ابراج کے عارف نقوی کو صرف پاکستانی ہونے کی سزا ملی

سابق پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کے ساتھ ایک پاکستانی ہونے کی وجہ سے کیا جانے والا سلوک دنیا میں کاروبار کرنے والی دیگر پاکستانی شخصیات کے مستقبل پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گا۔ شاہد خاقان عباسی ان اسٹیک ہولڈرز میں سے ایک تھے، جو ابراج گروپ کی ملکیتی کمپنی کراچی الیکٹرک کی شنگھائی الیکٹرک کمپنی کے ہاتھوں مجوزہ فروخت کو گہری نظر سے دیکھ رہے تھے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اگر ابراج گروپ کو کراچی الیکٹرک کمپنی میں اپنے حصص شنگھائی الیکٹرک کمپنی کو فروخت کرنے کی اجازت مل جاتی تو عارف نقوی آج قید میں نہیں بلکہ آزاد ہوتے اور ابراج گروپ بھی کبھی دیوالیہ نہ ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ عارف نقوی کو پاکستانی ہونے کی سزا دی گئی جو کہ افسوسناک ہے۔
یاد رہے کہ معروف برطانوی مصنف پروفیسر برائن بریویٹی نے اپنی حالیہ کتاب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ عارف نقوی کا ابراج گروپ سابق امریکی صدر ٹرمپ کے عتاب کا نشانہ بنا چونکہ وہ چین کی شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ کراچی الیکٹرک کے اپنے ملکیتی شئیرز کی فروخت کا معاہدہ کرنے جا رہے تھے۔ تاہم سازشی عناصر کی وجہ سے وہ K-Electric میں اپنے 66 فیصد حصص شنگھائی الیکٹرک پاور کمپنی کو فروخت کرنے میں ناکام رہے، جن سے انکو 450 ملین امریکی ڈالرز مل سکتے تھے۔
پروفیسر برائن بریویٹی کی تحقیق کے مطابق یہ ایک ایسا سودا تھا جس کے پاکستان کے لیے کوئی مالی مضمرات نہیں تھے اور یہ سودا پاکستان کے لیے بہت زیادہ منافع بخش تھا۔ اس سارے معاملے میں بظاہر جو کچھ نظر آرہا ہے اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ایسا ہے جو پس پردہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ عارف نقوی کے ساتھ یہ سب کچھ کیسے اور کیوں ہوا اور اس سازش کے پیچھے کون سے لمبے ہاتھ تھے جنہوں نے اربوں ڈالر کے ابراج گروپ کو صرف چار ماہ کے عرصے میں دیوالیہ کر دیا؟
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و نفوذ کے بارے میں امریکیوں میں ناراضی پائی جاتی ہے جس کا اظہار وہ پاک چین سی پیک معاہدے کے سائن ہونے کے بعد سے مسلسل کرتے چلے آئے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ سوال ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں طاقتور لوگوں کے لیے سب کچھ ممکن ہے، عمران خان کا دوست ہونے کے باوجود عارف نقوی کے لیے اپنے کراچی الیکٹرک کے 66 فیصد حصص ایک چینی کمپنی کو بیچنا ناممکن کیسے بنا دیا گیا؟ خیا کیا جاتا ہے کہ ترمپ انتظامیہ نے نہ صرف ابراج کے کراچی الیکٹرک کے سودے کو ناکام بنایا بلکہ انہیں فراڈ کے الزامات پر قید بھی کروا دیا۔ پروفیسر برائن بریویٹی بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ عارف نقوی اور ان کا ابراج گروپ امریکی سازش کا نشانہ بنا۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والی عالمی کاروباری شخصیت اور پرائیویٹ ایکویٹی کمپنی ابراج گروپ کے بانی اور سی ای او عارف نقوی کی گرفتاری نے بیرون ملک کاروبار کرنے والے پاکستانی بزنس مینوں کو بھی خوفزدہ کردیا ہے۔ یاد رہے کہ انکے خلاف یہ کارروائی امریکی سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کی شکایت پر کی گئی تھی۔ عارف نقوی پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے ابراج کے سرمایہ کاروں سے دھوکہ دہی کی۔ تاہم عارف نقوی نے اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور انہیں ایک سازش کے تحت پھنسایا گیا۔
خیال رہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے معروف بزنس مین عارف نقوی کا شمار عالمی کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی ذہانت اور محنت کے بل بوتے پر دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1994میں انہوں نے 50ہزار ڈالر کے ذاتی سرمائے سے دبئی میں کپولا نامی کمپنی قائم کی اور بعد ازاں 2002میں دبئی میں ایکویٹی فرم ابراج کی بنیاد رکھی، جس کے دفاتر پاکستان سمیت دنیا کے 25ممالک میں قائم کئے گئے۔ 16سال کے قلیل عرصے میں ابراج کا شمار دنیا کی بڑی ایکویٹی فرم میں ہونے لگا، جس میں دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری کی۔ 2009میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری کے عمل میں ابراج نے 1.4ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے کے الیکٹرک کے اکثریتی شیئر خرید کر انتظامی اختیارات حاصل کئے اور اِسے ایک منافع بخش ادارہ بنایا۔ عارف نقوی پاکستان کے سب سے بڑے بزنس اسکول انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA)کی مالی معاونت بھی کرتے رہے جبکہ کراچی میں ’’امن فائونڈیشن‘‘ کے نام سے فلاحی ادارہ قائم کیا، جو لوگوں کو جدید ایمبولینسوں کی سہولیات فراہم کرنے کیساتھ ساتھ نوجوانوں کو جدید فنی تعلیم بھی فراہم کر رہا ہے۔
2011 میں حکومت پاکستان نے عارف نقوی کی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ اُنہیں اوسلو بزنس فار پیس ایوارڈ دیا گیا جبکہ وہ اقوام متحدہ کے بعض بورڈز کے رکن اور انٹرپول فائونڈیشن کے ٹرسٹی بھی رہ چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عارف نقوی کو انٹرپول نے ہی امریکہ کی شکایت پر برطانیہ سے گرفتار کیا اور امریکہ، برطانیہ سے اُن کی حوالگی کا مطالبہ کررہا ہے۔
عارف نقوی نے سرمایہ کاری کیلئے ایسے ممالک کو اپنا بزنس ماڈل بنایا جنہیں مغربی دنیا میں ایمرجنگ مارکیٹ یا بڑھتی ہوئی معیشت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ عارف نقوی کے بقول ایمرجنگ مارکیٹس کی صحت اور خوراک کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری اُن معاشروں کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اُن کا موقف ہے کہ مغربی سرمایہ کار ایمرجنگ مارکیٹ کو خطرناک قرار دے کر اور اُن ممالک میں سرمایہ کاری نہ کر کے ناانصافی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ شاید امریکہ اور یورپ کو ایک مسلمان، جس کا تعلق پاکستان سے تھا، کی یہ حکمت عملی پسند نہ آئی اور یہی ناپندیدگی ابراج اور اس کے سربراہ کے زوال کا باعث بنی۔ عارف نقوی پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ اُنہوں نے عالمی بینک اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن کی 200ملین ڈالر کی رقم جو ہیلتھ کیئر منصوبوں کیلئے فراہم کی گئی تھی، اسے اس مقصد کے لیے خرچ نہیں کی۔ مغربی طاقتوں کے اس منفی پروپیگنڈے اور بداعتمادی نے ابراج کی ساکھ کو شدید متاثر کیا۔ اس طرح عارف نقوی کی 16سالہ سخت محنت و جدوجہد کے ثمر ابراج جس کی سرمایہ کاری ایک وقت میں 17ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، کے دیوالیہ ہونے میں صرف چار ماہ کا عرصہ لگا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ عارف نقوی وہ پہلے پاکستانی بزنس مین نہیں ہیں جنہیں مغرب کی نفرت کا شکار ہو کر دیوالیہ ہونا پڑا۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ معروف بینکر اور بی سی سی آئی کے مالک آغا حسن عابدی اور عارف نقوی میں ایک بات مشترک تھی کہ دونوں پاکستانی تھے اور اُنہوں نے عالمی سطح پر بینکنگ وسرمایہ کاری میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ کچھ عرصہ پہلے تک عارف نقوی کی کہانی ایک ایسے پاکستانی کی کہانی تھی جو اپنی ذہانت اور محنت کے بل بوتے پر دنیا کے ارب پتیوں میں شمار ہونے لگے تھے اور یورپ وامریکہ کی سرمایہ کار کمپنیوں کیلئے خطرہ بن گئے تھے مگر پھر آغا حسن عابدی کے پائے کے عارف نقوی کو گرفتار کر کے انہیں پاکستانی بزنس مینوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ یہ فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا کہ عارف نقوی پر لگائے گئے الزامات میں کتنی صداقت ہے مگر پاکستان مخالف مغربی طاقتوں کا یہ پیغام واضح ہے کہ اگر کسی پاکستانی نے اپنی حد اور قد سے بڑھنے اور امریکی و مغربی اداروں کیلئے خطرہ بننے کی کوشش کی تو اُس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا، جو آغا حسن عابدی اور عارف نقوی کے ساتھ کیا گیا۔
