آنے والے تین سےچار ہفتے پاکستان کیلئے مشکل اور خطرناک ہیں

وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے حوالے سے آنے والے تین سے چار ہفتے پاکستان کیلئے مشکل اور خطرناک ہیں. پاکستان میں انفیکشن کنٹرول اور اس کی روک تھام کے لیے مناسب سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں بیماریوں کا دباؤ دو سے تین گنا زیادہ ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے بعد ملک میں ’میڈیکل یونیورسٹی میں تدریس اور شعبہ صحت میں سرمایہ کاری کے معیارات مختلف ہوجائیں گے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ کورونا وائرس ’الگ تھلگ وبا نہیں‘ ہے اور آئندہ نسلوں کے لیے اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ڈاکٹر ظفر مراز نے مزید کہا کہ ’ہمیں اسی کے مطابق اپنے صحت کے شعبے کو ازسر نو تشکیل دینا چاہیے‘۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے کہا ہے کہ وبائی امراض کے بعد ترقی پذیر ممالک میں صحت کے شعبے ’کبھی بھی موجودہ نظام جیسے نہیں ہوں گے‘۔انہوں نے کہا کہ ’عوامی صحت کے شعبے اور وبا کی روک تھام سے متعلق امور پر پوری تاریخ میں کبھی بھی توجہ نہیں دی گئی جس طرح اب دی جاری ہے‘۔
معاون خصوصی نے کہا کہ آنے والے 3 سے 4 ہفتے بہت اہم ہیں، ایسے میں انفکیشن کنٹرول کی بات کرنا بہت مناسب ہے جسے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ڈاکٹر ظفر مراز نے کہا وبا ایک چینلج کی صورت میں ہمارے سامنے آیا لیکن ایک موقع بھی ہے ہم اپنے طبی شعبوں کا ازسرنو جائزہ لیں۔ان کا کہنا تھا کہ آئند چند برس میں میڈیکل انڈسٹری، وزارت صحت سمیت تمام ایسے شعبہ جات جو طب سے وابستہ ہیں، ان کی ساکت میں تبدیلی آئے گی جس کے مثبت ثمرات ہماری آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ اب تک کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ رو بروز تیز ہوتا جارہا ہے اور آج بھی مزید کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرین کی تعداد 10 ہزار 72 ہوگئی جبکہ 212 افراد وائرس کے باعث انتقال کرچکے ہیں۔اس سے قبل ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا تھا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے کورونا وائرس کے خلاف بروقت مؤثر اقدامات کیے لیکن ہمیں مزید احتیاط اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ ملک میں 26 فروری کو کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تو سرکاری سطح پر مختلف اقدامات اٹھائے گئے اور سب سے پہلے تعلیمی اداروں کی بندش کی گئی تاکہ یہ وائرس طلبہ و اساتذہ میں نہ پھیل سکے، بعد ازاں مختلف پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہیں جزوی تو کہیں مکمل لاک ڈاؤن کردیا گیا۔اس لاک ڈاؤن باعث کاروباری مراکز، شاپنگ مالز، پارکس، تفریحی مقامات، انٹرسٹی بسز، مسافر ٹرینیں، غیر ضروری باہر نکلنے سمیت مختلف پابندیاں عائد کی گئیں۔
