آئی ایم ایف نے سرکاری پینشن سسٹم کی مخالفت کیوں کر دی؟

ائی ایم ایف نے سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد اربوں روپے پینشن کی مد میں دینے کو صریحا عیاشی قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پالیسی پر فوری نظر ثانی کی جائے اور ایک پینشن فنڈ قائم کیا جائے تاک ملازمیں سے رقم کی کٹوتی اور اسے انویسٹ کرنے کا عمل شروع ہو سکے۔ آئی ایم ایف کا موقف یے کہ پاکستان میں پینشن کا موجودہ نظام طویل عرصے تک چلنے کے لیے پائیدار نہیں کیونکہ پینشن کی ادائیگی کے لیے بھی قرض حاصل کیا جاتا ہے۔ آئی ایم کا موقف یے کہ مالی سال 2024 میں قومی پینشن کی لاگت 20 کھرب روپے تک پہنچ جائے گی لہازا اگر اس نظام میں اصلاح نہ کی گئی تو یہ لاگت اگلے 10 سالوں میں 100 کھرب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
یاد رہے کہ پینشن کی لاگت 03-2002 میں 25 ارب روپے تھی جو صرف 20 سالوں میں 15 کھرب روپے سے زائد تک پہنچ گئی ہے۔ پینشن کی مد میں بڑا حصہ افواج پاکستان کے ریٹائیرڈ ملازمین کو جاتا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جس ملک کی سود کی ادائیگی ٹیکس آمدن سے بڑھ جائے، اور اس کے سرکاری ملازمین پینشن جیسی عیاشی سے لطف اندوز ہو رہے ہوں تو آئی ایم ایف کا اعتراض کرنا تو بنتا ہے کیونکہ یہ عیاشی مزید قرض لے کر کی جائے گی۔ انکا کہنا یے کہ پینشن کے نام پر سرکاری ملازمین کو گاڑیاں، سکیورٹی گارڈز، گھر یا گھر کے کرائے تک کی سہولتیں بھی دی جاتی ہیں۔ لہازا جب تک پاکستان معاشی بحران سے نہیں نکل جاتا، ان سہولتوں کو محدود کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو جولائی 2024 سے نیا پینشن فنڈ قائم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے لیکن اس وعدے پر کس حد تک عمل ہوتا ہے، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکار اس حوالے سے کیا اقدامات کر سکتی ہے اور کس طرح اس جال میں سے نکلا جا سکتا ہے۔ سابق مشیر خزانہ ڈاکٹر فرخ سلیم کہتے ہیں کہ ’بین الاقوامی اداروں نے ماضی میں کئی مرتبہ پاکستان کے کمزور پینشن نظام کی نشاندہی کی لیکن پاکستانی حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ انکے مطابق زیادہ تر سرکاری عہدوں پر غیر فنڈ شدہ پینشن شامل ہیں اور موجودہ ملازمین کی پینشن کی مالی اعانت ٹیکس آمدنی سے کی جاتی ہے۔دوسری جانب نجی شعبے کے بعض کارکنوں اور مزدور یونینوں کے اراکین کے لیے فنڈڈ پینشن دستیاب ہیں، تاہم آبادی کا ایک اہم حصہ پینشن کی کوریج سے محروم ہے اور ان کا مکمل انحصار اپنے خاندان کی سپورٹ سسٹم پر ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پینشن فنڈ کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں لیکن پاکستان کے لیے درد سر بن چکا ہے۔ اس کی وجہ منصوبہ بندی کی کمی ہے۔ اول تو ہماری حکومت ملازمین کی ماہانہ آمدن سے پینشن فنڈ کی کٹوتی نہیں کرتی، اگر کہیں کٹوتی کرتی بھی ہے تو اس سے کسی ایسے منصوبے میں سرمایہ کاری نہیں کرتی جس سے آمدن پیدا ہو اور خود کار نظام کے تحت ماہانہ پینشن سے زیادہ منافع پیدا ہوتا رہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے کاٹی گئی رقم کو پوری دنیا کے بڑے اور منافع بخش منصوبوں پر خرچ کرتے ہیں۔ پینشن ریٹائرڈ ملازمین کو مالی طور پر مستحکم رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے لیکن اسے فنڈڈ ہونا چاہیے۔ ترقی یافتہ ممالک میں فنڈڈ پینشن کے ذریعے ریئل سٹیٹ، شاپنگ مالز، زراعت، تجارت، سٹاک ایکسچینج، بینکس وغیرہ میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور پینشن دینے کے بعد بھی رقم بچ جاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسی کوئی روایت موجود نہیں۔ لہازا یہاں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ سرکار پر پینشن فنڈ بند کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے پینشن اخراجات ترقیاتی، تعلیم اور صحت کے بجٹ سے بھی زیادہ ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 43 پینشن فنڈز کام کر رہے ہیں جن میں تقریباً 61 ارب روپے سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ان میں بڑا حصہ خیبرپختونخوا کا ہے۔خیبرپختونخوا میں پینشن فنڈ دو سال سے کام کر رہا ہے۔ وہاں 21 پروگرامز شروع کیے جا چکے ہیں۔انڈیا نے 2004 میں پینشن فنڈ قائم کیا تھا اور اسی وجہ سے اسکا نظام پینشن کے معاملات میں خودمختار ہے۔ لہذا ائی ایم ایف کی تجویز یے کہ پنجاب، سندھ ، بلوچستان میں بھی اسی طرز پر پینشن فنڈز قائم کیے جائیں۔ معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی آئی ایم ایف کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں جبکہ اسکا سوال بہت سادہ ہے کہ اگر تم پیسے لیتے رہو گے تو واپس کیسے کرو گے؟
