آن لائن گیم پب جی پر عائد پابندی کا فیصلہ کالعدم قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پی ٹی اے کی جانب سے رواں ماہ ویڈیو گیم ’پب جی‘ یعنی ’پلیئر ان نونز بیٹل گراونڈز‘ پر لگائی گئی پابندی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے یہ فیصلہ پاکستان میں پب جی گیم کو کنٹرول کرنے والی کمپنی کی درخواست پر سنایا۔ جسٹس عامر فاروق نے پب جی پر پابندی کے خلاف محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے پی ٹی اے کا پب جی پر پابندی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا پی ٹی اے پب جی گیم کو فوری کھول دے۔عدالت عالیہ نے آن لائن گیم سے متعلق پی ٹی اے کو 7 روز میں دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا جب کہ پب جی کیخلاف شکایات کی تفصیلات اور اس پر پابندی کی وجوہات بھی طلب کر لیں۔ پاکستان میں پب جی کنٹرول کرنے والی کمپنی نے پی ٹی اے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
خیال رہے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے آن لائن گیم پب جی پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پی ٹی اے نے یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت کی روشنی میں 9 جولائی کو کی گئی تفصیلی سماعت کے بعد کیا۔پی ٹی اے نے پب جی کی انتظامیہ سے پب جی کے سیشنز، پاکستان میں استعمال کنندگان کی تعداد اور کمپنی کی طرف سے نافذ کردہ کنٹرولز کی تفصیلات طلب کی تھیں تاہم پب جی کی طرف سے جواب موصول نہیں ہوا۔
خیال رہے کہ یکم جولائی کو پی ٹی اے نے عارضی طور پر ویڈیو گیم پب جی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ پی ٹی اے کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ معاشرے کے مختلف طبقوں سے موصول ہونے والی شکایات کے بعد اس ویڈیو گیم کو عارضی طور پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ان شکایات میں کہا گیا تھا کہ ‘یہ گیم لت کا باعث، وقت کا ضیاع ہے اور اس سے بچوں کی جسمانی اور دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘ پی ٹی اے کے بیان کے مطابق حال ہی میں ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس گیم کی وجہ سے ’خود کشیوں‘ کے واقعات پیش آئے ہیں۔
گیم پر پابندی عائد ہونے سے چند روز قبل لاہور پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ صوبائی دارالحکومت میں دو نوجوانوں نے ویڈیو گیم ‘پب جی’ کھیلنے سے منع کرنے پر خود کشی کر لی تھی۔ تاہم اس گیم پر پابندی لگنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر متعدد مرتبہ ایسے ٹرینڈ چلے ہیں جن میں صارفین کی جانب سے پب جی سے پابندی ہٹانے کی گزارش کی جاتی رہی ہے۔
یاد رہے کہ پی ٹی اے نے یکم جولائی کو ’پب جی‘ گیم پر عارضی طور پر پابندی عائد کی تھی۔ اس پر پی ٹی اے نے وضاحت دی تھی کہ معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے آن لائن گیم پلیئرز ان نون بیٹل گراؤنڈز (پب جی) کے خلاف متعدد شکایات کو مد نظر رکھتے ہوئے گیم پر عارضی طور پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بعدازاں سوشل میڈیا پر گیم پر لگائی جانے والی پابندی کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی اور UnBanpubgInPakistan#کا ٹرینڈ مقبول ہوگیا۔اس کے علاوہ لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی اے کوپب جی گیم پر پا بندی سے متعلق عوامی سماعت کاحکم دیا تھا۔
تاہم دوسری طرف پب جی کھیلنے والے صارفین کے مطابق پب جی گیم ایک مشن کے تحت کھیلی جاتی ہے جس میں دشمن سے مقابلہ ہوتا ہے اور اس کے لیے بندقوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ صارف نے بتایا تھا کہ ’گیم ہم اکیلے بھی کھیل سکتے ہیں اور ایک سے زائد لوگ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اپنے دفاع کے لیے ہمیں دشمن کو مار کر گیم جیتنی ہوتی ہے۔‘ان کا مزيد کہنا تھا کہ وہ کمپیوٹر پر یہ گیم کھیلتے ہیں اور ’کیونکہ یہ گیم آن لائن چل رہی ہوتی ہے اس لیے اس دوران آپ اس گیم کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر آپ کھانا کھانے جا رہے یا کسی بھی کام کے لیے اٹھیں گے تو دوسری پارٹی آپ کو مار دے گی۔‘صارف نے مزید بتایا کہ اس گیم کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ جو کمپیوٹر پر کھیلی جاتی ہے اور دوسری وہ جو موبائل پر لوگ کھیلتے ہیں۔
موبائل پر کھیلی جانے والی پب جی گیم میں آپ کے پاس بہت سی آپشنز ہوتی ہیں جیسا کہ آپ کپڑے اور اپنا اسلحہ بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں یہ گیم کھیلی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہر جگہ سے اس کے منفی اثرات کی شکایات آنے بعد گیم میں ایک اور فیچر متعارف کروایا گیا ہے جس کی مدد سے بتایا جاتا ہے کہ آپ کا سکرین ٹائم بہت زیادہ ہو گیا ہے اس لیے اب گیم کو بند کر دیں لیکن یہ اب یہ کھیلنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے وقت پر بند کرتا ہے یا پھر کھیلتا رہتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button