آصف زرداری پر گوئبلز کے چھچھورے الزامات، سچ کیا ہے؟


دسمبر 1987ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے شریک حیات بننے کے بعد سے آصف علی زرداری کے مخالفین اور حاسدین میڈیا کے ذریعے مسلسل انکی کردار کشی کی مہم چلانے میں مصروف ہیں اور ان پر طرح طرح کے بے بنیاد اور بے سروپا الزام لگاتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کے خلاف منظم طریقے سے اور متواتر جھوٹ بولا اور بلوایا گیا تاکہ انکی شخصیت کی پرسیپشن خراب کی جا سکے۔ اس پروپیگنڈے کا بنیادی مقصد بے نظیر بھٹو کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔ تاہم آصف زرداری کی کریکٹر اسیسی نیشن کا یہ سلسلہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بھی جاری ہے کیونکہ بی بی کو جسمانی طور پر مٹائے جانے کے باوجود آصف زرداری نے جس دانشمندی سے انکی سیاسی وراثت اور بچوں کو سنبھالا اس نے اسٹیبلشمنٹ کے سارے اندازے اور منصوبے خاک میں ملا دیئے۔
تاہم آج بھی آصف زرداری کے خلاف کوئی بودے سے بودا الزام بھی سامنے آئے تو انکے خلاف اندھی نفرت اور تعصب کی آگ میں بھڑکتے ہوئے لوگ اسے فوراً ہوا دینا شروع ہو جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں اپنی چیخوں کے حوالے سے معروف تحریک انصاف کے وفاقی وزیر مراد سعید نے ایک بہت پرانا اور گھسا پٹا الزام دہراتے ہوئے کہا آصف علی زرداری سیاست میں آنے سے پہلے سینما کے ٹکٹ بلیک کیا کرتے تھے۔ آئیے جانتے ہیں کہ سچ کیا ہے؟
آصف علی زرداری 26 جولائی 1955ء کو کراچی میں سردار حاکم علی زرداری مرحوم کے گھر پیدا ہوئے۔ آصف زرداری اولادِ نرینہ میں اکلوتے ہیں۔ حاکم علی زرداری ایک قبائلی سردار اور ممتاز زمیندار تھے۔ نواب شاہ میں ان کی ہزاروں ایکڑ زمین تھی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایوب خان کے دور میں انکی تقریباً آٹھ ہزار ایکڑ زمین لینڈ ریفارمز میں چلی گئی۔ کہتے ہیں کہ نہری نظام آنے سے قبل ان کے آباؤ اجداد کے پاس دس ہزار اُونٹ تھے۔
حاکم زرداری کا  اندرونِ سندھ زمینداری کے علاوہ کراچی میں بھی کاروبار تھا۔ اُنھوں نے ساٹھ کی دہائی کے شروع میں عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاست شروع کی۔ وہ 1965ء میں ضلع کونسل نواب شاہ سے ممبر منتخب ہوئے اور 1970ء کے اِنتخابات میں نواب شاہ سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر پہلی بار ایم این اے بنے تھے۔ اِن کی انتخابی مہم کی خصوصی بات یہ تھی کہ نور جہاں کے خاوند اعجاز درانی اور کمپئیر طارق عزیز سمیت دوسرے اداکار اِن کی الیکشن کمپیئن چلانے کے لیے ان کے علاقے میں آئے تھے۔ اِن کی فیض احمد فیض اور جوش ملیح آبادی سے بھی دوستی تھی۔ حاکم زرداری نے ڈکٹیٹر ضیاءالحق کے ظالمانہ دور میں بیگم نصرت بھٹو کا بھی بھرپور طریقے سے ساتھ دیا۔ ساٹھ کی دہائی میں حاکم علی زرداری کی حیثیت یہ تھی کہ اگر کوئی بھی اِنٹرنیشنل ڈیلیگشن دارالحکومت کراچی میں آتا تھا تو ڈیلیگیشن میں شامل لوگوں کی حاکم علی زرداری سے ملاقات و ضیافت کی خواہش ضرور ہوتی تھی۔ حاکم علی زرداری کراچی میں دو میں سے ایک بڑی عمارت یعنی بمبینو چیمبرز کے مالک بھی تھے۔ دوسری عمارت تبت سنٹر تھی۔ بمبینو چیمبرز سات منزلہ بلڈنگ تھی جس کی ساتویں منزل پر اس زمانے میں حاکم زرداری یعنی آصف علی زرداری کے والد نے ایک پینٹ ہاؤس بھی بنوایا تھا، جس کی اُس سستے زمانے میں لاگت تین لاکھ روپے آئی تھی۔ بمبینو چیمبرز میں بمبینو نامی سینما گھر بھی تھا، جو بعد میں ایک اسکول کو عطیہ کر دیا گیا۔
حاکم علی زرداری بمبینو سینما گھر کے علاوہ کراچی میں مشہورِ زمانہ لارکس اور اسکالا سمیت پانچ سینما گھروں کے بھی مالک تھے۔ اُس دور میں فلم انڈسٹری اور سینما گھروں کا کاروبار بہت زیادہ منفعت بخش تھا۔ حاکم زرداری کے سینما گھر جدید ترین مووی ٹیکنالوجی سے لیس تھے۔ ان کے سینما گھر پورے برصغیر یعنی بھارت، پاکستان اور بنگلا دیش میں سب سے بہتر تھے اور ان کی اس میدان میں اجارہ داری تھی۔ ان کے سینما گھر سنیما انڈسٹری میں انقلاب لے کر آئے۔ ان کے پانچوں سینیما گھروں میں ٹکٹوں کی خرید ریزرویشن کے ذریعے ہوتی تھی۔ پاکستان میں سینما گھروں کے ٹکٹوں کی ریزرویشن کے سلسلے کی شروعات بھی یہاں سے ہوتی ہے اس لیے ٹکٹیں بلیک میں بیچے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حاکم علی زرداری نے ایک سندھی فلم سُورٹ نامی بھی بنائی تھی۔ وہ فلموں کے پروڈیوسر ہونے کے علاوہ فلم ڈسٹری بیوشن ایسوسی ایشن کے چیئرمین بھی تھے۔ اُس وقت کے سُپر سٹار اور امیر ترین فلمسٹار محمد علی کی ان کے ساتھ بہت زیادہ دوستی تھی اور اِن کا ایک دوسرے کے گھر بہت آنا جانا تھا۔ یاد رہے کہ آصف علی زرداری نے سالگرہ نامی ایک فلم میں چائلڈ ایکٹر کے طور پر بھی کام کیا تھا، جس کے ہیرو سُپر سٹار وحید مراد تھے۔
یہاں آصف زرداری کے ننھیال کا ذکر بھی ضروری ہے۔ انکی والدہ نامور دانشور مولانا خان بہادر حسن علی آفندی کی پوتی تھیں، اس طرح مولانا آفندی آصف علی زرداری کے پڑنانا تھے۔ حسن علی آفندی آل انڈیا مسلم لیگ سے منسلک رہنے کے علاوہ مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ کے رکن بھی رہے۔ 1934ء سے 1938ء تک وہ سندھ کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ انہوں نے محمد علی جناح کے ساتھ مل کر مسلم لیگ کو مسلمانوں میں متعارف کرانے کا کام کیا۔ مزید برآں، انہوں نے مصر، فلسطین، شام، عراق، یمن، سعودی عرب اور امریکہ کا دورہ بھی کیا، جہاں انھوں نے اپنی تقریروں میں ہندوستان کی آزادی کے حق میں مدلل تقاریر کیں۔ مولانا حسن علی آفنندی سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی تھے، جو انھوں نے اپنی ذاتی آٹھ ایکڑ زمین پر تعمیر کیا۔ یہ وہی مدرسہ ہے، جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح جیسی عظیم ہستی 1887ء سے 1892ء تک زیر تعلیم رہی۔ انکے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو کے والد شاہ نواز بھٹو، عبداللہ ہارون، ایوب کھوڑو، سر غلام حسین ہدایت اللہ جیسی کئی عظیم ہستیوں نے بھی اِسی تاریخی تعلیمی درسگاہ سے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ یہ مدرسہ 1943ء میں ہائی سکول سے کالج بنا۔ 2012ء صدرِ آصف زرداری نے سندھ مدرسۃ الاسلام کو کالج سے یونیورسٹی کا درجہ دے دیا۔ آج مولانا آفندی کے بنائے ہوئے اس تعلیمی ادارے کے بطن سے نکلے ایس ایم لا کالج سمیت کئی تعلیمی ادارے موجود ہیں۔
اب ہم آتے ہیں آصف زرداری پر اپنے بمبینو سینما کے ٹکٹ بلیک کرنے کے الزام پر۔ حقیقت یہ ہے کہ اُس دور میں آصف زرداری پرائمری اسکول میں پڑھ رہے تھے لیکن دروغ گو جھوٹوں نے بڑے دھڑلے اور نہایت بے شرمی سے ایک خاندانی ریئس حاکم زرداری کے اکلوتے بیٹے پر اتنی چھوٹی سی عمر میں ٹکٹیں بلیک میں بیچنے کا الزام عائد کر کے صرف اپنی ذہنی پستی کا ثبوت دیا۔
یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آصف زرداری کے بارے میں ان جھوٹے فرشتوں کا طریقہْ واردارت ہمیشہ سے جھوٹ میں نام بنانے والے ڈاکٹر جوزف گوئبلز والا رہا ہے۔ یاد رہے کہ گوئبلز پروپیگنڈے میں مہارت کی وجہ سے بہت جلد ایڈولف ہٹلر کا قریبی ساتھی اور وزیر پروپیگنڈہ بن گیا تھا اور اس نے اپنی وزارت کو بڑی کامیابی سے چلایا تھا۔ یہ وزارت جنگ عظیم کے اواخر یعنی 1945ء تک گوئبلز کے پاس رہی۔ گوئبلزکا بڑا مشہور قول ہے کہ ”جھوٹ باربار اور اتنی بار بولو کہ سننے والے اسے سچ مان لیں”۔
لیکن جب ہم اسٹیبلشمینٹ کی موجودہ طفیلی حکومت کے زرداری مخالف پروپیگنڈہ کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو بے چارہ گوئبلز ان کے سامنے بالکل طفلِ مکتب لگتا ہے۔ پاکستان میں گوئبلز گروپ شروع سے ہی اسٹیبلشمنٹ اور اِس کے تراشیدہ جَمُوروں پر مشتمل رہا ہے جس میں شامل شعبدہ بازوں کی طلسم گری پہلے بھی کم نہ تھی مگر اس گروپ نے اپنے فن کو نوے کی دہائی میں بامِ عروج تک جا پہنچایا۔ اِنھوں نے جھوٹ کا وہ اندھ کار مچایا کہ عوام کے لیے سچ اور جُھوٹ کی تمیز بہت مشکل ہو گئی۔ من کے پُجاری اور نفس کے حواری پاکستانی گوئبلز نے آج قوم کی یہ حالت کر دی ہے کہ کسی پر الزامات لگنے کے ساتھ ہی اسے مُجرم مان کر سنگباری شروع ہو جاتی ہے۔ اپنے ناپسندیدہ شخص کے خلاف ہر افواہ کو ایمان کی حد تک سچ مان لیا جاتا ہے اور اسے فریضہ اوٗل سمجھ کر خوب پھیلایا جاتا ہے۔ بعد میں وہ افواہ بھلے جُھوٹ ثابت ہو جائے، مگر وہ پہلے ہی اذہان میں پتھر کی لکیر بن چکی ہوتی ہے، جس نے پھر ہمیشہ مستقبل میں ریفرنس کے طور پر استعمال ہونا ہے۔ اِس وقت پاکستانی معاشرے میں صرف اپنی پسند کے سچ کو ماننے پر مبنی سیاست صرف دشمنی اور الزام تراشی کا نام ہے۔
آصف زرداری کو مطعُون کرنے کے لیے انکے مخالفین نے اپنے گوئبلز کے ذریعے کمینگی کی ساری حدیں اِنتہائی بے شرمی سے پار کی ہیں۔ ان کے خلاف چودہ جھوٹے مقدمات بنائے گئے، بھرپور منفی پروپیگنڈا کیا گیا اور بغیر کسی سزا کے عمر قید جتنا عرصہ پُرتشدد جیلوں میں پابند سلاسل رکھا۔ مگر اِن گوئبلز پر تُف ہے کہ بے پناہ مُلکی وسائل لُٹانے اور گھٹیا سے گھٹیا چالبازیوں کے باوجود آج تک اپنا بنایا ایک بھی کیس سچا ثابت نہیں کر سکے۔ دوسری طرف مرد حر ہمیشہ کی طرح ڈٹا ہوا کھڑا ہے اور گوئبلز کے تمام الزامات کو مسلسل جھوٹا ثابت کیے چلا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button