آزاد کشمیر میں الیکشن سے پہلے کپتان حکومت کو شکست

آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن نے حکومت پاکستان کی جانب سے ریاست میں ہونے والے الیکشن کم از کم دو ماہ تک ملتوی کرنے کا مطالبہ رد کرتے ہوئے 25 جولائی کو الیکشن کروانے کا اعلان کردیا ہے۔
یاد رہے کہ وفاق میں برسراقتدار حکمران جماعت تحریک انصاف آزاد کشمیر میں سیاسی انجینئرنگ کے لیے دو مہینے کی مہلت چاہتی تھی لہذا اس نے کرونا وائرس کی آڑ میں آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن کو دو ماہ کے لیے انتخابات ملتوی کرنے کے لیے کہا تھا۔ تاہم آزاد کشمیر میں حکمران جماعت مسلم لیگ اور اپوزیشن جماعتوں نے اس مطالبے کی شدت سے مخالفت کی تھی۔ تاہم آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت کا مطالبہ یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ان کے آئین میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں کہ الیکشن کو ملتوی کیا جا سکے۔
آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر کے جسٹس ریٹائرڈ عبدالرشید نے 9 جون کو اعلان کیا کہ خطے کی قانون ساز اسمبلی کے لیے عام انتخابات 25 جولائی کو عیدالاضحیٰ کے تیسرے یا چوتھے روز ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ 45 براہ راست نشستوں میں سے 33 آزاد جموں و کشمیر کے علاقے میں واقع ہیں جہاں 28 لاکھ 17 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 12 لاکھ 97 ہزار خواتین شامل ہیں، جبکہ 12 پاکستان کے دیگر حصوں کی ہیں جس کے 4 لاکھ 30 ہزار 456 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں ایک لاکھ 70 ہزار 931 خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان 12 نشستوں پر انتخابات کرانے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے عہدیداران کو ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کے عہدے پر آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کے حوالے کرے گا۔ چنانچہ اب 28 لاکھ سے زائد ووٹرز 25 جولائی کو حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں اور روایتی سیاسی جوڑ توڑ کا آغاز ہو چکا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹکٹ ملنے والے سو امیدواروں میں صرف تین خواتین ہیں۔ 25 جولائی کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے سے قبل ہی تین بڑی جماعتیں بیشتر حلقوں سے اپنے اپنے اُمیدوار نامزد کر چکی ہیں تاہم ان میں خواتین کا تناسب انتہائی کم ہے۔ جن تین خواتین کو ٹکٹ ملے ہیں ان میں سے ایک کا تعلق تحریک انصاف اور دوسری کا تعلق مسلم کانفرنس سے ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے کسی خاتون امیدوار کو نامزد نہیں کیا ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے ابھی تک اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا لیکن اس کے بعض عہدیداروں کو توقع ہے کہ ان کی جماعت بھی دو خواتین امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرے گی۔
آئندہ قانون ساز اسمبلی میں ارکان کی کل تعداد 53 ہو گی جبکہ گذشتہ اسمبلی میں یہ تعداد 49 تھی۔ 53 نشستوں میں سے 45 جنرل نشستوں پر بالغ رائے دہی کے اصول کے تحت براہ راست انتخابات ہوں گے۔جنرل نشستوں میں سے 12 نشستیں پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں وکشمیر کے لیے مختص ہیں۔ آٹھ مخصوص نشستوں میں سے خواتین کے لیے پانچ جبکہ علما و مشائخ، ٹیکنو کریٹس اور بیرون ملک کشمیریوں کے لیے ایک ایک نشست مختص ہے۔ان مخصوص نشستوں پر بالواسطہ انتخابات ہوتے ہیں اور جنرل نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدوار مخصوص نشستوں کے لیے امیدوار منتخب کرتے ہیں۔ خواتین کی ایک نشست پر نامزدگی کے لیے اسمبلی میں نو ووٹ جبکہ دیگر نشستوں کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔
حالیہ انتخابات کی طرح ماضی میں بھی سیاسی جماعتیں جنرل نشستوں پر خواتین امیدواروں کو نامزد کرنے سے ہچکچاتی رہی ہیں اور زیادہ تر خواتین مخصوص نشستوں پر ہی منتخب ہو کر اسمبلی پہنچ پاتی ہیں۔
ماضی کی تمام اسمبلیز میں جنرل نشستوں پر براہ راست انتخابات جیتنے والی خواتین کی تعداد بھی انتہائی کم رہی۔
2016 میں ہونے والے انتخابات میں بھی کل 423 امیدواروں میں صرف آٹھ خواتین شامل تھیں جن میں سے تین آزاد امیدوار، دو پیپلز پارٹی، ایک مسلم لیگ ن، ایک مسلم کانفرنس اور ایک متحدہ جموں کشمیر نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر براہ راست انتخابات میں شامل ہوئی تھیں۔ ان آٹھ میں سے صرف ایک خاتون ہی انتخابات جیتنے میں کامیاب ہو سکی تھیں۔
تجزیہ کار خواتین کی سیاسی عمل میں عدم دلچسپی اور سیاسی شعبہ کا خواتین کے لیے ساز گار نہ ہونا اس کی وجہ بتاتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں خواتین کی تقریباً 50 فیصد آبادی کو ایک اقلیت کے طور پر دیکھنا اور ان کو محض مختص نشستوں پہ جگہ دینا دراصل انہیں عملی سیاست سے لاتعلق کردینے کے مترادف ہے۔‘ جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی نامی نسبتاً نئی اور غیر معروف سیاسی جماعت کی سربراہ نبیلہ ارشاد کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اقتدار پر قابض رہنے والی سیاسی جماعتوں کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ کوئی عام آدمی، خاص طور پر خواتین ایوان اقتدار تک نہ پہنچ سکیں۔ ان کے مطابق: ’سیاسی جماعتوں پر دادا، باپ اور پوتا قابض رہتے ہیں۔ جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں تو جمہوری رویے کیسے پروان چڑھیں گے اور عام کارکنان کو کیسے موقع ملے گا؟ جو خواتین عملی سیاست میں آتی ہیں ان کا تعلق لازماً کسی سیاسی یا سرمایہ دار خاندان سے ہوتا ہے۔ مخصوص نشستوں پر نامزدگی میں عموماً اسی اصول کے تحت ہوتی ہے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ سیاست پر قابض خاندانوں سے جان چھڑانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ عام لوگوں کی سیاسی تربیت کی جائے اور انہیں شعور دیا جائے اور ان کی جماعت کے قیام کا بنیاد مقصد ہی یہی ہے۔
لیکن دوسری نواز لیگی قیادت کا کہنا ہے ہر کہ ہر جماعت الیکشن جیتنے کی خواہشمند ہوتی ہے اور وہ بہتر سے بہتر امیدوار نامزد کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس لیے امیدوار نامزد کرتے وقت صنفی بنیادوں پر فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ امیدوار کی قابلیت اور عوام کے ساتھ اس کے تعلق کو پیمانہ بنایا جاتا ہے۔
