آزاد کشمیر مارچ کے شرکاء ایل او سی پار کرنے کیلئے پرعزم

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ اور انسانیت سوز مظالم پر عالمی دنیا کی توجہ مبذول کروانے کیلئے آزاد کشمیر کے ہزاروں شہریوں کا ایل او سی عبور کرنے کےلیے آزادی مارچ جاری ہے.جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کی کال پر آزاد کشمیر بھر سے قافلے کنٹرول لائن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ آزادی مارچ میں بزرگ، خواتین اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان شریک ہیں جبکہ مارچ کے شرکاء کو لائن آف کنٹرول کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لئے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت آزاد کشمیر نے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کا آزادی مارچ گزشتہ روز گڑھی دوپٹہ سے کنٹرول لائن چکوٹھی پہنچا تھا۔ مارچ کے شرکاء چناری پہنچے جہاں سے کنٹرول لائن جانے کے لیے شاہراہ سری نگر پر پیدل مارچ کیا۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کےآزادی مارچ کے شرکاء نے آج پھر کنٹرول لائن جانے کا اعلان کیا ہے، کل شرکاء کو ایل او سی سے 6 کلومیٹر دور روک دیا گیا تھا۔ کنٹرول لائن سے چھ کلو میٹر دور جسکول کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری نے پہلے ہی کنٹینر اور خاردار تاریں لگا کر راستہ بند کر رکھا تھا، شرکاء کو وہیں روک دیا تھا.
دوسری طرف وزیر اطلاعات آزاد کشمیر مشتاق منہاس کا کہنا ہے کہ مارچ کے شرکاء کو چناری تک جانے کی اجازت ہوگی۔ مظاہرین کو کسی صورت لائن آف کنٹرول کی طرف جانے نہیں دے سکتے۔‘ مشتاق منہاس نے مزید کہا کہ ہم نہتے لوگوں کو لائن آف کنٹرول جانے سے روکیں گے مارچ کے شرکاء کوچناری سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مارچ کے شرکا کو روکنے کے لیے چناری سے دو کلومیٹر آگے رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور بھاری نفری بھی تعینات ہے۔ 600 سے زائد پولیس اہلکار اس وقت مارچ کے شرکا ء کو روکنے کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے مظاہرین سے درخواست کی ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول عبور نہ کریں ایسا کرنے کا مطلب ایک نئے ’وار زون‘ میں داخل ہونا ہوگا۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ترجمان رفیق ڈار کا کہنا ہے کہ اگر رکاوٹیں دور نہ کی گئیں وہ ہم سڑک پر دھرنا دیں گے اور انتظامیہ سے مطالبہ کریں گے کہ رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور پر امن طریقے سے مقبوضہ کشمیر کے باشندوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے لائن اف کنٹرول کی طرف جانے دیا جائے۔ جموں کشمیر لبریش فرنٹ نے پاکستان اور انڈیا کی حکومتوں کے مارچ کے حوالے سے بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مارچ سے انڈین حکومت کا کوئی تعلق ہے نہ ہی پاکستان کی حکومت کا اس میں کوئی کردار ہے۔رفیق ڈار نے کہا ہے کہ ’یہ مارچ ہمارا خود مختار اور آزاد فیصلہ ہے، ہمیں کسی سے (دونوں حکومتوں) بھی سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
وفاقی حکومت آزاد کشمیر مارچ کے شرکاء سے نمٹنے کی خاطر طاقت کا استعمال کرنے سے اس لیے گریزاں ہے کہ ایسا کرنے سے اس کا موازنہ جموں کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ کیا جائے گا جو کہ کشمیری عوام کو طاقت کے زور پر دبا رہی ہے۔ حکومت پاکستان بھی نہیں چاہتی کہ جے کے ایل ایف کے کارکنان ایل او سی پار کریں کیوں کہ اس طرح بھارت سرحدی خلاف ورزی کا واویلا مچا کر جنگ کی ابتدا کر سکتا ہے۔ اگر بھارت کی جانب سے مارچ کے شرکاء پر فائرنگ کی تو بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا بھی خدشہ ہے۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ کسی نے ایل او سی کراس کی تو وہ بھارتی بیانیے کی سپورٹ ہوگی، بھارتی فوج نے غیر انسانی عمل کرتے ہوئے 2 ماہ سے کرفیو لگا رکھا ہے، ایل او سی کراس کرنا بھارتی بیانیے کے ہاتھوں کھیلنے کے مترادف ہو گا۔ ایل اوسی کی خلاف ورزی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بڑھانے کا بہانہ فراہم کرے گی۔عمران خان کا کہنا ہے کہ ایل اوسی کی خلاف ورزی کو بہانہ بنا کر بھارت ایل او سی کے پار حملہ کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے آزادی مارچ کا آج چوتھا روز ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button