آیات قرآنی کی غلط ادائیگی،متنازع اینکرعامر لیاقت تنقید کی زد میں

متنازع ٹیلی ویژن اینکر اور تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹرعامر لیاقت حسین ایک ٹی وی پروگرام کے دوران قرآنی آیات کی غلط ادائیگی کی وجہ سے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آگئے۔ ان کے ناقدین تنقید میں اس حد تک آگے نکل گئے کہ ان کی بیگمات کے بارے میں بھی نازیبا تبصرے کردیے۔ ان تبصروں کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا کہ وہ روز محشر ایسے تمام افراد سے جواب لیں گے جنہوں نے ان کے گھر کی خواتین پر رقیق حملے کیے۔
عامر لیاقت نے ایک ٹی وی پروگرام میں ایک قرآنی آیت غلط پڑھنے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہاں میں نے غلطی کی تھی لیکن پھر اسکی تصحیح بھی کر دی تھی، انہوں نے کہا کہ میں قرآن پڑھنا جانتا ہوں الحمد للہ، من اور فی کی ادائیگی میں غلطی ہوگئی تھی لیکن فوراً ہی احساس ہوگیا اور تصیح کر لی تھی۔
اس سے پہلےعامر لیاقت کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے آیات مقدسہ کو ٹھیک سے ادا نہیں کیا۔ عامر لیاقت نے ناقدین کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ٹوئیٹر پر ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا، ناقدین سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ان کی اندھی مخالفت میں اگر بینائی آ گئی ہو تو وہ یہ کلپ دیکھ لیں جس میں وہ غلطی کی تصحیح کر گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ الحمدللہ قرآن پڑھنا جانتے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے ٹوئیٹر پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ ان کا عورت مارچ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اپنے پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں اور بیویوں سے متعلق مارچ کو لے کر نازیبا باتیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی فیملی سے متعلق جو کچھ بھی کہا گیا ہے وہ اسے بطور امانت اپنے پاس محفوظ رکھیں گے اور قیامت کے روز یہ امانت اللہ کے سامنے لوٹائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تنکا نہیں ہیں جو پانی کے ساتھ بہہ جائے، بلکہ وہ تیراک ہیں جو راستہ خود بناتے ہیں۔
ٹوئٹر پر جاری ایک اور پیغام میں عامر لیاقت نے صارفین سے درخواست کہ معاشرے کو مزید تقسیم مت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری والدہ، بیویوں اوربچوں کو گالیاں دینے سے اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ رسول اللہﷺ کے بتائے راستے پر چل رہے ہیں تو ضرور دیجیے۔ انہوں نے کہا کہ میں تو یہاں بھی اپنی رائے نہیں تھوپوں گا کہ آپ غلط کر رہے ہیں، کیوںکہ فیصلہ پروردگار نے کرنا ہے، میں نے یا آپ نے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کفار خواتین سے بھی اعلیٰ اخلاق کے ساتھ کلام فرماتے رہے، مسجد نبویﷺ میں حاجت کرنے والے کو بٹھا کر سمجھاتے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ معاشرے میں کوئی غلط ہے تو اس کے جسم اور اس کی ساخت پر آواز کسنے کی بجائے اسے قائل کیجیے۔ اگر قائل نہیں ہوتا تو اپنی ساکھ خراب مت کیجیے۔
واضح رہے کہ ’میرا جسم میری مرضی‘ کی مہم کو لے کر اس وقت سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے جب کہ اس معاملے پر معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان کی خاتون تجزیہ کار ماروی سرمد کے ساتھ غیر اخلاقی گفتگو کے بعد معاملہ سنگین صورت حال اختیار کرگیا ہے۔
میرا جسم میری مرضی‘ مہم کے حوالے سے لوگوں کی متفرق آراء دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ اس سے قبل رکن اسمبلی عامر لیاقت نے کہا تھا کہ خلیل الرحمان قمر کا ذہنی توازن درست نہیں ہے، ان کا علاج کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرامہ نویس کو معاشرے میں تنہا رکھا جائے، اللہ تعالیٰ نے ہرچیز خوبصورت بنائی ہے اور کسی کو بدصورت کہنے کا آپ کو حق نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیل الرحمان قمر کی گفتگو نے تمام مردوں کے سرشرم سے جھکا دئیے ہیں، میں ان کو لکھاری نہیں مانتا، ان کے اندر تکبر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، انہوں نے علامہ اقبال سے متعلق کہا تھا کہ انہیں اپنے شعروں کے لیے اصلاح کی ضرورت پڑتی ہو گی لیکن مجھے نہیں پڑتی۔ عامر لیاقت نے کہا کہ جو شخص مرزا غالب اور ڈاکٹر علامہ اقبال کو نہ مانتا ہو، اپنی ذات میں مگن ہو اسے علاج کی ضرورت ہے۔ جبکہ نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے معروف مصنف خلیل الرحمان قمر کا کہنا ہے کہ اگر کوئی یہ نعرہ لگاتا ہے کہ ’میرا جسم میری مرضی‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جس باپ نے آپ کو پالا اس کا آپ پر کوئی حق نہیں ہے، جس بھائی نے آپ کی حفاظت کی اس کا آپ پر کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا سوشل سیٹ اپ ایسا نہیں ہے، میرے ہاں ادب سکھانے کے معاملے بھائی، باپ اور ماں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button