آزاد کشمیر کا سیکٹر کمانڈر کس الزام میں فارغ ہوا؟

باخبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آزاد کشمیر میں تعینات ایک خفیہ ایجنسی کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر نعیم ملک کو 25 جولائی کے الیکشن میں پولیٹیکل انجینئرنگ کرنے اور ایک پی ٹی آئی امیدوار کو وزیراعظم بنوانے کے وعدے کے عوض بھاری رقم بطور رشوت لینے کے الزام میں فارغ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا یے کہ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں تعینات آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر نعیم پر الیکشن کے لیے پی ٹی آئی ٹی کی ٹکٹوں کی میرٹ کے خلاف تقسیم کے سنگین الزامات پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بریگیڈیئر نعیم پر جموں و کشمیر میں کک بیکس کے عوض تعمیراتی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے الزام کے علاوہ آزاد کشمیر کی ایک معروف کاروباری شخصیت سے کشمیر کا وزیراعظم منتخب کروانے کے وعدے کے عوض ایک ارب روپے وصول کرنے کے الزامات سامنے آئے تھے جنکی انکوائری کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بریگیدئیر نعیم کو فارغ کرتے ہوئے بریگیڈئیر ندیم کو نیا سیکٹر کمانڈر تعینات کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں قصوروار پائے جانے پر بریگیڈئیر نعیم ملک کے کورٹ مارشل کی کارروائی کی بھی سفارش کردی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود، جو ماضی میں میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم رہ چکے ہیں، انہوں نے یہ الزام لگایا تھا کہ مظفرآباد میں آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیر نعیم ملک انہی کی جماعت تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ایک انتہائی بااثر اور متمول امیدوار کو وزیراعظم بنانے ک لئے دوڑ دھوپ کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے اس سیاسی شخصیت سے ایک ارب روپے رشوت وصول کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بطور سیکٹر کمانڈر برطرف ہونے والے بریگیڈئیر نعیم نے اسلام آباد میں واقع مشہور شاپنگ مال سینٹورس کے مالک الیاس تنویر کو آزاد کشمیر کا وزیرِا عظم بنانے کے عوض ایک ارب کی ڈیل کی تھی اور دس کروڑ روپے بطور ٹوکن منی وصول کیے تھے۔ دوسری طرف تحریک انصاف آزاد کشمیر انتخابات میں الیاس تنویر کو ٹکٹ بھی دینے کے لئے راضی نہیں تھی لیکن برگیڈیئر نعیم نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے انہیں ٹکٹ بھی دلوا دیا۔ تجزیہ کاروں کہ کہنا ہے کہ الیاس تنویر کو رشوت دینے کے عمل پر ان انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دینا چاہیے تھا لیکن وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور سے دوستی اور “مبینہ سیٹنگ” کی وجہ سے وہ بدستور اپنی الیکشن مہم چلا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بریگیڈیئر نعیم ملک پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے نون لیگ سے تعلق رکھنے والے آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کو ضرورت سے زیادہ آزادی دے کر کر ریاست کی اعلی عدلیہ میں ججز کی تقرری کے حوالے سے حکومت پاکستان کے کردار کو کم کیا اور بعض آئینی ترامیم کروانے میں بھی غیر ضروری اور غیر آئینی کردار نبھایا۔ فارغ کیے جانے والے بریگیڈیئر نعیم پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے سیکٹر انچارج کی حیثیت سے سے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں تعمیراتی ٹھیکوں میں بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا اور اپنے ذاتی فائدے کے لیے بعض کمپنیز کو میرٹ کے برعکس ٹھیکے دلوائے۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تک جب بریگیڈیئر نعیم ملک کے حوالے سے شکایات پہنچیں تو جنرل باجوہ نے انکوائری کروائی جس میں بریگیڈیر نعیم ملک قصور وار ثابت ہوئے لہذا انہیں فارغ کرکے بریگیڈیئر ندیم کو آزاد کشمیر کا نیا سیکٹر کمانڈر تعینات کردیا گیا ہے۔
