آنکھ کا انفیکشن بھی کرونا وائرس کی علامت ہو سکتا ہے

کرونا وائرس کی واضح ترین علامات اب تک تو کھانسی، نزلہ اور بخار ہی قرار دی جا رہی تھیں تاہم اب ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس نے انکشاف کیا ہے کہ آنکھ کا انفیکشن بھی اس موذی مرض کی ایک بڑی علامت ہو سکتا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس دیگر جسمانی اعضاء کی نسبت آنکھ میں طویل عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے۔
کرونا وائرس کی پہلی تشخیص کے بعد سے اب تک طبی ماہرین اس مہلک وائرس کی علامات پر مسلسل تحقیق کررہے ہیں، کرونا کے حوالے سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس بارے ہر کچھ دن بعد نئی علامات سامنے آرہی ہیں جبکہ اکثریتی کیسز میں کوئی علامت بھی نہیں پائی گئی۔
اب تک کرونا کی جو علامات سامنے آئی ہیں ان میں زکام، خشک کھانسی، تیز بخار، سانس لینے میں تکلیف، سونگھنے اور ذائقے کی حس کا ختم ہونا اور پاؤں کی انگلیوں میں انفیکشن سمیت دیگر شامل ہیں، تاہم اب حال ہی میں ایک ایسی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں چین سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون میں نزلہ اور کھانسی جیسی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں البتہ ان میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تشخیص ہوگئی، مذید تحقیق پر معلوم ہوا کہ اس وائرس نے اس خاتون کی آنکھ کو متاثر کیا تھا۔ چنانچہ اب طبی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ کرونا وائرس دیگر جسمانی اعضاء کی نسبت انسانی آنکھ میں طویل عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے۔ وہ خاتون جن کی آنکھوں کو اس وائرس نے متاثر کیا ان کی عمر 65 سال ہے، وہ اٹلی سے جاپان کے شہر ووہان پہنچی تھی جہاں ان میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق انہوں نے رواں سال 27 جنوری کو طبیعت کی خرابی کے بعد ڈاکٹر سے رجوع کیا تھا، خاتون نے بتایا تھا کہ انہیں کھانسی اور بخار تو نہیں لیکن انکی آنکھ میں انفیکشن ہے۔ اسپتال میں 20 روز گزارنے اور کرونا کا علاج کروانے کے بعد ان کی آنکھ کا انفیکشن ختم ہوگیا اور ان کا کرونا ٹیسٹ بھی نیگٹیو آگیا۔ تاہم ان کے معالج تب حیران رہ گئے جب 27ویں روز اسپتال میں دوبارہ ان کی آنکھ میں کرونا وائرس کو دریافت کیا گیا۔ چنانچہ خاتون کو دوبارہ سے علاج کروانا پڑا۔
چناچے یاد رکھیے کہ اگر آپ کی آنکھ میں کسی قسم کا کوئی انفیکشن ہے تو فورا ڈاکٹر کو چیک کروائیں چونکہ یہ کرونا وائرس کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
