آزاد کشمیر الیکشن میں PPP اور PMLN ایک دوسرے کے مد مقابل؟

پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کی جانب سے ن لیگ کے ساتھ انتخابی اتحاد کی تجویز رد کیے جانے کو اپوزیشن اتحاد کے لئے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے تاہم پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ وہ پی ڈی ایم کی حد تک تو اکٹھے ہیں لیکن قومی سیاست میں ہر پارٹی کو اپنا علیحدہ تشخص برقرار رکھنے کا حق حاصل ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے گلگت بلتستان کے الیکشن میں بھی پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے ایکدوسرے کی مدد نہیں کی تھی جس کے نتیجے میں وہاں تحریک انصاف نے اپنی حکومت بنا لی۔
ایک ایسے وقت میں جب مرکز میں برسراقتدار تحریک انصاف نے گلگت کے بعد آزاد کشمیر کا الیکشن جیتنے کے لیے بھی نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے الیکٹیبلز کو توڑنا شروع کردیا ہے، پیپلزپارٹی نے کشمیر کی برسراقتدار پارٹی نون لیگ کے ساتھ ساتھ انتخابی الائنس نہ بنانے اور اپنے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کا عندیہ دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کا یہ اقدام اپوزیشن کی سیاست کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں ایک تو حکومت مخالف ووٹ تقسیم ہوگا اور دوسرا اس سے یہ تاثر پختہ ہوگا کہ پی ڈی ایم میں شامل دونوں بڑی اپوزیشن جماعتیں مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے ایک پیج پر نہیں ہیں۔
تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت کا موقف ہے کہ گلگت بلتستان یا آزاد کشمیر کی سیاست کا پاکستانی سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور وہاں اگر پیپلزپارٹی اور نوازلیگ ایک دوسرے کے خلاف اپنا علیحدہ تشخص برقرار رکھتے ہوئے الیکشن لڑیں تو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ پیپلز پارٹی والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر الیکشن کے بعد ازاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی حکومت بنتی نظر آئی تو پھر پیپلزپارٹی اور نوازلیگ اکٹھے ہو کر مخلوط حکومت بنانے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر کی پارٹی قیادت سے آئیندہ الیکشن کے بارے تجاویز مانگی تھیں جس پر انہیں تجویز دی گئی کی کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں ان کا اصل مقابلہ ہی ن لیگ سے ہے، لہذا اس سے سیاسی اتحاد کرنا اپنی سیاست خراب کرنے کے مترادف ہو گا۔ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چیپٹر کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کی 33 نشستوں پر نون لیگ سے سیاسی اتحاد کسی طور ممکن نہیں ہے البتہ مہاجرین کی 12 نشستوں پر سیاسی اتحاد یا ایڈجسٹمنٹ کی بات ہوسکتی ہے۔ پیپلزپارٹی آزاد کشمیر نے اپنی تجاویز پارٹی قیادت کو بھجوا دی ہیں تاہم پارٹی قیادت نے اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم غالب امکان یہی ہے کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں نون لیگ کے ساتھ الیکشن اتحاد نہیں بنائے گی۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ ماضی میں آزاد جموں کشمیر پر باری باری حکومت کرتے رہے ہیں۔ اب چونکہ وہاں راجہ فاروق حیدر کی قیادت میں نون لیگ کی حکومت ختم ہونے کے قریب اور پیپلز پارٹی اپنے ووٹ بینک اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تاریخی موقف کی بنیاد پر الیکشن جیتنے کی خواہاں ہیں اس لئے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے مرکزی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ کشمیر کے الیکشن میں نون لیگ کے ساتھ ساتھ انتخابی اتحاد بنانے کی بجائے اس کا مقابلہ کیا جائے۔ تاہم نون لیگ واکے کہتے ہیں کہ ایسا کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کی کشمیری قیادت شاید یہ بھول رہی ہے کہ مرکز میں برسراقتدار جماعت ہی ہمیشہ سے آزاد کشمیر میں حکومت بناتی آئی ہے۔ اس وقت بھی تحریک انصاف حکومت گلگت بلتستان کا معرکہ سر کرنے کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہی ہے۔
تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی آزادکشمیر کے الیکٹیبلز کو توڑ کر تحریک انصاف میں شامل کروا رہی ہے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آزاد کشمیر کے سیاسی منظر نامے پر تحریک انصاف بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرنے جا رہی ہے جو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کے تیور دیکھتے ہوئے آزاد کشمیر بچانے کے لیے نون لیگ اور پیپلزپارٹی کو مل کر الیکشن لڑنا چاہیے۔ بصورت دیگر نون لیگ اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے مدمقابل آ کر نہ صرف تحریک انصاف کے مقابلے میں اپنا ووٹ ضائع کریں گی بلکہ اس سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے کاز کو بھی شدید دھچکا لگے گا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی پی کی آزادکشمیر شاخ نے اپنی تجاویز بلاول بھٹو کو بھجوائی ہیں تاہم اس حوالے سے پیپلز پارٹی نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ممکنہ طور پر پی ڈی ایم کے آئندہ اجلاس میں آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دونوں جماعتوں میں مفاہمتی سوچ رکھنے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ بعید از قیاس نہیں کہ اپوزیشن اتحاد میں شامل تمام جماعتیں آزاد کشمیر الیکشن میں مشترکہ امیدوار میدان میں اتاریں جیسا کہ سینیٹ انتخابات میں بھی مشترکہ امیدوار لانے کا عندیہ دیا جا چکا ہے۔
