تحریک انصاف کو عمران کی آنکھ کے علاج پر بھی اعتراض

 

 

 

 

تحریکِ انصاف عمران خان کی آنکھ کی بیماری کے معاملے پر مسلسل سیاست کر رہی ہے۔ پہلے یہی لوگ حکومت پر تنقید کر رہے تھے کہ عمران خان کا علاج کیوں نہیں کروایا جا رہا، اور اب انہیں اس بات پر اعتراض ہے کہ عمران خان کی آنکھ کا علاج کیوں کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے اس طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا اصل مقصد مسئلے کا حل نہیں بلکہ عمران خان کی صحت بارے بیان بازی کر کے محض سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

مبصرین کے مطابق عمران خان کی آنکھ کے معاملے پر پی ٹی آئی کی سیاست ایک بار پھر تضادات کا شکار نظر آتی ہے۔ ناقدین کے مطابق یوتھیے رہنماؤں کی جانب سے عمران خان کی آنکھ کی بیماری کے معاملے پر اپنایا گیا طرزِ عمل سنجیدہ سیاسی رویے کے بجائے محض بیان بازی کا عکاس دکھائی دیتا ہے۔ ناقدین کے مطابق جب عمران خان کی صحت کے حوالے سے خبریں سامنے آئیں تو پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے جلسوں، پریس کانفرنسوں اور بیانات میں یہ مؤقف اپنایا گیا کہ عمران خان کو بروقت اور مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ حکومت دانستہ طور پر علاج میں تاخیر کر رہی ہے۔تاہم جب حکومت کی جانب سے عمران خان کی آنکھ کے علاج کا باقاعدہ آغاز ہوا تو وہی حلقے ایک نئے بیانیے کے ساتھ سامنے آ گئے۔ اب اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ لواحقین کی عدم موجودگی میں عمران خان کا علاج کیوں کیا جا رہا ہے، عمران خان کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کون ہیں؟ عمران خان تک ان کے ذاتی ڈاکٹرز کو رسائی کیوں فراہم نہیں کی جارہی؟ ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کے عمران خان کی صحت بارے اس تضاد نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کو اگر پہلے عمران خان کی علاج کی عدم فراہمی کی شکایت تھی تو اب علاج ہونے پر اعتراض کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟مبصرین کے مطابق کسی بھی سیاسی رہنما کی صحت ایک انسانی معاملہ ہوتی ہے، جسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ لیکن پی ٹی آئی موجودہ طرزِ عمل اس بات کا عکاس ہے کہ ان کا اصل مقصد مسئلے کا حل نہیں بلکہ بیانیہ سازی کے ذریعے سیاسی فوائد اور عوامی ہمدردی کا حصول ہے۔

رہائی فورس کے قیام کے اعلان پر پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ گئی

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی رات کی تاریکی میں پمز ہسپتال منتقلی اور ٹریٹمنٹ پر بھی اعتراض اٹھایا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ حکومت کا خفیہ طور پر دوسری بار عمران خان کو ہسپتال لانا ’خود اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ سنجیدہ ہے۔‘ تاہم پمز ہسپتال انتظامیہ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کو آنکھوں کے علاج کیلئے ہسپتال لایا گیا ہے اور عمران خان کی رضامندی سے ڈے کیئر سرجری کا عمل سینئر ڈاکٹرز کی موجودگی میں انجام دیا گیا ہے۔‘

 

دوسری جانب عمران خان کی پمز ہسپتال آمد بارے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کی مرضی سے پمز میں لایا گیا ہے، جہاں چار ڈاکٹروں پر مشتمل ایک پینل نے ان کا طبی معائنہ کیا۔ عمران خان کو ڈاکٹرز کی مشاورت کے بعد ہی دوا کی دوسری ڈوز دی گئی ہے۔اعظم نذیر تارڑکا مزید کہنا تھا کہ قیدیوں کو علاج معالجے کی سہولیات جیل مینوئل کے مطابق ہی فراہم کی جاتی ہیں اور جیل مینوئل میں یہ کہیں بھی نہیں لکھا کہ کسی بھی قیدی کی منشا کے مطابق اس کے من پسند ڈاکٹرز سے ہی اس کا علاج کروایا جائے۔ پی ٹی آئی کے اعتراضات بارے وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ عمران خان کو رات کے وقت ہسپتال لانے کا فیصلہ سکیورٹی اور امن وامان کی صورت حال اور سڑکوں پر ٹریفک کا دباو کم ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا جس کا اور کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا۔ اعظم نذیر تارڑ کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کے عمران خان کو علاج کی فراہمی بارے اعتراضات اور تحفظات بالکل غیر منطقی ہیں۔

 

مبصرین کے مطابق کسی بھی قیدی یا زیرِ حراست فرد کو آئین اور قانون کے مطابق علاج کی سہولت دینا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر عمران خان کو علاج فراہم کیا جا رہا ہے تو اسے سیاسی رنگ دینے کے بجائے ایک انسانی اور قانونی تقاضے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی سنجیدگی کا تقاضا یہ ہے کہ عمران خان کی صحت جیسے حساس معاملے پر پوائنٹ سکورنگ کے بجائے اصولی مؤقف اپنایا جائے۔ ورنہ اس طرح کی متضاد سیاست نہ صرف پی ٹی آئی کی سیاسی ساکھ کو متاثر کرے گی بلکہ عوام میں بداعتمادی کو بھی فروغ دینے کا سبب بنے گی

 

Back to top button