آزادی صحافت: پاکستان کے 100 میں سے صرف 30 نمبرز


پاکستان میں آزادی اظہار رائے پر عائد کردہ ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی بندشوں اور سینسر شپ پر اب بین الاقوامی اداروں نے بھی آوازیں بلند کرنا شروع کردی ہیں اور قرار دیا ہے کہ کپتان سرکار کے برسراقتدار آنے کے بعد سے غیر اعلانیہ سنسر شپ کا شکار پاکستانی میڈیا آزادی اظہار رائے کے حوالے سے شدید ریاستی جبر کا شکار ہے اور آزادی اظہار کی صورتحال بدترین ہو چکی ہے۔ پاکستان میں صحافتی آزادیوں اور صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی تازہ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر پاکستان نے آزادی اظہار کے معاملے پر 100 میں سے صرف 30 نمبر حاصل کیے ہیں، اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس، آزادی صحافت، قانونی تحفظات سمیت سیاسی و سماجی تحفظ جیسے معاملات کا فقدان دیکھا گیا ہے۔

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی جانب سے کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں 2020 میں آزادی اظہار کی صورتحال مزید بدتر ہوئی۔ اس حوالے سے پاکستان فریڈم آف ایکسپریشن رپورٹ 2020کے عنوان سے خصوصی تحقیقاتی رپورٹ کو میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی، پاکستان پریس فاؤنڈیشن، سینٹر فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو اور یورپین یونین نے مشترکہ طور پر شائع کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کرونا کی وبا کے باعث جہاں گزشتہ برس پاکستانی صحافیوں اور آزادی اظہار رائے کے لیے کام کرنے والے ارکان اور اداروں کو مشکلات پیش آئیں، وہیں نئے حکومتی قوانین نے بھی آزادی اظہار رائے کے پیمانے کو مزید نیچے کردیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں صحافیوں اور آزادی اظہار کے لیے کام کرنے والے کارکنان کے قانونی تحفظات، آزادی صحافت، ڈیجیٹل اظہار رائے، اجتماعیت، سیاسی و سماجی ماحول، اور اظہار رائے کے معاملات مزید بد تر ہوگئے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں پاکستان میں آزادی اظہار، ڈیجیٹل رائٹس، قانونی تحفظات، آزادی صحافت، سیاسی و سماجی تحفظ سمیت 6 شعبوں کی کارکردگی کو دیکھا گیا اور سروے بھی کیا گیا۔ اس سروے کے بعد مذکورہ 6 شعبوں میں ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آزادی اظہار کے حوالے سے پاکستان کو نمبرز دیے گئے ہیں۔

مجموعی طور پر پاکستان نے آزادی اظہار کے معاملے پر 100 میں سے صرف 30 نمبر ہی حاصل کیے، کیوں کہ ملک میں ڈیجیٹل رائٹس، آزادی صحافت، قانونی تحفظات سمیت سیاسی و سماجی تحفظ جیسے معاملات کا فقدان دیکھا گیا۔ رپورٹ کے نتائج میڈیا، سیاست، انسانی حقوق، قانون، اور تدریس کے شعبوں سے وابستہ ماہرین سے سروے کیے جانے کے بعد اخذ کیے گئے۔سروے میں شامل زیادہ تر افراد نے آزادی صحافت، ڈیجیٹل رائٹس، قانونی تحفظات اور سیاسی و سماجی تحفظ سمیت کسی شعبے کو مکمل یعنی 100 نمبر نہیں دیے۔
رپورٹ میں سال 2020 میں حکومتی اداروں کی جانب سے آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے لیے بنائے گئے قوانین کا ذکر بھی کیا گیا اور بتایا گیا کہ پاکستان میں پیمرا اور پی ٹی اے نے اظہار رائے اور آن لائن مواد پر اکثر اوقات صوابدیدی قدغن لگائی اور سوشل میڈیا، تفریحی پروگراموں، اور سیاسی اور سماجی امور پر خبروں اور تبصروں کے خلاف اقدامات اٹھائے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ برس صحافی جسمانی، قانونی اور ڈیجیٹل دھمکیوں کی زد میں رہے جبکہ ان کے تحفظ کے حوالے سے کوئی قانون سازی بھی نہ کی جا سکی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ برس خواتین صحافیوں کو خاص طور پر سوشل میڈیا پر منظم حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال میڈیا سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد قتل ہوئے، 36 صحافیوں کو کام کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا، 10 کو حراست میں لیا گیا، اور 23 کے قریب صحافیوں کو رپورٹنگ یا ان کے آن لائن اظہار رائے کے حوالے سے عارضی طور پر حبس بےجا میں رکھا گیا۔ رپورٹ میں حکومت کو کچھ تجاویز بھی دی گئی ہیں، جن میں سے حکومت کو صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین نے پاکستان میں آزادی اظہار پر عائد ریاستی بندشوں پر آواز بلند کرتے ہوئے حکومت پاکستان کو وارننگ دی ہے کہ اگر صحافت اسی طرح پابند رہی تو یورپی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں جس سے ملک کی لڑکھڑاتی معیشت مزید دگرگوں ہوجائے گی۔
پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر انڈرولا کامینارا کا کہنا ہے کہ آزادی اظہار رائے بنیادی حقوق کے یورپین چارٹر میں شامل ہے، یہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان جی ایس پی پلس اسٹیٹس اور انسانی حقوق کی صورتِ حال کے حوالے سے ایک اہم ترین پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی تازہ رپورٹ میں پاکستان میں صحافیوں کو درپیش مشکلات اور خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے اور تحفظات سے آگاہ کیا گیا ہے۔

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی رپورٹ کے حوالے سے پاکستانی حکومت کا روایتی موقف یہی ہے کہ پاکستان میں آزادیٔ اظہارِ رائے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ حکومت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ صحافیوں کے خلاف کسی قسم کی پابندیاں عائد نہیں کی جا رہیں۔ تاہم دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سابق صدر افضل بٹ کہتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت جو صورتِ حال ہے وہ صرف صحافیوں کے لیے نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کے لیے بھی نامناسب ہے۔ افضل بٹ کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کو خبردار کر چکے تھے کہ سینسرشپ کی صورتِ حال کو بہتر بنانا ہو گا لیکن ان کے مطابق حکومت نے اس معاملے پر اب تک کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سینسرشپ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی بنتی جا رہی ہے اور کہا کہ اس سے بین الاقوامی ادارے پاکستان کی رینکنگ، بالخصوص یورپی یونین میں پاکستان کے جی ایس پی پلس درجے پر اثر پڑسکتا ہے لیکن حکمران اب تک اس صورتِ حال سے نظریں چرا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button