آصف زرداری کی سینیٹ الیکشن کے بعد استعفے دینے کی تجویز

باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے نواز لیگ کو یہ تجویز دی گئی ہے کہ اسمبلیوں سے استعفے دینے کی آپشن سینیٹ الیکشن کے بعد استعمال کی جائے اور تمام پی ڈی ایم جماعتیں مل کر ایوان بالا کا الیکشن لڑیں تاکہ اپوزیشن جماعتیں زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کر سکیں۔ یاد رہے کہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی اسمبلیوں سے استعفے دینے کی تجویز کا بنیادی مقصد حکمران جماعت تحریک انصاف کو سینیٹ کے الیکشن میں اکثریت حاصل کرنے سے روکنا ہے۔

تاہم اب ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی جانب سے پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں کو یہ تجویز دی گئی ہے کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہو کر حکومتی اکثریت روکنے کی بجائے کیوں نہ اکٹھے ہو کر سینٹ الیکشن میں حصہ لیا جائے اور اپوزیشن کو ایوان بالا میں اکثریت دلوائی جائے۔ آصف زرداری کی تجویز کے مطابق سینیٹ الیکشن میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتیں اپنا مشترکہ سینیٹ چیئرمین منتخب کروا کر قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے کر آئیں۔ اگر تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران خان وزارت عظمی سے فارغ ہو جائیں تو سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی، یعنی کپتان بھی فارغ ہو جائے گا اور اپوزیش جماعتوں کو اسمبلیوں سے استعفے بھی نہیں دینے پڑیں گے۔ تاہم آصف زرداری کی تجویز کے مطابق اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ پھر بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی رہے اور ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب نہ ہونے دے تو پھر اپوزیشن اسمبلیوں سے استعفوں کی آپشن استعمال کر کے پارلیمنٹ کو مفلوج کر سکتی ہے۔ اس تجویز پر صلاح مشورہ جاری ہے اور حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

یاد ریے کہ اگر اپوزیشن کی جماعتیں اکٹھے ہو کر الیکشن نہ لڑیں تو سینیٹ انتخابات 2021 کے بعد تحریک انصاف کا 28 نشستوں کے ساتھ ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بننے کا امکان ہے جبکہ 100 رکنی ایوان میں حکومت اور اپوزیشن ارکان کی تعداد تقریباً برابر رہنے کی بھی توقع ہے۔ پیپلز پارٹی 19 نشستوں کے ساتھ دوسری، مسلم لیگ ن 18 نشستوں کے ساتھ تیسری اور بلوچستان عوامی پارٹی کا 12 نشستوں کے ساتھ چوتھی بڑی جماعت بننے کا امکان ہے۔الیکشن کمیشن حکام کے مطابق اس بار سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ فاٹا کی نشستوں پر انتخابات نہیں ہوں گے جس کے باعث سینیٹ کی نشستیں 104 سے کم ہو کر 100 رہ جائیں گی۔
اس وقت صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن کو مدنظر رکھا جائے تو سینیٹ الیکشنز میں تحریک انصاف کو 21 نئی نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ پی ٹی آئی کی سینیٹ میں اس وقت 14 نشستیں ہیں جن میں سے 7 سینیٹرز ریٹائر ہوں گے۔
تحریک انصاف کو اپنے ہوم گراؤنڈ یعنی خیبر پختونخوا اسمبلی سے 10، پنجاب سے 6 ، اسلام آباد سے 2، سندھ سے 2 اور بلوچستان سے ایک سینیٹر کی کامیابی کی توقع ہے۔ اس طرح 28 نشستوں کے ساتھ تحریک انصاف پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت بن جائے گی۔ تحریک انصاف کو سینیٹ میں پہلی بار 2014 میں نمائندگی ملی تھی۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی کی سینیٹ میں نشستیں 21 سے کم ہو کر 19 رہ جائیں گی ۔ پیپلز پارٹی کے 7 سینیٹرز ریٹائر ہوں گے۔ ان تمام ارکان کا تعلق سندھ سے ہے۔ پیپلز پارٹی کو سندھ سے 5 نئی نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سب سے زیادہ 17 سینیٹرز ریٹائر ہوں گے۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹرز میں سے 11 پنجاب جبکہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد سے دو دو ریٹائر ہوں گے۔ اس طرح مسلم لیگ ن کی سینیٹ میں نشستیں 30 سے کم ہو کر 18 رہ جائیں گی۔ مسلم لیگ ن کو سینیٹ میں صرف پنجاب سے 5 نئی نشستیں آنے کا امکان ہے۔

ایوان بالا سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 2 سینیٹرز ریٹائر ہوں گے، ایک کا تعلق بلوچستان اور ایک کا خیبرپختونخوا سے ہے۔ نئے انتخابات کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیٹرز کی تعداد 5 ہونے کا امکان ہے۔ ایم کیو ایم کی سینیٹ میں نشستیں 5 سے کم ہو کر 3 رہ جائیں گی۔ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے باعث فاٹا سے سینیٹ میں کوئی نئی نشست نہیں آئے گی۔ فاٹا سے سینیٹ میں ارکان کی تعداد 4 رہ جائے گی۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کے ریٹائر ہونے کے بعد ایوان بالا میں جماعت اسلامی کا صرف ایک سینیٹر رہ جائے گا۔ سیاسی ماہرین کے مطابق پی ڈی ایم کی جماعتیں بلوچستان اور خیبر پختوانخوا میں اتحاد کر کے مزید ایک ایک اضافی نشست حاصل کر سکتی ہیں۔ اے این پی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حمایت سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایک نشست اور بلوچستان اسمبلی میں ایم ایم اے، بی این پی مینگل، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور اے این پی اتحاد سے ایک نشست جیتی جا سکتی ہے۔ سینیٹ میں نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی دو دو نشستیں رہ جائیں گی۔

جی ڈی اے کی سندھ سے ایک نشست آنے کی صورت میں ارکان کی تعداد 2 ہو جائے گی۔ بی این پی مینگل کے پاس 2 نئی نشستیں آنے کا امکان ہے۔ انتخابات کے بعد سینیٹ میں نشستوں کی تعداد 104 سے کم ہو کر 100 رہ جائے گی۔ سینیٹ انتخابات 2021 کے بعد تحریک انصاف، بلوچستان عوامی پارٹی، ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور ق لیگ پر مشتمل حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 49 ہونے کا امکان ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جمیعت علمائے اسلام ف، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، بی این پی (مینگل) اور جماعت اسلامی پر مشتمل اپوزیشن ارکان کی تعداد 51 ہونے کا امکان ہے۔

پارلیمانی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ‘سینیٹ انتخابات میں عموماً صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن کے مطابق ہی نتائج سامنے آتے ہیں لیکن اگر اپوزیشن جماعتیں آپس میں تعاون کریں اور ایک دوسرے کے امیدواروں کو ووٹ دیں تو اس سے نتائج پر فرق پڑ سکتا ہے۔ یاد ریے کہ ماضی قریب میں پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں میں کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ ارکان نے پارٹی امیدواروں سے ہٹ کر ووٹ دیے جس کے نتیجے میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی تھی۔ تب اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین سینٹ کے امیدوار میر حاصل بزنجو نے الزام عائد کیا تھا کہ سینٹ کے الیکشن کو آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے حکومت کے حق میں انجینئر کیا۔ لہذا اب یہ دیکھنا ہوگا کہ مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ دوبارہ حکومت کا ساتھ دیتی ہے یا اپوزیشن کے مطالبے کی روشنی میں نیوٹرل ہو جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button