نیب شہباز شریف کے جوابات سے غیر مطمئن، 2 جون کو پھر طلب

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب کے روبرو پیش ہوئے۔ شہبازشریف نے نیب آفس میں 2 گھنٹے سے زائد وقت گزارا، اس دوران انہوں نیب ٹیم کے سوالات کے جواب دیئے جس کے بعد وہ واپس روانہ ہوگئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب نے انہیں 2 جون کو دوبارہ طلب کیا ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں طلب کرکے ایک گھنٹہ 45 منٹ تک سوالات کیے جن کا وہ نیب کو اطمینان بخش جواب نہ دے سکے اور نیب نے انہیں 2 جون کو دوبارہ طلب کرلیا۔
لاہور میں شہباز شریف کی نیب میں پیشی کے حوالے سے معلومات رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ پیشی کے دوران شہباز شریف نے ایک بار پھر نیب ٹیم کے سوالوں کے مناسب جواب نہیں دیے۔ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف احتساب ادارے کے پاس موجود اپنے اثاثوں کی تفصیلات دیکھ کر حیران رہ گئے جبکہ منی لانڈرنگ سے متعلق سوالوں کے جواب دینے سے قاصر رہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے شہباز شریف سے ایک گھنٹہ 45 منٹ تک سوالات کیے تاہم وہ نیب کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔انہوں نے بتایا کہ پیشی کے دوران شہباز شریف سے انکو وارثت میں ملنے والی جائیداد سے متعلق سوالات کیے گئے۔پوچھا گیا کہ ’آپ نے 2005سے 2007کے دوران بارکلے بینک سے کتنا قرض لیا، نثار احمد گل اور علی احمد سے کیا آپ کا کیا تعلق ہے، گزشتہ 20سال کے دوران اپ کے اثاثوں میں کڑوروں کا اضافہ ہوا ان کے ذرائع کیا ہیں‘۔شہباز شریف نے جواب دیا کہ ’تمام اثاثہ جات ظاہر کرچکا ہوں اور ہر چیز کا ریکارڈ جمع کرا چکا ہوں‘۔نیب نے سوال کیا کہ ’پارٹی فنڈز کا استعمال کب اور کہاں کہاں کیا، فنڈز کا استعمال کیا ذاتی طور پر بھی کیا گیا تو شہباز شریف اس سے متعلق بھی مناسب جواب نہیں دے سکے۔شہباز شریف سے نیب نے بیرون ملک کی جانے والی 5 مشکوک ٹرانزکشن کا پوچھا اور ان کے سامنے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ سامنے رکھی۔
ان سے سوال کیا گیا کہ ’20 کروڑ روپے سے زائد کی رقوم کس کس اکاؤنٹ میں منتقل کیے، بطور وزیر اعلٰی 5 مشکوک ٹرانزیکشن بیرون ملک کس کو بھیجیں جس پر شہباز شریف نے کہا کہ ’تمام ریکارڈ آپکو جمع کروا دیا ہے‘۔نیب نے سوال کیا کہ اہلخانہ کو کیا کیا گفٹس دیے تو شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فیملی کو دیے گئے تحائف سے متعلق بھی آپ کو دستاویزات دے چکا ہوں۔شہباز شریف سے پوچھا گیا کہ ان کی ذاتی رہائش گاہ کتنا عرصہ کیمپ آفس رہی تو انہوں نے جواب دیا کہ ذاتی رہائش گاہ عوام کے مفاد اور ان کے مسائل کے لیے بنایا تھا۔
نیب کی تفتیشی ٹیم نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ ’کیا نثار احمد، قاسم قیوم، احمد خان کو کیا آپ جانتے ہیں‘، جس پر شہباز شریف نے جواب دیا کہ کیمپ آفس میں روزانہ سینکٹروں افراد آتے تھے۔سوال و جواب کے بعد شہباز شریف نیب لاہور میں پیشی کے بعد روانہ ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق لاہورشہباز شریف کی پیشی اور تفتیش سے متعلق اعلی حکام کی منظوری کے بعد 2 جون کو انہیں دوبارہ پیش ہونے کی ہدایت کردی۔نیب ذرائع نے مزید بتایا کہ ’شہباز شریف کی پیشی کے دوران سماجی فاصلے کا مکمل خیال رکھا گیا اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ان سے 6 فٹ کے فاصلے سے بیٹھ کر سوالات کیے۔
خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر 5 ہفتے قبل جب سے وطن واپس آئے ہیں نیب نے انہیں تیسری مرتبہ طلب کیاتھا۔قبل ازیں 17 اور 22 اپریل کو شہباز شریف نے کورونا وائرس کے باعث صحت کو وجہ بناتے ہوئے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا حالانکہ نیب نے انہیں طبی ہدایات کے مطابق تمام تر احتیاطی تدابیر اپنانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔شہباز شریف نے اپنے وکیل کے توسط سے مطلوبہ دستاویز قومی احتساب بیورو میں جمع کروادیے تھے تاہم نیب نے ان دستاویزات اور شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انہیں ذاتی طور پر سوالات کا جواب دینے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔
ادھر ترجمان مسلم لیگ نون مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے تمام سوالات کے جواب دئیے اور تحریری طور پر جمع بھی کروا دئیے، شہباز شریف سے منی لانڈرنگ کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھا گیا، ان سے پوچھا گیاآپ اپنے بچوں کی گاڑی میں کیوں آئے ہیں؟ شہباز شریف جھوٹے الزامات اور کرونا کے خطرات کے باوجود نیب میں پیش ہوئے۔
