آر ٹی ایس کی طرح الیکشن مینجمنٹ سسٹم بھی بیٹھ گیا؟

8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج میں تاخیر پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نتائج میں تاخیر نے آر ٹی ایس کے بعد ای ایم ایس پر بھی بہت سارے سوالات اٹھا دیئے ہیں۔الیکشن کمیشن میں کروڑوں روپے کی لاگت سے لایا گیا الیکشن مینجمنٹ سسٹم رات گئے تک کوئی رزلٹ مکمل نہ دکھا سکا۔الیکشن کمیشن میں میڈیا پرسنز کے لئے قائم کئے گئے الیکشن سٹی میں بھی الیکشن کمیشن کے حکام اور ترجمان موجود نہ تھے۔ موبائل فون کی بندش کے باعث الیکشن کمیشن کے حکام اور ترجمان سے بھی رابطہ کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔  الیکشن سٹی میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک بڑی سکرین کا اہتمام تو کیا گیا تھا لیکن اس بڑی سکرین پر کوئی بھی رزلٹ رات گئے تک اپ لوڈ نہ کیا جاسکا۔ الیکشن سٹی میں چہ مگوئیاں کی جا رہی تھیں کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے الیکشن مینجمنٹ سسٹم لایا گیا ہے لیکن یہ بھی ماضی کی طرح بند پڑا ہے۔ حالانکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا دعویٰ تھا کہ انٹرنیٹ پر انحصار کیے بغیر نتائج کا بروقت اعلان یقینی بنایا جائے گا لیکن 8 فروری کو انٹرنیٹ کی بندش کے سبب خاص طور پر پریزائیڈنگ افسران کو کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ پریزائیڈنگ افسران مقامی طور پر تیار کردہ ای ایم ایس یعنی الیکشن مینجمنٹ سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے اپنے متعلقہ اسٹیشنز کے حتمی نتائج کی ترسیل سے قاصر نظر آئے، نتیجتاً رات گئے تک الیکشن کمیشن کی جانب سے صرف چند ہی نتائج کا اعلان کیا جاسکا۔

شام تک الیکشن کمیشن اپنے اس دعوے سے کسی حد تک پیچھے ہٹ چکا تھا جب الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار نے کہا کہ پریزائیڈنگ افسران اب اپنے پولنگ اسٹیشنز کے نتائج بذات خود دینے کے لیے اپنے متعلقہ ریٹرننگ افسران کے دفاتر جائیں گے جہاں’انٹرنیٹ سروس بحال ہونے کے بعد’ نتائج سسٹم کے ذریعے منتقل کیے جائیں گے۔ تاہم ابھی تک الیکشن رزلٹ کا اعلان نہیں کیا جا سکا۔ دوسری جانب  الیکشن کمیشن نے نتائج مرتب کرنے اور اعلان میں تاخیر کے لیے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز کی معطلی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہےاور الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے کوئی بھی نتائج کی ان کی طرف سے تصدیق نہیں کی گئی۔

دوسری جانب وہ ماہرین جو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دعوے پر پہلے ہی شکوک و شبہات کا شکار تھے، ان کا کہنا ہے کہ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ٹیلی کام ایکسپرٹ انصار الحق نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل دور میں یہ دعویٰ پہلے ہی کوئی قابل عمل حل نہیں لگ رہا تھا کہ پریذائیڈنگ افسران انتخابی نتائج آف لائن منتقل کریں گے، دوسرا یہ کہ براہ راست رابطے کے بغیر ایسا کرنا اس عمل کی تصدیق اور شفافیت میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے جوکہ عالمی سطح پر انتخابی عمل پر اعتماد کے لیے بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش انتخابات کی شفافیت پر پردہ ڈال سکتی ہے، جس سے انتخابی عمل پر عوامی اور بین الاقوامی سطح پر خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

Back to top button