آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ سپریم کورٹ کب بھیجا جائے گا؟

مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کے لئے سپریم کورٹ کی جانب سے دی جانے والی چھ مہینے کی مہلت 28 مئی 2020 کو ختم ہورہی ہے تاہم حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کیے جانے کہ باوجود یہ معاملہ ابھی تک سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق اسے ھل۔کر کے واپس نہیں بھجوایا گیا۔
دوسری طرف اس معاملے کو حل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک آئینی ترمیم لانے کی بجائے محض سروسز ایکٹ میں تبدیلی کی گئی ہے جس پر قانونی ماہرین کے تھفظات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر اگر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کر دیا تو حکومت اور جنرل قمر باجوہ دونوں کے لئے شدید مشکلات سر اٹھا سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں آنے والے چند دنوں میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے آرمی ایکٹ میں کی جانے والی آئینی ترامیم پر تنازعہ کھڑا ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ان کے خیال میں حکومت نے اس معاملے پر سپریم کوٹ کی ہدایات کے مطابق قانون سازی نہیں کی ہے۔ ماہرین کا موقف ہے کہ آرمی چیف ایک آیئنی عہدہ ہے جس کی مدت ملازمت میں توسیع پر آیئن خاموش تھا لہذا سپریم کورٹ نے مدت ملازمت میں توسیع کے لیے گنجائش پیدا کرنے کے لیے حکومت کو بذریعہ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کرنے کی مہلت دی تھی اور اس مقصد کے لیے آیئنی ترمیم کرنا ضروری تھی۔ تاہم حکومت نے آئین میں ترمیم کی بجائے صرف آرمی ایکٹ میں ترمیم کرنا ہی مناسب جانا جس سے یہ خدشہ ہے کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں ہوا۔ لہذا آئینی اور قانونی ماہرین کا یہ خیال ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے ہونے والی قانون سازی سپریم کورٹ میں چیلینج ہو سکتی ہے۔
رواں برس جنوری کے اوائل میں پارلیمان سے منظور کیے گئے سروسز چیفس کی مدت معیاد میں توسیع کے حوالے سے بلز کے مسودے پر تنقید کرتے ہوئے معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ میں سروسز چیفس کے حوالے سے حالیہ ترامیم کے نتیجے میں سروسز چیفس کی دوبارہ تعیناتی یا ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے سلسلے میں صدر کو مزید صوابدیدی اختیار دے دیے گئے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ آرمی، نیوی، فضائیہ کے سربراہان اور چیئرمین آف جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے موجود شق میں لفظ شیل (shall) یعنی کریں گے کی جگہ مے (may) یعنی کرسکتے ہیں، کا استعمال کیوں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے پاکستان آرمی ایکٹ کے ترمیمی بل کی شق 8 اے کہتی ہے کہ وزیراعظم کے مشورے پر صدر مملکت ایک جنرل کو 3 سال کی مدت کے لیے چیف آف آرمی اسٹاف تعینات کریں گے۔ تاہم آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی یا توسیع کے حوالے سے شق 8 بی میں کہا گیا کہ’اس ایکٹ یا اس وقت نافذ کسی بھی قانون میں شامل چیزوں کے باوجود صدر وزیراعظم کے مشورے پر چیف آف آرمی اسٹاف کو 3 سال کی مدت کے لیے دوبارہ تعینات کرسکتے ہیں یا ان کی مدت ملازت میں 3 سال کی توسیع کرسکتے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ اس شق کی بھی نشاندہی کر چکے ہیں جس کے تحت اس حوالے سے لیا گیا فیصلہ کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے اور کہا کہ مذکورہ شرط کو بھی اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کی دفعہ 48 کے تحت وزیراعظم صدر کو خط لکھ کر مشورہ دینے کا پابند ہے اس لیے صدر کے حق میں کوئی صوابدید پیدا نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ترمیمی بل میں کہا گیا کہ دوبارہ تعیناتی یا توسیع کے لیے تقرری کرنے والی اتھارٹی کے ذریعے صوابدید کا استعمال کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ سلمان راجہ کے مطابق اس بل نے دوبارہ تعیناتی یا توسیع کو صدر کے صوابدیدی اختیار کے دائرہ کار میں صدارتی فعل بنادیا ہے، یہ بل دوبارہ تعیناتی یا توسیع کو قومی سلامتی اور دیگر ضروریات کی موجودگی سے منسلک کرتا ہے، یہ کس طرح سپریم کورٹ کی اس پٹیشن یا رٹ کو خارج کرسکتا ہے جس میں کہا گیا کہ صوابدید کو معروضی حقائق کی بنیاد پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا سلمان اکرم راجہ کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ اپنے جوڈیشل ریویو کے اختیارکو محدود کرنے کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دے گی۔
تاہم وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کا جو قانون پاس کیا ہے وہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے عین مطابق ہے اور اب اس معاملے میں کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس معاملے میں حتمی فیصلہ سپریم کورٹ ہی کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button