آفریدی کاعمران کواحتجاج کی پالیسی ترک کرنے کا مشورہ

ماضی میں بطور کرکٹر اور بطور وزیر اعظم عمران خان کی سپورٹ کرنے والے شاہد آفریدی نے اب کپتان کے حوالے سے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنی شکست کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے احتجاج کی پالیسی ترک کر دینی چاہیے۔ آفریدی کا کہنا ہے کہ عمران کو بلاوجہ سڑکوں پر احتجاج کرنے کی بجائے پارلیمنٹ میں واپس جانا چاہیئے اور ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہیئے۔
ایک ویڈیو پیغام میں شاہد آفریدی نے وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام ان کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں، انکا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف کے کاموں کا پہلے دن سے ہی معترف رہا ہوں اور امید کرتاہوں کہ وہ بطور وزیراعظم بھی کامیاب ہوں گے۔ سابق کپتان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ کی سرحد عبور کر کے جیسے ہی پنجاب میں داخل ہوں آپ کو واضح فرق نظر آنا شروع ہو جاتا ہے، آپ کو دونوں صوبوں کے درمیان ترقی اور سہولیات کا فرق واضح نظر آ جاتا ہے، پاکستان کے چاروں صوبوں میں جس صوبے نے ترقی کی وہ پنجاب ہے اور اس کا کریڈٹ شہباز شریف کو جاتا ہے۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ شہباز ایک بہت اعلیٰ پائے کے منتظم ہیں، اس لئے میں نے ہمیشہ ان کی عزت اور تعریف کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جو بھی اچھے کام کرے گا، میں اس کیساتھ ہوں، اور اس کا ساتھ دوں گا۔ آفریدی نے اپنے ویڈیو بیان میں مزید کہا کہ میرے خیال میں مضبوط اپوزیشن ہی حکومت پر اچھے کام کرنے کیلئے دبائو ڈال سکتی ہے، یہ کام عمران خان بہت اچھے طریقے کیساتھ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کو سڑکوں پر احتجاج کرنے کی بجائے پارلیمنٹ میں آنا چاہئے۔
سابق کپتان نے کہا کہ کوئی بھی پلیئر بہت مضبوطی کیساتھ ہی گرائونڈ میں واپس آتا ہے تاہم یہ اسی وقت ممکن ہوتا ہے، جب وہ اپنی غلطیوں کےبارے سوچتا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ خود کو پرفیکٹ سمجھے اور کہے کہ اس سے کوئی غلطی سرزد ہو ہی نہیں سکتی اور اس کے سوا باقی سب غلط اور قصوروار ہیں۔
سٹار آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے کہا کہ میں نے ہمیشہ ہی عمران کی بھرپور حمایت کی، ان کا بطور کرکٹر زبردست وژن تھا جسے دیکھ کر مزہ آتا تھا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے اپنے سیاسی وژن کو آگے بڑھانے کیلئے جو ٹیم منتخب کی، کیا وہ ٹھیک تھی؟
شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ہر انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور اپنے تجربے میں اضافہ کرتا ہے لہٰذا عمران خان کو بھی حکومت سے فارغ ہونے کے بعد اپنی ان غلطیوں پر غور کرنا چاہیے جن کی وجہ سے وہ آؤٹ ہوئے۔
