آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کے تینوں گروپ ناراض

وزارت عظمیٰ کے لئے نظر انداز کئے جانے کے بعد اپنے دھڑے کے لیے من پسند وزارتیں نہ ملنے پر ارب پتی نووارد سیاست دان سردار تنویر الیاس نے بطور سنیئر وزیر آزاد کشمیر کابینہ سے استعفے دینے کا ذہن بنا لیا ہے جس کے باعث تحریک انصاف حکومت ابتدا میں ہی الجھن کا شکار ہونے جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کے تینوں دھڑے یعنی بیرسٹر سلطان محمود گروپ، سردار تنویر الیاس گروپ اور سردار قیوم گروپ ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں اور بنیادی مسئلہ وزارتوں کا ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بنائے جانے کی بجائے صدر اور سینئر وزیر بنائے جانے والے سلطان محمود اور سردار تنویر الیاس دونوں ہی وزیر اعظم سردار عبدالقیوم نیازی سے نالاں تھے اور ان کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار نہیں تھے لیکن آزاد کشمیر کی کابینہ کا اعلان ہونے کے بعد سردار تنویر الیاس گروپ ناراض ہو گیا ہے چونکہ ایک تو اسے وزارتیں کم ملی ہیں اور دوسرا اچھی والی سلطان محمود گروپ کو مل گئی ہیں۔ تاہم سلطان محمود گروپ کا کہنا ہے کہ چونکہ سردار تنویر الیاس کو سینئر وزیر بنایا گیا ہے اس لئے باقی اچھی وزارتیں ان کے گروپ کو ملی ہیں۔ دوسری جانب سردار تنویر الیاس گروپ کا موقف ہے کہ چونکہ سلطان محمود کو صدر کا اہم ترین عیدہ ملا ہے اس لیے ذیادہ وزارتیں ان کا حق بنتا تھا۔ چنانچہ سردار تنویر نے مستعفی ہونے پر غور شروع کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ سردار تنویر الیاس خان آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے لئے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے لیکن عمران خان نے قرعہ سردار عبدالقیوم نیازی کے نام نکال کر سب کو حیران کردیا تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آگے چل کر مزید مشکلات کا شکار ہوگی چونکہ پچھلی حکومت میں وزارتوں کی تعداد زیادہ تھی جو کہ ایک ترمیم کے ذریعے کم کر کے 16 کر دی گئی ہیں اس لیے اب جب کہ پارٹی کے تین دھڑے بن چکے ہیں تو ہر دھڑے کو وزارتوں کی طلب ہے۔ آزاد کشمیر کے عبوری ایکٹ 74 میں 13ویں ترمیم کے بعد کابینہ میں 16 سے زائد وزرا نہیں ہوں گے، یاد رہے کہ اس ترمیم سے قبل فاروق حیدر نے 53 رکنی ایوان میں 25 وزیر بنائے تھے۔
13ویں آئینی ترمیم کے بعد 53 ارکان کی اسمبلی میں 30 فیصد سے زائد وزراء نہیں ہوسکتے، مشیر اور معاونین خصوصی دو،دو، پارلیمانی سیکرٹریز 5 ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب سردار تنویر کے قریبی ساتھیوں کا موقف یے کہ 2016 کےانتخابات میں تحریک انصاف آزاد کشمیر اسمبلی کی صرف دو نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی چنانچہ جب حالیہ الیکشن سے قبل وزیراعظم عمران خان نے سردار تنویر الیاس کو آزاد کشمیر میں پارٹی کو فعال اور انتخابات میں کامیاب کرانے کا ٹاسک سونپا تو انہوں نے سینکڑوں اہم شخصیات کو پی ٹی آئی میں شامل کروایا اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی میں اہ۔ ترین کردار ادا کیا تھا۔ لیکن جب پارٹی الیکشن جیت گئی تو وزیر اعظم سردار تنویر سے کیے ہوئے وعدے سے پھر گے اور ایک غیر معروف شخص کو وزیراعظم کے عہدے پر فائز کر دیا۔ ذرائع کے مطابق تنویر الیاس نے وزیراعظم کے اصرار اور یقین دہانیوں پر سینئر وزیر بننے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اب اپنے دھڑے کو مطلوبہ تعداد میں وزارتیں نہ ملنے کے بعد انہوں نے کابینہ سے استعفے بارے اپنے قریبی ساتھیوں کو اعتماد میں لے لیا ہے اور جلد کابینہ چھوڑ دیں گے۔۔
ذرائع کےمطابق سردارتنویر الیاس کابینہ کے پہلے اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے۔ دوسری جانب سردار تنویر کے ترجمان نے مستعفی ہونے کی اطلاعات کی تصدیق یا تردید سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد سے باہر ہیں، اور مظفرآباد میں کابینہ کے ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ آزادکشمیر کابینہ کے پہلے تعارفی اجلاس میں سردار تنویر الیاس خان کے علاوہ سردار میراکبر خان، اکمل سرگالہ ،بیگم شاہدہ صغیر ،علی شان سونی اور مشیر اکبر چوہدری بھی شریک نہیں ہوئے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ بیرسٹر سلطان اور تنویر الیاس نے پارلیمانی پارٹی کے الگ الگ اجلاس طلب کیے، اور کابینہ کی تشکیل کا اختیار آزاد کشمیر کی قیادت کو نہ ملنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔سردار تنویر الیاس کی قیادت میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اسپیکر سمیت اراکین اسمبلی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ دوسری جانب آزاد کشمیر میں پارٹی صدر بیرسٹر سلطان محمود کی زیر صدارت بھی ہم خیال ارکان اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں سردار تنویر الیاس کے خلاف جارحانہ تقاریر کی گئی اور وزیر اعظم سردار قیوم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان حالات میں سردار تنویر الیاس کی جانب سے استعفے دینے کی دھمکی کا بنیادی مقصد اپنے گروپ کے لیے آزاد کشمیر کی کابینہ میں زیادہ سے زیادہ وزارتیں حاصل کرنا ہے۔ تاہم عمران خان کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ اگر وہ سلطان محمود گروپ کو زیادہ وزارتیں نہ دیتے تو انکا گروپ ناراض ہو جاتا۔ لیکن اب سردار تنویر الیاس ناراض ہوگئے ہیں۔
