ابراج والے عارف نقوی پاکستانی وزیر خزانہ کیوں نہ بن سکے؟

ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی پر کتاب لکھنے والے پروفیسر برائن بریواٹی نے انکشاف کیا ہے کہ اگر ابراج گروپ کے الیکٹرک کو شنگھائی الیکٹرک کمپنی کے ہاتھوں فروخت کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو ممکنہ طور پر عارف نقوی وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں وزیر خزانہ ہوتے۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ابراج گروپ اور چینی کمپنی کی ڈیل ناکام بناتے ہوئے ہوئے انہیں برطانیہ میں گرفتار کروا دیا جس کے باعث عارف نقوی وزیر خزانہ نہ بن پائے۔ ان دنوں نقوی برطانیہ میں نظر بند ہیں جبکہ امریکہ ان کی حوالگی کے لیے قانونی جنگ لڑ رہا ہے۔
پروفیسر برائن بریواٹی کے مطابق 2019 میں عارف نقوی کی گرفتاری سے قبل وزیر اعظم عمران خان اور شنگھائی الیکٹرک کمپنی کے سربراہ کے مابین ایک ملاقات ہوئی جس میں عارف نقوی بھی شریک تھے۔ پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ نقوی عمران خان کے قریبی دوست ہیں۔ یاد رہے کہ جب 2019 میں عارف نقوی کو برطانوی ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تو اس وقت بھی عارف نقوی نے برطانوی حکام سے کہا تھا کہ وہ ان کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کریں کیونکہ وہ ان کے ذاتی دوست ہیں۔
عارف نقوی نے پروفیسر بریواٹی کو انٹرویو میں بتایا کہ اگر وہ 550 ملین ڈالر کے عوض کے کراچی الیکٹرک کا سودا شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو آج وہ عمران خان کی کابینہ میں وزیرخزانہ کی کرسی پر بیٹھے ہوتے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ان کا سارا منصوبہ ناکام کردیا اور آج وہ اپنے لئے انصاف کے منتظر ہیں۔ پروفیسر بریواٹی کہتے ہیں کہ عارف نقوی کا سب سے بڑا جرم ایشیائی یا پاکستانی ہونا تھا۔ ان کے بقول کسی زمانے میں عارف نقوی عالمی معاشی دنیا کی آنکھوں کا تارا ہوتے تھے۔ انہوں نے اس قدر بلند پرواز کی کہ سورج کے قریب پہنچ گئے اور پھر اسی سورج نے انہیں جھلسا کر رکھ دیا۔
امریکی ریسرچر نے اپنی آنے والی کتاب میں دعوی کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ایما پر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ابراج گروپ کو مشہور زمانہ فراڈ سکیم پونزی سے تشبیہ دے کر اس کا امیج بری طرح متاثر کیا۔ بعد ازاں ایک منصوبے کے تحت ابراج گروپ اور عارف نقوی کے خلاف امریکی میڈیا نے ایک منظم مہم چلائی جس کی دیکھا دیکھی دنیا بھر کا میڈیا حتی کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ بھی ابراج گروپ اور عارف نقوی کے خلاف بغیر کسی تحقیق کے رپورٹنگ کرنے لگے۔ پروفیسر بیوٹی اپنی تحقیق سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عارف نقوی کا بڑا قصور یہ تھا کہ وہ براعظم ایشیا سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھا۔
پروفیسر بریواٹی کے بقول عارف نقوی کے ملکیتی ابراج گروپ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ یہ گروپ چینی کمپنیوں کے ساتھ بڑے سودے کرنے جارہا تھا جبکہ ٹرمپ کی سربراہی میں امریکی انتظامیہ چین کو معاشی میدان میں پچھاڑنے کے لیے ہر جگہ گھات لگا کر بیٹھی ہوئی تھی۔ ابراج گروپ اور عارف نقوی کے زوال سے متعلق تحقیقاتی کتاب کے مصنف پروفیسر برائن بریواٹی نے اپنے ایک انٹرویو نے بتایا ہے کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ دنیا کا ایک بڑا سرمایہ کار گروپ ڈوب گیا ہے اور اس کا سربراہ عارف نقوی برطانیہ میں ایک گھر میں نظر بند ہے جبکہ امریکہ اس کی حوالگی کے لیے برطانوی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے تو انہیں اس معاملے میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ بریواٹی کہتے ہیں کہ جب میں نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے لیے عارف نقوی سمیت مختلف شخصیات کے انٹرویوز کیے تو ایسے ہوشربا انکشافات ہوئے کہ میں دنگ رہ گیا۔ انکا کہنا تھا کہ ریسرچ کے بعد مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ ابراج گروپ اور عارف نقوی کو زوال کا شکار کرنے میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی میڈیا نے گھناؤنا گٹھ جوڑ کیا اور پھر میڈیا کے ذریعے عارف نقوی کی کردار کشی کرکے ابراج گروپ کو ایک فراڈ ادارہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سارے معاملے میں کسی حکومت یا صحافتی ادارے نے خود تحقیق کرنے کی بجائے امریکی میڈیا کی نقالی کی۔
پروفیسر برائن بریواٹی کہتے ہیں کہ عارف نقوی نے جس انداز سے ابراج گروپ کو کامیابی سے چلایا اور جس طرح غیر معمولی فیصلے لیے، اگر کوئی سفید چمڑی والا ایسا کرتا تو مغربی دنیا اسے ایک ہیرو کا درجہ دیتی، تاہم بدقسمتی سے عارف نقوی کا تعلق پاکستان سے تھا لہذا ان کی کاروباری صلاحیتوں کا اعتراف کرنے کی بجائے انہیں فراڈیا پینٹ کر کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا گیا۔
خیال رہے کہ ماضی کے ایک بڑے عالمی سرمایہ کار ابراج گروپ اور اس کے پاکستانی سربراہ عارف نقوی کے حوالے سے برطانیہ میں چھپنے والی ایک نئی کتاب میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے مخاصمت کے باعث کراچی الیکٹرک کی چینی ادارے شنگھائی الیکٹرک کے ہاتھوں فروخت ہونے سے روکنے کے لیے ابراج گروپ اور عارف نقوی کے خلاف ایک منظم سازش کی۔ امریکی انویسٹرز اور اسوقت کی امریکہ انتظامیہ اور اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مبینہ گٹھ جوڑ کے باعث ابراج گروپ زوال کا شکار ہو گیا۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں میٹروپولیٹن پولیس نے ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی کو سرمایہ کاروں سے دھوکہ دہی کے الزام میں 12 اپریل 2019 کو لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ سے گرفتار کیا تھا۔ ابراج گروپ اور عارف نقوی سے متعلق پروفیسر بریواٹی کی کتاب میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ فنڈز کی خرد برد کا الزام یکسر بے بنیاد ہے کیونکہ عارف نقوی نے برطانیہ کے قانونی ماہرین کے مشورے سے تمام مالیاتی امور انجام دیئے ہیں۔ پروفیسر بریواٹی نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ وال سٹریٹ جرنل دراصل امریکی حکومت کے ایما پر مسلسل ابراج گروپ اور عارف نقوی کے میڈیا ٹرائل میں مصروف ہے۔

 

New Book By British Academic Provides An Objective Account Of Arif Naqvi And The Abraaj Group. To be Published In Pakistan By Vanguard Books
https://www.vanguardbooks.com/ in August 2021. Order online:
add new

Back to top button