نجم سیٹھی کا اشارہ وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کی جانب ہے جن کی سفارش پر عثمان بزدار کو وزیراعلی پنجاب لگایا گیا تھا۔ سیٹھی کہتے ہیں کہ اسی لیے بزدار اپنی تباہ کن کارکردگی کے باوجود بچے ہوئے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فی الحال عمران خان اور جنرل باجوہ، دونوں کے لیے قابل قبول امیدواروں کی فہرست خالی ہے۔ سیٹھی کے مطابق عمران خان کو خطرہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش تحریک انصاف کے اتحادیوں کے الائنس کا دھڑن تختہ کردے گی۔ اس کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ اس صورت میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق کو صوبے میں حکومت بنانے کا سنہری موقع مل جائے گا۔ پنجاب سے اسلام آباد کی طرف چڑھائی کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ اب عمران خان ایسا کریں تو مصیبت، نہ کریں تو مصیبت۔
سیٹھی کہتے ہیں کہ اس دوران فعال اور متحرک چیف آف آرمی سٹاف بھارت کے ساتھ تناؤ کم کرنے اور صورت حال معمول پر لانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کے لیے کشمیر کوفی الحال پس پشت ڈالنے میں کوئی مضائقہ نہیں کیوں کہ اس کی وجہ سے بجٹ پر بہت سخت دباؤ ہے۔ سیٹھی کے مطابق لائن آف کنٹرول پر طویل جنگ بہت مہنگی تھی۔ روزانہ سینکڑوں گولے فائر کیے جاتے جن کی مالیت ہزاروں امریکی ڈالر ہوتی ہے۔ طویل سرحد پر فوجی دستوں کو ہمہ وقت چوکس رکھنے پر بھی بھاری خرچ اٹھتا ہے۔ فضائیہ کے سکواڈرنوں کو تیاراور تناؤ کے وقت فضا میں محو پرواز رکھنا ناقابل برداشت حد تک مہنگا کھیل ہے۔ عملی صورت حال یہ ہے کہ کرنا لاک ڈاؤن، آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور بڑی حد تک عمران خان کے ناقص فیصلوں کی وجہ سے گزشتہ دو سالوں کے دوران معیشت شدید گراوٹ کا شکار ہے۔ حکومت کے محصولات میں اضافہ نہیں ہوسکا۔ اس کی وجہ سے دفاعی بجٹ میں بھی اضافہ ممکن نہیں ہے۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے نام پر اپنے عہدے میں توسیع حاصل کرنے والے چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ اب عمران خان کو بھارت کے علاوہ سعودی شہزادے، پرنس محمد بن سلمان کے ساتھ روابط بہتر کرنے کی تاکید کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ ستمبر 2019 ء میں وزیراعظم کے ترکی، ملائیشیا اور پاکستان پر مشتمل ایک اسلامی بلاک قائم کرنے کے فیصلے نے پرنس محمد بن سلمان کو ناراض کردیا تھا۔مجوزہ اسلامی بلاک سعودی قیادت میں قائم او آئی سی کے مقابلے پرتشکیل دیا جانا تھا۔ درحقیقت سعودی پرنس اُس وقت بھی شدید برہم ہوئے جب عمران خان نے یک طرفہ طور پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالث کا کردارادا کرنے کی پیش کش کی۔ وہ اتنے ناراض تھے کہ 2020 ء میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کو سہارا دینے کے لیے فراہم کردہ مالی مدد بھی واپس لے لی۔ اس کے بعد اُنہوں نے پاکستان میں ایک پائی بھی سرمایہ کاری نہیں کی ہے۔ تناؤ کم کرنے کے لیے سعودیوں اور عرب امارات کو بھارت کے ساتھ مذاکرات کی سہولت کاری پر مائل کرنے کے بعد اب جنرل باجوہ نے سعودی پرنس سے عمران خان کے لیے دعوت نامہ حاصل کیا ہے تاکہ وہ مالی پیکج کے لیے سعودی عرب کا دورہ کرسکیں۔
سیٹھی کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ عمران خان بھارت کے ساتھ تجارت پر پابندی پر قائم نہیں ہیں۔ اس سے پہلے اُنہوں نے معاشی،سفارتی اور سماجی تعلقات منقطع کرلینے کے باوجود ادویات کو اس فہرست سے استثنیٰ دیا تھا۔ یہ پابندی 2019 ء میں اس وقت لگائی گئی تھی جب نریندر مودی نے جموں اور کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 ختم کردیا تھا۔ہماری حکومت کی ”ضرورت کی خاطر“ یک طرفہ نرمی نے بھارتی میڈیا کو یہ کہنے کا موقع دے دیا کہ پاکستان کشمیر پر اپنے موقف سے قدم پیچھے ہٹا چکا۔ اب ہائی کمشنرز کی اپنے اپنے دفاتر میں واپسی اور ویزوں کا اجرا بھی شروع ہونے اور تعلقات معمول پر آنے کی توقع ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات فوجی اسٹیبلشمنٹ نے بطور خاص اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں کیوں کہ امریکا افغانستان سے انخلا کی پالیسی پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اب طالبان پر کسی قدر اثر رکھنے والا واحد ادارہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ ہے۔ تاہم پاکستان کے سامنے کوئی آسان کام نہیں: سب سے پہلے تو اس نے طالبان کوامریکا کے ساتھ جنگ بندی پر قائل کرنا ہے۔ اس دوران وہاں بھارت کے کردار پر کڑی نظر رکھنی ہے کیوں کہ افغانستان میں نئے ابھرنے والے منظر نامے میں امریکا اور غنی حکومت دونوں افغانستان میں بھارت کے کردار کے حامی ہیں۔ امریکا اور بھارت نے مل کر ایف اے ٹی ایف کی تلوار بھی پاکستان کے سر پر لٹکا رکھی ہے۔ پاکستان کو دیوالیہ ہونے اور عالمی تنہائی سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف کی بات بھی ماننی ہے۔
نجم سیٹھی کے مطابق اس ابھرتے ہوئے منظر نامے کا انتہائی ستم ظریفانہ پہلو یہ ہے کہ ماضی میں پاکستان ایک ایساملک تھا جہاں خارجہ پالیسیاں داخلی سیاست اور معاشی ترقی کو متاثر کرتی تھیں۔ ان خارجہ پالیسیوں کو اسٹیبلشمنٹ کا ”قومی سلامتی“ کا خبط کنٹرول کرتا تھا۔ اس کی مرکزی لکیر بھارت کے ساتھ ہمہ وقت دشمنی، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے پر زور، گویا معروضی حالات میں مسلہ کشمیر کا ناممکن حل تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ حل مزید پیچ دار ہوتا گیا۔ سیٹھی کا کہنا ہے کہ سویلین قیادت بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی جتنی کوشش کرتی، اسٹیبلشمنٹ قدم پیچھے ہٹا کر سیاست دانوں اور سیاسی پیش رفت کو پٹری سے اتار دیتی۔ سویلین حکمرانوں کی جمہوریت اور احتساب کی روایات رکھنے والے ریاستی ادارے قائم کرنے کی ہر کوشش کو اسٹیبلشمنٹ نے کنٹرول میں رکھا۔ جب بھی داخلی عوامل کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کی گرفت ڈھیلی ہوئی، امریکی اس کی مدد کو آگئے۔ اُنہوں نے فوج کو سیاسی حمایت دی، جیسا کہ 1960، 1980 اور 2000 کی دہائیوں میں دیکھنے میں آیا۔
سیٹھی کہتے ہیں کہ امریکہ کی سیاسی حمایت اور مالی معاونت کی وجہ سے پاکستان کے فوجی حکومتوں نے سویلین اور بھارت مخالف بیانیہ توانا رکھا۔ لیکن آج صورت حال اس کے برعکس ہے۔ امریکا سے فوجی اور معاشی امداد ملنے کا دور ہمیشہ کے لیے تمام ہوا۔ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کو رسی کھینچنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ خطے میں چین مخالف طاقت کے طور پر بھارت کے بازو مضبوط کیے جارہے ہیں۔ تاریخ کے اس اہم موڑ پراسٹیبلشمنٹ کو ملک میں ایک مقبول سویلین شراکت دار چاہیے تھا تاکہ پاکستان کو ایک ایسا ”نارمل“ ملک بنایا جاسکے جہاں ملکی سیاست اور معیشت اس کی بیرونی پالیسیوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ مشکل یہ آن پڑی کہ وہ سویلین شراکت دار دور جدید کا شیخ چلی ثابت ہوا ہے۔ یہاں نجم سیٹھی کا اشارہ عمران خان کی جانب ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جتنی جلدی اسٹیبلشمنٹ اپنی خوش فہمی سے نکل آئے اور اپنے گھر کو درست کرلے، اتنا ہی بہتر ہوگا کیونکہ پاکستانی ریاست اور ملکی معیشت کی اسی میں بہتری ہے۔
