آہ، آئی اے رحمن: اک دیا اور بجھا، اور بڑھی تاریکی


گذشتہ کئی دہائیوں سے صحافت سے وابستہ اور انسانی حقوق کی سربلندی کے لیے سرگرم ترین بزرگ کارکنوں میں سے ایک ابن عبدالرحمان المعروف آئی اے رحمان کا انتقال نہ صرف پاکستانی صحافت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے بلکہ انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کے لئے بھی ایک ناقابل تلافی صدمہ ہے۔
آئی اے رحمان 12 اپریل 2021 کو لاہور میں 90 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ 1930 میں تقسیم ہند سے قبل انڈیا کے شہر ہریانہ میں پیدا ہونے والے رحمان صاحب تقریباً سات دہائیوں تک صحافت سے منسلک رہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکریٹری جنرل اور اعزازی ترجمان، آئی اے رحمان پاکستان ٹائمز کے مدیر بھی رہے۔ ان کے بھانجے ڈاکٹر توصیف احمد نے بتایا کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت وہ علی گڑھ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے اور فسادات میں ان کے کئی رشتے دار بھی مارے گئے لیکن کیونکہ وہ خود علی گڑھ میں تھے اس لیے بچ گئے۔
آئی اے رحمان کے والد وکیل تھے۔ تقسیم کے بعد وہ انڈیا سے نقل مکانی کرکے ملتان میں شجاع آباد آ گئے اور وہاں سے لاہور منتقل ہوگئے۔ آئی اے رحمان نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی فزکس کیا اور اس کے بعد سی ایس ایس کا امتحان دیا جس میں وہ کامیاب بھی ہوگئے لیکن کوٹہ میں نشست نہ ہونے کی وجہ سے انکی تقررری نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر توصیف بتاتے ہیں کہ بعد میں آئی اے رحمان اس بات پر خوشی کا بھی اظہار کرتے تھے کہ اچھا ہوا کہ وہ سرکاری افسر نہ بنے۔
آئی اے رحمان علی گڑھ میں زمانے طالب علمی سے ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوچکے تھے اور وہ زندگی کے آخری ایام تک مارکسٹ رہے۔ سی ایس ایس کرنے کے بعد انھوں نے نامور ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کی زیر ادارت پاکستان ٹائمز میں عملی صحافت کا آغاز کیا جہاں انھیں فلمی صفحے کا انچارج بنایا گیا۔ بعد میں وہ اسی اخبار میں اسٹنٹ ایڈیٹر اور چیف ایڈیٹر بھی رہے۔
آئی رحمان نے صحافتی دور میں کئی اتار چڑھاؤ کا سامنے کیا۔ وہ پنجاب یونین آف جرنلسٹس میں بھی سرگرم رہے۔ 1970 میں جب صحافت سے تعلق نہ رکھنے والوں کو ویج ایوارڈ میں شامل کرنے کے لیے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ یعنی پی ایف یو جے نے 12 روز ہڑتال کی تو وہ اس میں متحرک رہے جس کی وجہ سے انھیں پاکستان ٹائمز سے فارغ کردیا گیا۔
بعد میں انھوں نے عبداللہ ملک کے ساتھ ‘آزاد’ اخبار نکالا۔ آئی اے رحمان 1967 میں قیام پانے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے حمایتی تھے لیکن اس وقت کے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے بعد انھوں نے عوامی لیگ کی حمایت کی جس کی وجہ سے آزاد اخبار بند کردیا گیا۔ اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے حکومت میں آنے کے بعد انھیں روزنامہ پاکستان ٹائمز میں بحال کردیا گیا۔ آئی اے رحمان پاکستان میں فلموں کے نگراں ادارے نیف ڈیک کے انگریزی رسالے کے بھی ایڈیٹر رہے تاہم بعد میں جب جنرل ضیاالحق نے اقتدار سنبھالا تو اس رسالے کو بند کر دیا گیا۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے آئی اے رحمان نے طویل عرصے تک ایچ آر سی پی کی بھی نمائندگی کی اور ان کی خدمات کے نتیجے میں انھیں متعدد بین الاقومی اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں 2003 میں نیورمبرگ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایوارڈ، 2004 میں رامون ماگسئسے اور کئی دیگر ایوارڈز شامل ہیں۔ تین برس قبل لندن سکول آف اکنامکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں آئی اے رحمان نے بتایا کہ ان کے والد ایک مذہبی انسان تھے لیکن ساتھ میں وہ سیکولر بھی تھے۔ ’میری زندگی میں مذہبی تعصب کبھی بھی نہیں تھا۔ مجھے تو ہندو اور مسلمان کا فرق بھی نہیں پتا تھا تاوقتیکہ میں ہائی سکول نہیں گیا۔‘
اسی انٹرویو میں اپنے انسانی حقوق کے سفر کا آغاز کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان کی پرورش ایک ایسے گھرانے میں ہوئی تھی جہاں محنت کشوں کے حقوق پر یقین رکھا جاتا تھا۔
آئی اے رحمان کی وفات کی خبر آنے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر صحافی، سیاستدان اور انسانی حقوق سے منسلک کارکنوں کی بڑی تعداد نے انھیں خراج تحسین پیش کیا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انسانی حقوق کے کارکن علی دیان حسن نے آئی اے رحمان کی وفات کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’دور اندیش رہنما‘ تھے اور وہ ان کے لیے ایک رہنما تھے۔ آئی اے رحمان کی وفات پر ایچ آر سی پی نے اپنی تعزیتی ٹویٹ میں لکھا کہ ان کی ایمانداری، ان کا ضمیر اور ان کے جذبہ ہمدردی کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔
نیو یارک ٹائمز سے منسلک اور پاکستان میں طویل عرصے تک صحافت کرنے والے ڈیکلن والش نے بھی اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ آئی اے رحمان کی پاکستان کی ناکامیوں سے ہونے والی مایوسیاں اپنی جگہ لیکن انھیں اپنے ملک سے بے انتہا محبت تھی۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔‘ سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ آئی اے رحمان پاکستان میں ترقی پسند عناصر کے لیے مشعل راہ تھے۔ آئی اے رحمان کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرنے والی وکیل عاصمہ جہانگیر، جن کی تین برس قبل وفات ہو گئی تھی، کی بیٹی منیزے جہانگیر نے کہا کہ وہ اس خبر پر بے حد دلبرداشتہ ہیں اور انکی وفات پاکستانی صحافت اور انسانی حقوق پر کام کرنے والوں کے لیے بہت ہی افسوسناک ہے۔ ‘آج ہم سب ان کی موت سے یتیم ہو گئے ہیں۔’
وہ روزنامہ ڈان میں باقاعدگی سے ہفتہ وار کالم لکھتے تھے اور آٹھ اپریل کو انھوں نے اپنا آخری کالم تحریر کیا تھا۔
آئی اے رحمان کی وفات پر انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ عملی صحافت سے ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے انسانی حقوق کی باگ دوڑ سنبھالی اور نہ صرف تنظیم کی ساکھ کو بہتر بنایا بلکہ انسانی حقوق کی اقدار کو فروغ دیا۔ حنا جیلانی نے کہا کہ وہ کئی انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے سرپرست کا درجہ رکھتے تھے اور یہ اس ادارے کے لیے قابل فخر بات ہے کہ وہ اس سے منسلک رہے۔ انکا کہنا تھا کہ رحمان صاحب اور ہماری جدوجہد اور ترقی پسند سوچ مشترکہ تھی۔ وہ ان لوگوں میں شامل رہے جنہوں نے ترقی پسند سوچ کے فروغ کی کوششیں کیں اور اس کے نتائج بھی بھگتے۔ میرا اور عاصمہ جہانگیر کا آئی اے رحمان کے ساتھ 40 سال کا ساتھ رہا۔ ہم نے دہائیوں اکٹھے کیا۔ میری نظر میں انسانی حقوق اور صحافت میں اس وقت ایسی کوئی شخصیت نہیں جو یہ خلا پر کرسکے۔’
معروف وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ‘آئی اے رحمان انقلابی شاعر فیض احمد فیض کے ساتھی تھے اور عاصمہ جہانگیر کے رہنما تھے۔ وہ ہم سب کا ضمیر تھے۔’
پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے بھی ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ رحمان صاھب نے صحافت اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی ایک نسل کی تربیت و رہنمائی کی ہے اور ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
سینئیر صحافی سہیل وڑائچ نے آئ اے رحمان کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس بات کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کتنی عظیم شخصیت تھے اور پاکستانی صحافت اور انسانی حقوق پر کام کرنے والوں کے لیے وہ کیا معنی رکھتے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button