آصف زرداری کے وکیل کو درخواست ضمانت پر دلائل مکمل کرنے کی ہدایت

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کے وکیل کو بحریہ ٹاؤن کے ساتھ 8 ارب 30 کروڑ روپے کی مشترکہ ٹرانزیکشن کے کیس میں دائر درخواست ضمانت پر دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔
مطابق ہائی کورٹ نے جسٹس عامر فاروق، جسٹس محسن اختر کیانی کی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے درخواست ضمانت پر سماعت کی۔درخواست گزار کے وکیل جاوید اقبال وینز نے عدالت کو بتایا کہ آصف زرداری اپنی بیماری کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے، انہوں نے اس حوالے سے ایک میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی عدالت میں جمع کروایا۔وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ چونکہ سینئر وکیل فاروق ایچ نائیک سپریم کورٹ کے کیسز میں مصروف ہیں اس لیے سماعت کو 12 جنوری تک کےلیے ملتوی کردیا جائے۔قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل سردار مظفر خان عباسی نے دلائل دیے کہ معاملے کو غیر ضروری طور پر طوالت دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مشتبہ ٹرانزیکشن کے حوالے سے تفتیش کے لیے آصف علی زرداری کی حراست درکار ہے۔اس کیس میں آصف علی زرداری کے علاوہ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے داماد زین ملک بھی ملزم نامزد ہیں تاہم نیب کے ساتھ پلی بارگین کرنے پر انہیں رہا کردیا گیا تھا۔عدالت نے وکیل کو یاد دہانی کروائی کہ اس کیس میں آصف زرداری کو دی گئی عبوری ضمانت اس بات سے مشروط ہے کہ وہ تفتیشی افسر کے ساتھ تعاون کریں گے۔بعدازاں عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ سابق صدر سے تفتیش میں تعاون کرنے کا کہیں اور سماعت 12 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی۔اسلام آباد ہائی کورٹ بینچ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رخسانہ بنگش کی عبوری ضمانت پر سماعت بھی ملتوی کردی، انہوں نے اپنے اثاثوں کی جاری انکوائری میں ضمانت کی درخواست کی تھی۔نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ رخسانہ بنگش کو سوال نامہ بھیجا گیا تھا لیکن انہوں نے اس کا جواب نہیں دیا۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ان کی موکلہ نے سوالنامے پر کچھ سوالات اٹھائے ہیں، انہوں نے عدالت کو کہا کہ چونکہ سینئر وکیل دفاع عدالت عظمیٰ میں مصروف ہیں اس لیے معاملے کو ملتوی کردینا چاہیے۔
